انڈونیشیا کے سیاحتی جزیرے لومبوک میں ایک ہفتے بعد پھر زلزلہ، 40 افراد ہلاک


زلزلہ

EPA
زلزلے کے نتیجے میں متعدد عمارتیں منہدم ہو گئی

انڈونیشیا کے سیاحتی جزیرے لومبوک میں زلزلے کے نتیجے میں حکام کے مطابق کم از کم 40 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

لومبوک میں تقریباً ایک ہفتہ قبل بھی 6.4 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حکام کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر سات ریکارڈ کی گئی ہے اور اس کی گہرائی دس کلومیٹر تھی۔

زلزلے کے نتیجے میں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کا نظام ناکارہ ہونے اور تاریکی کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ بڑی تعداد میں لوگ کھلے عام آسمان تلے رات گزار رہے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

انڈونیشیا کے سیاحتی مقام پر زلزلہ، 13 افراد ہلاک

آتش فشاں کے باعث کتنے لوگ مرتے ہیں؟

چند گھنٹوں میں پاکستان میں دوسرا زلزلہ، شدت 6.2

تائیوان میں 6.4 شدت کا زلزلہ، متعدد عمارتیں منہدم

زلزلے کے جھٹکے لومبوک سے متصل سیاحت کے لیے معروف جزیرے بالی میں بھی محسوس کیے گئے ہیں جہاں لوگ خوبصورت ساحل سمندر اور ہائیکنگ کے لیے دنیا بھر سے آتے ہیں۔

اتوار کو آنے والے زلزلے کے بعد سونامی کی وراننگ جاری کی گئی تھی لیکن اسے چند گھنٹوں کے بعد واپس لے لیا گیا تاہم اب بھی حکام نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ساحلی علاقے سے دور رہیں۔

انڈونیشیا میں امدادی کارروائیوں کے ادارے کے ایک ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ زلزلے کے نتیجے میں لومبوک کے مرکزی شہر ماترم میں بڑی تعداد میں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے پر رہائشی افراتفری میں عمارتوں سے باہر نکل آئے اور اب ماترم کے بڑے علاقے میں بجلی کا نظام متاثر ہوا ہے۔

زخمی کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ ڈاکٹرز سڑکوں پر بھی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔

زلزلہ

Reuters

بالی میں زلزلے کے جھٹکے کئی سکینڈز تک محسوس کیے گئے اور لوگ عمارتوں سے باہر نکل آئے۔

بالی میں آسٹریلیا کے ایک سیاح مائیکل لینڈسی نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے پر ہوٹل سے لوگ افراتفری میں باہر نکل گئے۔

انھوں نے بتایا کہ سڑکیں لوگوں سے بھری ہوئی تھیں۔

خیال رہے کہ انڈونیشیا میں زلزلے کا زیادہ خطرہ رہتا ہے کیونکہ یہ ملک ‘رنگ آف فائر’ یعنی مسلسل زلزلے اور آتش فشاں کے دھماکوں کے علاقے میں آباد ہے۔ اس قطار میں پیسفک سمندر کا تقریباً مکمل حصہ شامل ہے۔

دنیا کے نصف سے زیادہ زمین کے باہر فعال آتش فشاں اسی رنگ آف فائر کا حصہ ہیں۔

سنہ 2016 میں، سماترا جزیرے کے شمال مشرقی ساحل پر 6.5 کی شدت کا زلزلہ آیا تھا تھا جس میں درجنوں افراد ہلاک اور 40،000 سے زائد افراد بے گھر ہو گئے تھے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5682 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp