پھانسی دینے اور قید کرنے کی روایت بدلی جائے


ملک کے حالیہ انتخابات کے بعد مرکز اور پنجاب میں حکومتیں بنانے کے معاملہ پر ہی غیر یقینی صورت حال موجود نہیں ہے بلکہ یہ بات بھی غیر واضح ہے کہ مستقبل میں ملک کو کس طرح چلانا مقصود ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف انتخابات سے پہلے اور بعد میں نواز شریف کے باغیانہ اور جمہوریت پسند نعرے سے گریز کی پالیسی اپنانے کے باوجود اتنی سیاسی طاقت حاصل نہیں کرسکے کہ وہ پنجاب میں حکومت بنا سکیں۔ تاہم وہ اپنی کوششیں ترک کرنے اور سیاسی جوڑ توڑ سے گریز کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ عمران خان اور تحریک انصاف کو انتخاب میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں عام طور سے اس خیال کی تائید کی جارہی ہے کہ تیسری اور نئی سیاسی قوت کو حکمرانی کرنے اور کارکردگی دکھانے کا موقع ملنا چاہئے۔ تحریک انصاف کو اگرچہ قومی اسمبلی کے علاوہ پنجاب اسمبلی میں بھی حامی ارکان جمع کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن ملک میں شریف خاندان کی رہنمائی میں مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کے برعکس عمران خان کی سربراہی میں ابھرنے والی سیاسی قوت کا خیر مقدم کرنے کا مزاج پیدا ہؤا ہے۔ تاہم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) اس قومی رجحان اور سوچ کو سمجھنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں اس زمینی حقیقت کو قبول کرنے میں بھی مشکل پیش آ رہی ہے۔

اس کے برعکس پیپلز پارٹی نے اپنے آپشبز واضح کئے ہیں اور اس کی قیادت ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت سیاسی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے اقدام کر رہی ہے۔ یہاں یہ بیان کرنا اور جان لینا اہم ہے کہ تحریک انصاف کو اقتدار میں آنے اور حکومت کا حق دینے کی سوچ صرف اس پارٹی کے حامیوں یا ووٹروں تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ عام پاکستانی اور دوسری بڑی پارٹیوں کو ووٹ دینے والے لوگ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو حکومت کرنے کا موقع ملنا چاہئے تاکہ وہ اپنے اعلانات کے مطابق ملک کو درپیش حالات تبدیل کرنے کا وعدہ پورے کرنے کی کوشش کرکے دیکھ لیں۔ یہ ووٹر دوبارہ انتخاب کی صورت میں ہو سکتا ہے پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (ن) کو ہی ووٹ دیں لیکن اس وقت عمران خان کے حق حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

پیپلز پارٹی نے شروع سے ہی اس صورت حال کو سمجھتے ہوئے ایک متوازن سیاسی رویہ اختیار کیا ہے۔ پارٹی نے انتخاب کے فوری بعد مولانا فضل الرحمان کی طرف سے تمام پارٹیوں کے اجلاس میں شرکت سے گریز کیا تھا تاہم اس کی طرف دھاندلی کا الزام عائد کیا جاتا رہا اور یہ اعلان بھی ہوتا رہا کہ وہ کسی قسم کے بائیکاٹ کا حصہ نہیں بنے گی۔ پیپلز پارٹی اس بات پر بھی مطئن دکھائی دیتی ہے کہ تمام تر اندازوں اور بعض حلقوں کے مطابق درپردہ کوششوں کے باوجود پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور قومی اسمبلی میں بھی اس کی نشستوں کی تعداد میں تیس فیصد کے لگ بھگ اضافہ ہؤا ہے۔ پارٹی قیادت کو یہ بھی یقین ہے کہ تحریک انصاف اس وقت انتخابی مہم کے نعروں کے سائے میں آگے بڑھ رہی ہے، اس لئے پیپلز پارٹی سے تعاون کو فوری طور سے اور براہ راست قبول کرنا شاید ممکن نہیں ہے۔ لیکن ادھر ادھر سے ارکان اور حمایت جمع کرنے کے بعد عمران خان جو حکومت بنائیں گے اسے جلد یا بدیر پیپلز پارٹی کی سیاسی اعانت کی ضرورت پڑے گی۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی گرینڈ اپوزیشن کا حصہ بننے کے باوجود اس سے علیحدہ پالیسی پر عمل کررہی ہے جو موجودہ حالات میں نظام دوست بھی کہی جا سکتی ہے اور اسی راستے پر چلتے ہوئے آصف زرداری خود کو اس مشکل سے بچنے کی کوشش بھی کریں گے جس کا سامنا اس وقت نواز شریف کے علاوہ شہباز شریف کو بھی ہے ۔ نیب متعدد معاملات میں شہباز شریف کے خلاف گھیرا تنگ کررہی ہے ۔ شہباز شریف بدستور یہ تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ سے مفاہمت کی جس پالیسی کو اپناتے ہوئے وہ آگے بڑھنے کا راستہ مانگ رہے ہیں، وہ نواز شریف کے ساتھ مکمل یک جہتی کی صورت میں تو مل سکتا ہے لیکن اب درپردہ وفاداری اور خوشامد کے وعدوں سے یہ مقصد حاصل ہونا ممکن نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی گرینڈ اپوزیشن اتحاد کی طرف سے وزارت عظمیٰ اور اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے عہدوں کے لئے مشترکہ امید وار کھڑے کرنے پر اتفاق کرچکی ہے۔ اس مفاہمت کے تحت مسلم لیگ (ن) کا امیدوار وزارت عظمی کے لئے جبکہ اسپیکر کا امیدوار پیپلز پارٹی کی طرف سے ہوگا جس کے لئے سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا نام سامنے بھی آچکا ہے۔ یہ بات طے ہے وزارت عظمی کے لئے خواہ تحریک انصاف 172 ارکان کی حمایت حاصل نہ بھی کر پائے تو بھی عمران خان وزیر اعظم منتخب ہو جائیں گے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وزیر اعظم کا انتخاب کرنے کے لئے ہاتھ کھڑا کرکے یعنی شناخت ظاہر کرتے ہوئے ووٹ دیا جاتا ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ تحریک انصاف اکثریتی پارٹی ہونے کے باوجود آزاد ارکان اور چھوٹی پارٹیوں کی امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس جدوجہد میں وہ فی الوقت اسپیکر کی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لئے کام نہیں کر پارہی۔ اس کے علاوہ اسپیکر کا انتخاب خفیہ بیلٹ سے ہوگا۔ اس لئے اس بات کا امکان موجود ہے کہ جو ارکان وزیر اعظم کے انتخاب کے لئے تحریک انصاف کا ساتھ دیں گے، وہ خفیہ ووٹ ڈالتے ہوئے اسپیکر کے لئے کسی دوسری پارٹی کو ووٹ دیں۔ اس طرح نواز لیگ کا وزیر اعظم منتخب ہونے کے مقابلے میں یہ امکان زیادہ ہے کہ خورشید شاہ یہ بازی جیتنے میں کامیاب ہو جائیں۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1006 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali