پہلی پاکستانی ٹیم نے درہ لپ گر پیر پار کر لیا


تین خواتین ایک بچہ اور پانچ مردوں پر مشتمل پہلی پاکستانی ٹیم نے میٹر پانچ ہزار ایک سو نوے میٹر ہے بلند درہ لپ گر پیر ؔ کامیابی سے پار کر لیا

سنتالیس سالہ ڈاکٹرفرحانہ مسرور، کے ہمراہ سمرین زہرہ،مسزپارس علی انکا چودہ سالہ بیٹازین علی خاوندعلی عمران اور دیگر چار ارکان نے پاکستان میں پہلی مرتبہ کوہ پامیر میں واقع 52000 میٹر بلند درہ لپ گر پیر ؔ کامیابی سے پار کر لیا ہے۔ انہیں اسے پیدل پار کرنے میں چھ دن لگے۔ واپسی کے سفر میں انہوں نے تین سٹیجز ایک دن میں طے کئیں۔

درہ لپ گر پیر ؔپاکستان کے انتہائی شمال میں واقع ہے اس کے شمال میں چین کا درہ خنجراب اور شمال مغرب میں افغانستان میں واقع واخان کی پٹی ہے۔

اس ٹیم نے اپنا ٹریک چپورسن ؔ وادی کے آخری گاؤں ذور خون ؔسے شروع کیا۔ ذور خون سوست ؔسے کوئی تین گھنٹے کی مسافت پر ضلع گوجال کا آخری گاؤں ہے۔

یہ درہ کسی بھی پہلی پاکستانی ٹیم نے پار کیا ہے۔ دشوار گزار راستے ہونے کے باعث مقامی لوگ بھی اس درے کو عبور نہیں کرتے۔ بابا گھنڈی کا مزار آخری پواینٹ ہے جہاں تک مقامی لوگ سفر کرتے ہیں۔

عطاء آباد جھیل بھی گلگت بلتستان کے ضلع گوجال میں واقع ہے۔

علی عمران ان کی بیگم پارس علی اور بیٹا زین علی کراچی کے رہائشی ہیں ۔ اس ٹیم کے باقی ارکان اسامہ علی ، عمر منج، محسن رضا، اور قاسم جمیل ہیں۔ ان سب کا تعلق پاکستان کے مختلف علاقوں سے ہے ۔یہ تمام

لوگ شوقیہ کوہ پیماء ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں