چیف جسٹس صاحب! بات تو سچ ھے مگر بات



چیف جسٹس صاحب! آپ نے ملتان بار کونسل سے خطاب کے دوران بجا فرمایا کہ ”قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے جانے کے بعد ملک پر صرف کرپشن نے راج کیا اور یہ ناسور ہمارے معاشرے میں سرائیت کر چکا ہے“، لیکن آپ شاید قائد اور لیاقت کے اس پاکستان کو بھول گئے ہوں، جس پر نہ صرف ماضی میں آمریت راج کررہی تھی بلکہ آج بھی یہاں اسی امریت کی ایک ماڈرن اور کمپیوٹرائز شکل میں تقلید ہو رہی ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب! ایسا تیر مارنے پر تو ہم آپ کو لال سلام پیش کرتے ہیں جس کی وضاحت آپ نے ہفتے کو ملتان بار کے خطاب کے دوران کچھ اس طرح پیش کی تھی کہ ”پچھلے دنوں ایک بڑھیا کے گھر کا قبضہ ختم کرایا تو وہ سکتے میں آ گئی اور رونا شروع کر دیا، جس پر ان کی بیٹی سے پوچھا کہ یہ کیوں رو رہی ہیں؟ تو اس نے جواب دیا کہ یہ خوشی سے رو رہی ہیں کیوں کہ 64 سال بعد انہیں اپنی چھت میسر آئی ہے“۔ لیکن ہمارے دکھوں کا ازالہ اب بھی نہیں ہوا ہے، کیوں کہ ایسا لگ رہا ہے کہ آپ کی کمان میں فقط یہی ایک تیر نصب تھا، جسے آپ نے لینڈ مافیا پر چلا دیا۔ کاش! آپ کی کمان میں اور تیر بھی ہوتے جو لوگوں سے زندگی کی چھت چھیننے والے راو انواروں اور دیارغیر میں ریڑھ کی ہڈی کو تسکین پہنچانے والے مشرفوں پر بھی آزمائے جاتے!

جناب فاضل چیف جسٹس صاحب! آپ نے بے شک اس افسوس کا اظہار بھی کیا ہے کہ ”پاکستان ہمیں تحفے میں نہیں ملا بلکہ اس کو بنانے کے لیے بہت زیادہ قربانیاں دی گئی ہیں لیکن کیا ہم نے پاکستان بننے کے بعد اس کی قدر کی؟ کیا ہم نے ملک کی حفاظت کی“؟
جناب چیف جسٹس صاحب گستاخی معاف؛ پاکستان کی قدر کرنے والے تو حقیقت میں زمین پر رہنے والوں کی ذمہ داری ہے، جو کہ غدار ٹھہرائے جاتے ہیں۔ ڈی پورٹ کیے جاتے ہیں اور مارے جاتے ہیں۔ جہاں تک بات کسی اور مخلوق کی ہے تو وہ بھی آپ کے سامنے ہیں کہ قائد کے پاکستان میں کیا گل کھلا رہے ہیں۔

جناب جسٹس صاحب ! آپ کی اس بات سے بھی یہ طالب علم اتفاق کرتا ہے کہ ”تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے“، لیکن آپ کم از کم ریاست کی نشان دہی تو کر دیں کہ ریاست سے آپ جناب کی کون سی ریاست مراد ہے۔ ڈی فیکٹو یا ڈی جیرو؟

محترم چیف جسٹس صاحب! آپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ”ایسے اسپتال بھی دیکھے جہاں الٹرا ساؤنڈ کی مشین نہیں تھی اور ایسے اسپتال بھی دیکھے جہاں آپریشن تھیٹر میں چائے کی کیتلی رکھی تھی“۔
جناب! آپریشن تھیٹر میں چائے کی کیتلی رکھنا بے شک احمقوں کا کام ہے، تاہم جس ملک کی عدالتوں میں اٹھارہ لاکھ مقدمات لٹکنے کے باوجود وہاں پر ڈیموں کے لیے چندہ اکھٹا کرنے کی کہانیاں چل رہی ہوں، تو ایسے ملک کے اسپتالوں میں الٹرا ساونڈ مشینوں کی جگہ کیتلیوں کا ہونا بھی کوئی ان ہونی نہیں ہے۔

جناب ثاقب نثار صاحب آپ کا کہنا تھا کہ “میری 8 سالہ نواسی نے ڈیمز کی تعمیر کے لیے 7 ہزار سے زائد رقم دی جس میں اس کی عیدی بھی شامل ہے“۔
ماشا اللہ! آپ کی نواسی کو تو عیدی بھی ملتی ہے، اور اتنی زیادہ ملتی ہے کہ اس سے ڈیمز کی تعمیر کے لیے چندے دینے کی گنجایش بھی ہے، لیکن اس دیس میں ایسی بیٹیوں اور نواسیوں کی بھی کوئی کمی نہیں جو عید مناتے ہیں اور نہ ہی عیدی کو جانتے ہیں؛ کیوں کہ ان کے باپ تاریک راہوں میں مارے گئے ہیں اور ان کے قاتل دن کی روشنی میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ ہاں! قوم کی یہ بچیاں اور نواسیاں عیدی ضرور چاہتی ہیں۔ وہ یہ کہ ان کے سروں سے سایہ چھیننے والوں سے عدالت وقت آہنی ہاتھوں سے نمٹے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں