میرے باپ کے نام کا خانہ خالی ہے (1)


saleem malikانسانی بچے کو صرف زندہ رہنے اور جسمانی طور پر پروان چڑھنے کے لئے دنیا کی ہر جاندار مخلوق کے بچوں سے کہیں زیادہ اور لمبے عرصے کی انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسانی بچہ بے بس ہوتا ہے وہ خوراک، صفائی ستھرائی، نامساعد موسمی حالات اور دوسرے بیرونی خطرات سے اپنا تحفظ نہیں کر سکتا اسے بیرونی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ اس کی زندگی ختم ہو سکتی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس دنیا میں پیدا ہونے والےبچوں کی بھاری اکثریت کو والدین اور خاندان جیسی نعمت میسر ہوتی ہے اور انہی کی محبت اور مدد سے بچے کی زندگی محفوظ طریقے سے شروع ہو جاتی ہے۔

ہاں البتہ سب معصوم بچے اتنے خوش قسمت نہیں ہوتے کہ پیدائش کے وقت انہین اس دنیا میں خوش آمدید کہنے والا کوئی موجود ہو۔ یہ بدقسمتی بچوں کو اپنی بے بس ماں سے ملتی ہے۔ ہمارے جیسے معاشرے جہاں انسانوں کے درمیان جنس کی بنیاد پر تفریق بہت شدید اور عام ہے وہاں مائیں بہت مجبور اور بے بس ہو سکتی ہیں۔ ماں کی ایک بے بسی تو یہ ہو سکتی ہے کہ وہ ماں بننے کا روائیتی حق ملنے سے پہلے اس پروسیس میں چلی جائے یا دھکیل دی جائے۔ ایسے میں عورت صرف اسی صورت میں زندہ رہ سکتی ہے کہ اس کے حاملہ ہونے کی خبر کسی کو نہ ہونے پائے۔ دوسری صورت یہ ہوتی کہ ماں کے پاس بچہ جننے کا معاشرتی لائسنس تو ہے مگر وہ اتنی غریب اور کسمپرسی کی حالت میں ہے کہ اس بچے کو پالنے پوسنے کی سکت نہیں رکھتی لہذا یہ بچہ جب پیدا ہو گا تو کوڑے کے ڈھیر یا پھر ایدھی صاحب کے پنگھوڑے سے ملے گا اور ماں غائب ہو گی۔ ماں پر جو بھی گزرتی ہو گی اس کا تذکرہ تو پھر کبھی مگر یہ بچے معاشرے، حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔

ہماری حکومت اور ریاست نے ابھی تک یہ ذمہ داری بہت عمدگی سے نہیں نبھائی۔ جہاں تک بن پاتا ہے کچھ فلاحی اداروں نے ایسے بچوں کی پرورش کا ذمہ لیا ہوا ہے ان بچوں کو جان کا تحفظ، خوراک، لباس، رہائش، صحت کی سہولت حتیٰ کہ تعلیم بھی ملتی ہے مگر یہ کافی نہیں ہے۔ ان بچوں کو باقی حقوق حاصل کرنے کے لئے پاکستان کی شہریت چاہیئے ہوتی ہے جو کہ پیدائش کے اندراج سے شروع ہوتی ہے اور اس کا انتظام صرف حکومت اور ریاست ہی کر سکتے ہیں۔ ان بچوں کے پاس موجودہ نظام کو درکار معلومات مثلاّ والدین کے نام، گھر کا پتہ اور والدین کا مذہب، وغیرہ نہیں ہوتیں۔ لہذا وہ حکومت کے بنیادی گوشوارے مکمل کر کے جمع کرانے سے قاصر ہوتے ہیں اور ان گوشواروں کو مکمل کیے بغیر بچوں کو شہریت کا حق نہین مل سکتا۔ لہذا ان بچوں کو شہریت کا بنیادی حق دینے کے لئے حکومت کو کچھ خاص بندوبست کرنے کی ضرورت ہے۔

پچھلے چند برسوں سے یہ بحث چھڑی ہوئی ہے اور حکومت اس سلسلے میں قانون سازی کرنا چاہتی ہے البتہ مذہبی حلقے خاص طور پر کونسل آف اسلامک آئیڈیولوجی ہمیشہ کی ظرح اس کام کو پیچیدہ بنا رہی ہے اور ہزاروں بچے جو ملک کے مختلف فلاحی اداروں کے تعاون سے پل تو گئے ہیں مگر شہریت جیسے حق سے محروم ہیں اور قانون سازی کے انتظار میں ہیں۔

یہاں ایک اور نازک نقطہ قابل دکر ہے۔ یہ بچے اپنے ماتھے پر ایک کلنک (سٹگما) لئے پھرتے ہیں کہ انہیں اپنے باپ کا علم نہیں۔ اس کلنک سے جان چھڑانے کا ان کے پاس کوئی چارا نہیں ہوتا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں یہ کہتی ہیں ان کو شہریت اور اس کے کاغذات مہیا کرتے ہوئے اس کلنک سے بھی ان کی جان چھڑانی ضروری ہے یعنی ان بچوں کی شہریت کے کاغذات ایسے بنائے جائیں کہ اسے دیکھنے والا انہیں ایک عام شہری گردانے اور بن باپ کے ہونا اور “یتیم خانے” میں پلنا جیسے مکروہ حقائق ان کی زندگی سے کسی حد تک دھل جائیں۔

اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے بہترین تجویز یہ ہے کہ ان بچوں کو والد اور والدہ کے فرضی نام دئے جائیں مگر وہ نام بالکل ہمارے معاشرے کے عام نام ہونے چاہئیں تاکہ عام آدمی ان کے کاغذات سے ان ناموں کے فرضی ہونے کا اندازہ نہ لگا سکے اور بچوں کا راز راز ہی رہے۔

کونسل آف اسلامک آئیڈیولوجی کی یہ تجویز کہ ان بچوں کے حوالے سے باپ کے نام کی جگہ خالی چھوڑ دی جائے بالکل نامناسب ہے۔ پرانی تجاویز کہ باپ کی جگہ ایدھی صاحب یا صدر پاکستان کا نام لکھ دیا جائے وہ بھی مناسب نہیں ہے۔ اس سے یہ بچے شرم کے مارے اپنے شہریت کے پیپرز کسی کے سامنے پیش نہیں کر پائیں گے۔

سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت نادرا (NADRA) اسی بات پر عمل کر رہا ہے ان بچوں کو باپ کا فرضی نام دے دیا جاتا ہے اور “یتیم خانے” کی گواہی سے بچے کی بنیادی رجسٹریشن (اور شناخت) کسی حد تک ممکن ہو گئی ہے۔ مگر یہ شناخت نامکمل اور ناکافی ہے مثلاً بچوں کو بورڈ کے امتحانات میں بیٹھنے میں مشکلات ہوتی ہیں اور انہیں پاسپورٹ بھی نہیں جاری ہو رہے۔ علاوہ ازیں وہ بچے جو کسی “یتیم خانے” میں نہیں ہیں انکی بھی رجسٹریشن نہیں ہو پاتی۔ ان خامیوں کو ایڈریس کرنے کے لئے ایک باقاعدہ قانون کی ضرورت ہے۔

اس موضوع پر باقاعدہ قانون بنانے کے لئے ایک مضبوط آواز سینیٹر ڈاکٹر کریم خواجہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محترمہ بےنظیر بھٹو نے خود انہیں یہ ذمہ داری سونپی تھی۔ سینیٹر خواجہ سینٹ کی قانون اور انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کے ممبر بھی ہیں انہوں نے ایک بل ڈرافٹ کیا ہے جو کہ آج کل قانون اور انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کے پاس ہے۔ یہ ایک خوش آئند امر ہے کہ قانون اور انصاف کی پارلیمانی کمیٹی اپنے چئرمین سینیٹر جناب جاوید عناسی صاحب کی قیادت میں اس بل کو مزید بہتر بنانے اور قانون کا درجہ دلانے کے لئے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔

پارلیمانی کمیٹی نے بل پر ایک مشاورت کا اہتمام کیا جس میں صوبائی حکومتوں، کونسل آف اسلامک آئیڈیولوجی، نادرا اور سول سوسائیٹی کے نمائندوں نے شرکت کی اور اپنی تجاویز دیں۔ تمام لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ قانون جلدی پاس ہونا چاہیے اور قانون ایسا ہو کہ ان بچوں کو شہریت کے تمام حقوق ملنے کے ساتھ ساتھ انکی رازداری اور عزت نفس بھی قائم رہے تاکہ وہ کلنک سے بھی چھٹکارا پا سکیں۔ اور اس قانون کا اطلاق ان بچون پر بھی ہونا چاہیے جو “یتیم خانوں” میں نہین رہتے بلکہ اپنے ان (فوسٹر) والدین کے ساتھ گھروں میں رہتے ہیں جنہوں نے انہیں اپنے بچوں کی طرح پالا ہے۔ اسلامک آئیڈیولوجی کونسل کو البتہ اس بات پر اعتراض ہے کہ ان بچوں کو فرضی باپ کا نام دیا جائے۔ ان کی تجویز ہے کہ ان بچوں کے والد کے نام کا خانہ خالی رکھا جائے۔

اس قانون اور اس کے اطلاق سے ان بچوں کے جزوی مسائل حل ہوں گے اس سلسلے میں بنیادی وجوہات (root causes) کو ایڈریس کرنا بہت اہم ہے تاکہ ایسے بچوں کی تعداد کم سے کم ہو سکے۔ اہم ترین اور قابل توجہ معاملہ جنسی اور تولیدی صحت کی تعلیم اور سہولیات ہر عورت اور لڑکی تک پہنچانا ہے اور ان کی بچہ دانی کی ملکیت ان کو واپس کرنا ہے تاکہ وہ حاملہ صرف اس وقت ہوں جب وہ خود چاہیں اور انہیں کسی دیکھی یا ان دیکھی مجبوری کا سامنا نہ ہو۔ اور والدیں کے بغیر بچوں کو “یتیم خانوں” میں نہ رہنا پڑے

(جاری ہے)

 


Comments

FB Login Required - comments

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 59 posts and counting.See all posts by salim-malik