کیا سندھی آرٹسٹ قطب رند کو واقعی توہین مذہب پر قتل کیا گیا؟


کل سے سندھی اخبارات اور سوشل میڈیا میں اس خبر پر ایک ہی سرخی نظر آ رہی ہے۔ لاہور میں سندھی آرٹسٹ کا قتل۔

لاہور پولیس کی طرف سے قتل کی اس واردات کو ابتدائی طور پر توہین مذہب سے منسوب کر کے قاتلوں کو بچانے کی کوشش کرنے اور اس کوشش میں ناکام ہونے کے بعد بھی قاتلوں کو گرفتار نہ کرنے کی وجہ سے یہ واردات سندھ میں سندھی اور پنجابی  تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس تنازع  کی مکمل ذمہ دار لاہور پولیس کی نااہلی ہے۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ سندھ کے علاقے جیکب آباد کے موچی بستی کے نوجوان قطب رند کو 17 جولائی کو لاہور میں راج گڑھ روڈ کے علاقے میں کچھ لوگوں نے زدوکوب کیا۔ بازو اور ٹانگیں توڑنے کے بعد تیسری منزل سے پھینک کر قتل کر دیا. قطب رند نے لاہور کے مشہور ادارے نیشنل کالیج فار آرٹس سے تعلیم حاصل کی تھی اور 2015 میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ قطب کو پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر کالج کی طرف سے ایک لاکھ روپے انعام بھی دیا گیا۔

قطب رند کے چچا نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ایک وڈیو بیان میں کہا ہے کہ 16 جولائی کی رات کو ہم لاہور میں فلیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے کہ احسن، اس کے بھائی وقاص اور ان کے کچھ دوستوں نے فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ قطب باہر گیا تو انہوں نے باہر سے دروازہ بند کر دیا اور قطب کو لوہے کی سلاخوں سے مارنے لگے۔ قطب کی چیخ و پکار پر ہم نے باہر سے بند دروازہ توڑنے کی کوشش کی مگر جب تک ہم دروازہ توڑتے وہ لوگ قطب کو تیسری منزل سے نیچے پھینک کر فرار ہو گئے۔

17 جولائی کو ہونے والا یہ واقعہ الیکشن کے شور میں کہیں دب کر رہ گیا۔ کوئی آواز اٹھی اور نہ میڈیا پر کوئی خبر آئی. بعد میں قطب رند کے گھروالوں ، دوستوں اور دیگر ذرائع سے حقائق آشکار ہوتے گئے۔ سندھ میں قتل کی یہ واردات سوشل میڈیا پر ان الفاظ میں جنگل کی آگ کی طرح شیئر ہو رہی ہے کہ” لاہور میں سندھی آرٹسٹ کا قتل۔ جیکب آباد کے سندھی نوجوان قطب رند کو لاہور میں کچھ مذھبی جنونی لوگوں نے توہین مذھب کا الزام لگا کر زدوکوب کیا، بازو اور ٹانگیں توڑنے کے بعد تیسری منزل سے پھینک کر قتل کردیا۔ تاہم اب ساتھ ہی یہ خبر بھی آنا شروع ہو گئی ہے کہ یہ مذہبی جھگڑا نہیں تھا۔ اسے غلط پھیلایا گیا۔ شام کو مالک مکان سے کسی بات پہ  جھگڑا ہوا۔ وہ رات کو غنڈے لیکر آیا اور اسے مارنا شروع کیا۔ بعد میں اسے تین منزلہ عمارت سے نیچے پھینکا گیا۔ جب ملزم گرفتار ہوے تو انھوں نے مذہب کو بیچ میں لانے والا ڈھونگ کیا، جب پتا چلا کہ قطب رند پانچ وقت کا نمازی تھا تو وہ اپنے بیان سے مکر گئے ااور اسے ذاتی جھگڑا قرار دیا۔

بہرحال قطب رند کے قتل کی ایف آئی آر ان کے چچا گل بیگ رند کی مدعیت میں تھانہ ساندہ میں نمبر 741/2018 34/302 کے تحت درج کی گئی ہے لیکن یہ کیس اس وقت سندھ میں ایک ہائی پروفائیل کیس بن چکا ہے۔ اس لئے پنجاب حکومت کو اس قتل کیس پر سنجیدہ ردعمل دیتے ہوئے کو جلد اصل حقائق سامنے لانا چاہیئے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں