باچا خان کی تعلیم، خدائی خدمت گار کی گدھا سواری اور گاﺅں کے بچے


اس کو یہ معلوم نہیں تھا آج اسے کہاں لے کے جا رہے ہیں اس نے کئی بار یہ پوچھا کہ مجھے آپ نے گرفتار کیوں کیا ہے میرا جرم مجھے بتا دیا جائے کہ میں نے کون سا قانون توڑا ہے جو مجھے آپ آئے دن گرفتار کر کے خلق خدا کے کام آنے سے روکنے کی تلقین کے علاوہ اور کچھ نہیں کہتے ہو۔آج بھی وہ بڑے سکون سے سارجنٹ اور چھ سپاہیوں کے ساتھ ان کی گاڑی سے اترا تھا، اسے بڑی سڑک سے پیدل اس کے گاﺅں کی طرف لے جایا جا رہا تھا ،گاﺅں کے باہر تین سپاہی تیار کھڑے تھے ،اس کے گلے میں ٹوٹی پھوٹی جوتیوں کے کئی ہار بنا کے ڈالے گئے تھے ۔ ایک سلیٹ جس پہ لکھا تھا خدائی خدمت گار وہ بھی گلے میں لٹکا دی گئی تھی ۔وہ گوری سفید رنگت کا مالک تھا مگر توے کی سیاہی اس کے منہ پہ مل دی گئی تھی ۔صرف اس کی چمکدار آنکھیں ہی نظر آ رہی تھی چہرہ بھی سر کے بالوں کے ساتھ سیاہ رنگت کا ہو گیا تھا ۔

اسے اپنے گاﺅں لایا گیا تھا جہاں وہ پل بڑھ کے جوان ہوا تھا، اپنے گاﺅںاپنے لوگوں سے وہ بے حد پیار کرتا تھااسے برہنہ پیٹ گدھے پہ سوار کر کے گاﺅں میںپھرایا جا رہا تھا ایک سپاہی نے گدھے کی رسی پکڑی ہوئی تھی باقی سپاہی اس کے دائیں بائیں تھے آگے سارجنٹ جبکہ سارجنٹ کے آگے ڈھول بجانے والا منادی کر رہا تھا کہ خدائی خدمت گار کا انجام دیکھ لو …. انجام دیکھ لو۔

وہ گدھے پر بڑے شاہانہ انداز سے بیٹھا تھا بہت سارے لوگ اکھٹے ہو گئے تھے بچے بالے ایک دوسرے کو دکھا رہے تھے۔ گدھا جس کا اس دنیا کی تعمیر اور ترقی میں بڑا کردار ہے اسے معلوم تھا کہ جس گدھے پر وہ سوار ہے بنی نوع انسان کے لئے کتنا مفید جانور ہے جس کی بدولت دنیا میں بہت ساری آسانیاں پیدا ہوئی ہیں۔ وہ گاﺅں کے بچوں کو گدھے کے متعلق بتاتا تھا یہ ایک ممالیا جانور ہے جس کا جد امجد افریقہ سے تعلق رکھتا ہے گھوڑے کی نسبت کچھ چھوٹے قد کا ہوتا ہے گھریلو گدھا اور افریقی گدھا قد میں تقریبا 1.25 میٹر اونچا ہوتا ہے. گدھے کو مصریوں نے چار ہزار برس قبل گھریلو بنایا تھا. یہ گھوڑے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ٹانگیں رکھتا ہے اس لئے پہاڑوں پر چلنے چڑھنے کی زیادہ اہلیت کا حامل ہے اس کی عمر گھوڑے سے زیادہ ہوتی ہے ۔افریقی جنگلی گدھا پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے۔

ڈھول والا اس کے جرم کی منادی کر رہا تھا شور و غوغا سن کے گاﺅں کے لوگ دوڑے ہوئے آ رہے تھے وہ بچوں اور بڑوں کو پڑھاتا کہ میرا یہ گاﺅں شیو شنکر بھگوان کے نام کی نسبت سے شیوا ہے ۔سنسکرت میں اس کا لفظی مطلب مبارک کے ہیں ہندو دیوتا جو کائنات کی تخریبی اور تولیدی دونوں قوتوں کی تجسیم ہے ۔تباہ کار کی حیثیت سے اسے کھوپڑیوں کی مالا پہنے شیطانوں میں گھرے دکھایا جاتا ہے وہ راہبانیت اور آرٹ بالخصوص رقص کا دیوتا بھی ہے ۔وہ نندی نامی بیل پہ سواری کرتا ہے دیوی ماں اور اومایا کالی اسکی محبوبہ ہے کچھ ہندو شو کو مطلق دیوتا کے طور پر پوجتے ہیں اور تخریب کے دیوتا کے ساتھ ساتھ نجات کا فیاض دیوتا بھی خیال کرتے ہیں ۔

بخت زمین کا نام اسکی ماں نے اسے دیا تھا اپنے والدین کو ہمیشہ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتے دیکھتا سنسکرت کی گرائمر پاننی نے لکھی وہ بھی یہی کا رہنے والا تھا اشوک نے پاننی کی یادگار تعمیر کروائی تھی شیوا گاﺅں سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر اسوٹا گاﺅں ہے جو اشوکا سے بگڑتے بگڑتے اسوٹا ہو گیا ہے دندامس بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتا تھا دندامس وہ فلسفی تھا جسکی عقل و خرد کے آگے یونان کے فلسفیوں نے اپنے آپ کو بہت چھوٹا محسوس کیا تھا یہی وجہ تھی کہ سکندر یونانی نے دندامس اور اس کے دیگر 7 ساتھیوں کو اپنے ساتھ چلنے کا کہا تھا مگر دندامس نے اسے یہ کہہ کر ساتھ جانے سے انکار کر دیا کہ تم اور تمھارے یہ سپاہی ہماری دھرتی پہ مارے مارے کیوں پھر رہے ہو یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے اور مجھے تم سے کچھ لینا دینا نہیں ۔دندامس کی جانب سے یہ جملہ سکندر یونانی کو زمین بوس کرنے کے لئے کافی تھا اس نے کہا دندا مس تمہیں یہ اندازہ نہیں ہے کہ میں تمھارے ساتھ کیا سلوک کر سکتا ہوں گندھارا تہذیب کے وارث دندامس نے کہا کہ ماسوائے مجھے قتل کرنے کے تم اور کچھ بھی نہیں کر سکتے ہو ۔

میں مر کر بھی زندہ رہوں گا اور تم زندہ رہ کر بھی مر جاﺅ گے ۔

سکندر نے دندامس اور اس کے سات ساتھیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔اسی دور کا میگا لتھ آج بھی یہاں موجود ہے جسے حال ہی میں جرمنی کے تعاون سے لوہے کے جنگلے کے ساتھ محفوظ کر لیا گیا ہے ۔

یہ ایک گھڑی ہے جس میں 12 عدد پتھر ہیں جو ایک سے بارہ تک کے ہندسوں کے ساتھ موجود ہیں ۔اس سے زرا ہٹ کے ہنڈ کا وہ مقام ہے جسے عبور کرتے وقت بڑے بڑے سﺅرماﺅں کا پتا پانی ہو جاتا ہے دیوی دیوتاﺅں کے نام قربانیاں کی جاتی تھیں ۔چور ڈاکو لٹیرے جنہیں تاریخ میں فاتح سپہ سالار لکھا جاتا رہا ہے وہ اس دریا کے سامنے بڑے بے بس نظر آتے ہیں ۔شیر دریا،ببر شیر دریا،بوڑھا دریا،کہانی کا گھر ،دیوتا دریا،اباسین، انڈس ، مہران اور سندھ نام ہیں اس دریا کے جو تبت کے پہاڑوں سے نکلتا ہے اور ٹھٹھہ کے مقام پر اپنے آپ کو سمندر کی آغوش میں دے دیتا ہے انہی دریاﺅں پہ جب پل بنے تو ایک طرف کا سچ دوسری طرف پہنچا تھامگر یہاں ایسا نہیں ہے ایک طرف کے سچ کو دوسری طرف مسخ کر کے بھیجا گیا ہے بوڑھا دریا پوری گواہی کے ساتھ موجود ہے کہ بادشاہ نے اپنے علاقے کا ایک بڑا خان ہونے کے باوجود تمام انسانوں کے ساتھ امن محبت اور بھائی چارے کا پرچار شروع کیا تھا ۔

بخت زمین کو آج برہنہ پیٹھ گدھے پہ بٹھا کے اس کے گاﺅں میں گھمایا جا رہا تھا اس نے امن محبت اور تشدد نہ کرنے کا درس بادشاہ خان سے لیا تھا جس نے سکول اس لئے چھوڑ دیا تھا کہ وہاں ایک سپاہی کو انگریز افسر کے عتاب کا نشانہ بننا پڑا تھا انگریزوں کو بھی اب جا کے انسانیت کی کچھ ہوا لگی ہے ورنہ ان کی تاریخ بھی رونگٹے کھڑے کرنے کے لئے کافی ہے۔ عقل و خرد کی بات کرنے والوں کو بھوکے شیروں کے آگے ڈال دیا جاتا تھا ۔

کلیسا کے دل کو ٹھنڈک نوجوانوں کو تیل کے کڑاہوں میں ڈال کر دی جاتی تھی ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے کا درس دینے والے غفار خان اور اس کے ماننے والوں کو جس تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے آج ریاست پاکستان اسی کا خمیازہ بھگت رہی ہے ۔جب وہ لوگوں کو امن محبت رواداری کا درس دینے میں مصروف تھا تو ریاست پاکستان کا زور اس بات پر تھا کہ اس کے پرچار کو جھٹلایا کیا جائے، اسے غدار لکھا جائے اس کے متعلق سرحدی گاندھی کے القابات ڈھونڈے گئے جب سارا ملک آمر ایوب خان کی قصیدہ گوئی میں مصروف تھا تو وہ پہلا شخص تھا جو جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑا تھا آج وہ آمروں کے قصیدہ گو سب سے بڑے محب وطن اور ان کے علاوہ باقی سب غدار ٹھہرے۔

ساٹھ کی دھائی میں غفار خان کو جب گاندھی امن ایوارڈ ملا تو ہم نے اپنا سارا زور اس بات پر صرف کیا کہ وہ رشوت لیتے وقت کی تصویر ہے حالاں کہ اس ایوارڈ کی رقم سے مغربی پاکستان کے لئے ایک ٹرسٹ قائم کیا گیا تھا جو بات ہم آج کہنے پر مجبور تھے وہ کئی سال پہلے کہتا تھا مگر کیا مجال کہ ہم اپنے کئے پر شرمندہ ہوں ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو گڑ میں زہر ملا کر دیا ہے اپنی ہی تاریخ کو مسخ کیا ہے۔

عدم تشدد کی تحریک کو دبانے کے لئے ایڑی چوٹی کا جو زور لگایا گیا آج یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ تشدد کرنے والے ریاست کے قابو سے باہر ہیں پہلے انگریزوں نے ظلم کے پہاڑ توڑے اس کے بعد ریاست پاکستان نے اپنا زور خدائی خدمت گار تحریک کو کچلنے میں صرف کیا حالانکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ امن محبت کے پیغام کو عام کیا جاتا تو آج ہمارا یہ حال نہ ہوتا جو ساری دنیا کے سامنے جگ ہنسائی کا سبب بنا ہوا ہے۔

بخت زمین ہنس ہنس کے سارجنٹ کو کئی بار کہہ چکا تھا کہ مجھے ساتھ والے گاﺅں لے چلو،آپ کی مہربانی ہو گی ۔ گدھے کے دائیں بائیں آگے پیچھے سارے گاﺅں کے بچے اکھٹے ہو گئے تھے نوجوان بزرگ سبھی گھروں سے باہر تھے۔ فضل خالق نے سب کی طرف سے اسے سلام کیا جو سارجنٹ اور پولیس والوں کو قطعی اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔گھروں کی چھتوں پر خواتین دیکھ رہی تھیں کہ کس طرح ایک خدائی خدمت گار کو گدھے پہ بٹھا کے بازاروں میں گھمایا جا رہا ہے بچے خوشی سے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے جب وہ سارے مل کے ہنستے تو فضا میں گھنٹیاں سی بج اٹھتیں تھیں ۔وہ ایک شان سے گدھے پہ بیٹھا بچوں کی خوشی کو دوبالا کر رہا تھا صرف اسکی چمکدار آنکھیں ہی نظر آ رہی تھیں جبکہ باقی چہرے پر مجسٹریٹ کے حکم سے توے کی سیاہی مل دی گئی تھی ۔

اس کا سارجنٹ اور پولیس والوں سے یہی تقاضا تھا کہ مجھے ساتھ والے گاﺅں خلیل لے چلو ۔

وہ صبح سے اب تک کئی بار کہہ چکا تھا ۔

سارجنٹ نے سٹپٹا کے پوچھا کہ میں تمہیں ساتھ والے گاﺅں کیوں لے کے جاﺅں؟

تو خدائی خدمت گار بخت زمین نے کہا کہ اس گاﺅں کے بچے بھی خوش ہو جائیں گے ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

سلیم اشرف کی دیگر تحریریں
سلیم اشرف کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں