ہمیں انقلاب کی نہیں، عدم تشدد کی ضرورت ہے


\"abdul-Majeed-487x400\"کچھ روز قبل ایک عزیز لاہور تشریف لائے، واروک یونیورسٹی سے انہوں نے پی ایچ ڈی کی اور ان کے مقالے کا عنوان’ پاکستان میں عدم تشدد پر مبنی سیاسی تحاریک‘ تھا جس میں انہوں نے ایم آر ڈی کی ضیا مخالف تحریک پر تحقیق کی۔ ایک تاریخ دان دوست نے انہیں اپنی درس گاہ کے طلبہ سے اس موضوع پر بات کرنے کے لئے مدعو کیا۔ سرکاری یونیورسٹی تھی اور بیچلرز کے طلبہ سامع تھے۔ خاکسار کو اس موقع پر دعوت ملی سو ہم بھی شریک محفل ہوئے۔ بات مکمل ہونے پر طلبہ کو سوال کرنے کی دعوت دی گئی ۔ ایک دلچسپ سوال یہ اٹھا کہ آپ عدم تشدد کی حمایت کیسے کر سکتے ہیں جب کہ دنیا میں جس کی لاٹھی، اس کی بھینس کا اصول چلتا ہے ، تاریخی طور پر جس نے تشدد کا راستہ اپنایا، وہی ’عظمت‘ پایا، جیسے سکندر’ اعظم‘۔ ایسے میں ایدھی صاحب یا ہمارے ’مفاہمت پرست‘ سیاست دانوں کی کیا وقعت ہے؟ تبدیلی کے لئے تشدد ضروری ہے جیسے ترکی میں اتا ترک کو تشدد کا استعمال کرنا پڑا۔میری حقیر رائے ہے کہ پاکستانی معاشرے میں مردانگی کے اظہار اور تشدد کو متصل کر دیا گیا ہے۔ ہمارے سماج میںنارمل جذبات اور خواہشات کو دبانے پر زور دیا جاتا ہے جس کی بدولت نوجوانوں کے اذہان میں ایک لاوا پکتا رہتا ہے۔ نوجوان لڑکوں کے لئے تشدد دراصل مردانگی کے اظہار کا واحد ذریعہ ہے اور وہ اسے پسند کرتے ہیں۔ اس تصور عالم میں عدم تشدد کو کمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ یونیورسٹی طلبہ کو تجسس اور تحقیق کے ضمن میں شک کا فائدہ دیا جا سکتا ہے لیکن بعینہٰ انہی خیالات کا اظہار ہمارے صاحبان علم و عقل بھی کرتے ہیں۔ افسر شاہی کے ایک جہاں رسیدہ رکن سے ملاقات ہوئی تو ان کے خیال میں پاکستان کے مسائل ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور اس صورت حال کا واحد حل ’خونی انقلاب ‘ ہے۔

فرانس میں ’خونی‘ انقلاب کے ثمرات فوجی جرنیل نپولین کی شکل میں واضح ہوئے۔ چین میں’ مزدوروں کا انقلاب‘ اور اس کے بعد ’ثقافتی‘ انقلاب جس کے تحت شہروں میں موجود طلبہ اور اساتذہ کو ’تعلیم نو‘ کی خاطرجبری طور پر دیہی علاقوں میں بھجوایا گیا۔ ماﺅ کی وفات کے بعد کمیونسٹ پارٹی نے تعین کیا کہ ماﺅ کے ستر فیصد اقدامات ٹھیک تھے اور محض تیس فیصد غلط۔یہ پراپیگنڈہ کئی دہائیوں تک چینی کتب میں دہرایا جاتا رہا۔ یاد رہے کہ ماﺅ کے ان اقدامات کی بدولت کم ازکم چھ کروڑ چینی باشندے جان سے ہار گئے۔ روس میں بالشویک انقلاب کے دوران قتل عام ہوا اور سٹالن کے ظہورکے بعد ظلم و بربریت کی حدیں عبور کی گئیں۔ انسانی خون، پینے کے پانی سے ارزاں ہو گیااور پھر دوسری جنگ عظیم میں کروڑوں پولش باشندے روس کی حفاظت کرتے مارے گئے۔روس اور چین ابھی تک ان فاش غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ دور مت جائیے، ایران کے انقلاب کا نتیجہ ملاحظہ کریں جہاں شاہ ایران سے جان چھوٹی تو ملا کے ہتھے چڑھ گئے۔ ’انقلاب‘ کے دوران نمایاں کردار ادا کرنے والے ترقی پسندوں کو چن چن کر مارا گیا۔ جو بچ نکلے وہ ایران عراق جنگ کی نذر ہو گئے۔ کیوبا میں انقلاب آیا، آج تک انقلاب لانے والے صاحب اور ان کے برادر خورد حکومت پر فائز ہیں۔

پاکستان کی سرزمین ’خونی انقلاب‘ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اس دھرتی کے لوگوں کی سرشت میں اس قسم کے شعبدے شامل نہےں۔ ہمیں انقلاب کی بجائے اصلاح کا سبق سیکھنا ہو گا۔امریکہ میں مشی گن(Michigan ) یونیورسٹی کے پروفیسر رچرڈ نسبٹ (Richard Nisbett) کے مطابق قدیم چین اور یونان کی ثقافت ان علاقوں کے جغرافیائی حالات کے مطابق تھی۔ چین میں زرخیز زمین اور پانی کی بہتات تھی لہٰذا وہاں مل جل کر کام کرنے کا چلن عام تھا اور بعدا زاں چینی ثقافت میں اجتماعیت کو خاص مقام حاصل ہوا۔ اس کے برعکس قدیم یونان میں چیٹل پہاڑوں اور دریا سے قربت کے باعث جانور چرانے ، ماہی گیری اور کاروبارکرنا معمول بنا۔ یونانی ثقافت نے انفرادیت کو اہمیت دی اور جمہوری نظام میں فرد واحد کو بنیادی اکائی بنایا۔ ہماری جغرافیائی حالت یہ ہے کہ ہمیں خونی انقلاب موافق نہیں آتا۔ تبدیلی کی مثال چاہئے تو جنوبی افریقہ کی جانب نظر دوڑائیے،قبل از تقسیم بھارت کی جانب دیکھئے، امریکہ میں سیاہ فام امریکیوں کے حقوق کے لئے کوشاں مارٹن لوتھر کنگ کا مشاہدہ کریں۔میرے ناقص خیال میں برصغیر جیسے علاقے میں عدم تشدد کے لئے عوامی تحریک چلانا مہاتما گاندھی اور باچا خان کا کارنامہ تھا۔ بات بات پر بھڑک جانے والے لوگوں کو قصہ خوانی اور جلیانوالہ باغ جیسے واقعا ت کے بعد سیاسی طور پر منظم رکھنا ایک معجزاتی عمل ہے ۔ آج کے دور میں ہمیں سکندر اعظم یا مغل بادشاہوں سے زیادہ ایدھی صاحب جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔ اس معاشرے میں رہتے ہوئے سرکاری ستائش کی عدم موجودگی میںانسانیت کی بے لوث خدمت کرنا قابل فخر کارنامہ ہے۔ اگر ہر پھوٹی آنکھ کے جواب میں آنکھ پھوڑ دی جائے تو ساری دنیا اندھی ہو جائے گی۔ یاد رکھئے کہ انسان کو مارا جا سکتا ہے، نظریے کو نہیں (گاندھی، باچا خان اور مارٹن لوتھر کنگ چلے گئے لیکن ان کے نظریات ابھی تک قائم ہیں)۔ سبین محمود کے الفاظ میں” فاصلہ نہ رکھیں، پیار ہونے دیں“۔


Comments

FB Login Required - comments

عبدالمجید عابد

عبدالمجید لاہور کے باسی ہیں اور معلمی کے پیشے سے منسلک۔ تاریخ سے خاص شغف رکھتے ہیں۔

abdulmajeed has 26 posts and counting.See all posts by abdulmajeed