باچا خان یونیورسٹی اور ٹوٹی ہوئی کمر والے دشمن


husnain jamal (2)      پاکستان نے منگل کو 350 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے کروز میزائل رعد کا کامیاب تجربہ کیا ہے، اسی دن شام کو جمرود میں خود کش دھماکہ ہوا اور اگلے دن بدھ کو پاکستان میں دہشت گردوں نے ٹوٹی کمر کے ساتھ دوبارہ ایک تعلیمی ادارے پر حملہ کر دیا ہے۔
بلھے شاہ آسمانی اڈدیاں پھڑنا ایں
جیہڑا گھر بیٹھا اونہوں پھڑیا ای ناہیں
(بلھے شاہ صاحب ، ہوا میں اڑتی چڑیا پکڑتے ہو اور جو گھر میں چھپا بیٹھا ہے، اس کی خبر ہی نہیں لی )
آج باچا خان کی برسی ہے، آج وہاں باچا خان امن مشاعرہ ہونا تھا، آج کے بعد باچا خان یونیورسٹی میں اب تک نامعلوم تعداد میں مرنے والے بچوں کی برسی بھی ساتھ ہوا کرے گی۔ تاریخ میں یہ المیہ یاد رکھا جائے گا کہ یاجوج ماجوج کے جیسی ایک قوم تھی جو رات بھر دیوار کو چاٹ چاٹ کر اسے گرانے کی کوشش کرتی تھی اور صبح ہوتے ہی وہ دیوار اپنی پوری بلندی کے ساتھ دوبارہ موجود ہوتی تھی۔ اور صبح بھی ہوتی نہیں تھی، بس نظر آتی تھی۔
اور ایسی ہر صبح کو ایک ہفتہ پہلے سے اخباروں میں یہ پڑھنے کو مل رہا تھا کہ سرحد میں تمام تعلیمی اداروں کو خطرہ ہے، پھر ایک دن صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں چھٹی بھی دی گئی۔ لیکن نہ ہوا تو ان تعلیمی اداروں کی حفاظت کا بندوبست نہ ہوا۔ غضب خدا کا، 2600 طلبا و طالبات ایک تعلیمی ادارے میں موجود ہیں، اور دہشت گرد اس میں یوں داخل ہوتے ہیں جیسے خالہ جی کا گھر ہو۔ کوئی روکنے والا نہیں۔
حکمرانوں کی آپ آنیاں جانیاں دیکھ لیجیے۔
ٹی وی پر چلنے والا اشتہار دیکھ لیجیے “پکیاں سڑکاں، سوکھے پینڈے”
ایک شوخ کاسنی صحافی کی سیلفیاں دیکھ لیجیے
پارلیمنٹ کی بحث دیکھ لیجیے کہ چھٹی اتوار کو ہونی ہے یا جمعے کو
دشمن کے بچوں کو پڑھانے کا عزم دیکھ لیجیے
شجاعت اور بہادری سے بھرے رجز دیکھ لیجیے
جمرود کے دھماکے پر نہ ہونے والی میڈیا کوریج دیکھ لیجیے
اور پھر ٹوٹی کمر والے دہشت گردوں کو دیکھیے، پھر دیکھیے سریا بھری گردن والے حکمرانوں کو، پھر دیکھیے “دہشت گردی کی پرزور مذمت کرتے ہیں” والے بیانات کو، پھر دیکھیے کالعدم تنظیموں کو ہر سال نام بدلتے ہوئے، پھر دیکھیے تنظیموں کو کالعدم ہونے کے باوجود دفاتر کھولتے ہوئے، پھر دیکھیے ان جاہلوں کو جو ملالہ جیسے واقعات میں آج بھی سازش ڈھونڈتے ہیں، پھر دیکھیے عوام کو اور ان کے بیانات کو، اور خصوصاً یہ بیان دیکھیے کہ ’ایسی حرکت کرنےوالے مسلمان نہیں ہو سکتے‘، پھر دیکھیے حفاظتی تحویل میں لینے والوں کو، پھر دیکھیے ان کو جو سب کچھ سامنے ہوتے ہوئے ثبوت مانگتے ہیں اور پھر بیٹھ کر ماتم کیجیے ہر سال سولہ دسمبر کا اور پھر آج کے بعد بیس جنوری کا۔
او بھئی ایک برس سے زیادہ عرصہ ہو گیا، تمام تر وسائل کے ساتھ ایک دشمن سے لڑنے میں ہم لگے ہوئے ہیں۔ روز اخباروں میں خبر دیکھتے ہیں اور اپنے تئیں بغلیں بجاتے ہیں کہ آج چالیس دہشت گرد مارے گئے اور آج پچاس مارے گئے۔ آج وہاں فضائی حملہ کیا، آج وہاں زمینی کارروائی کی۔ لیکن اپنی ہی ناک کے نیچے پھر ایک کارروائی ایسی ہوتی ہے کہ پورے سال کا حساب برابر کر دیا جاتا ہے۔ اور پھر ایک سٹیریو ٹائپ بیان آتا ہے کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے اور ہم ایسی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
دہشت گردوں کی کمر توڑنا اب صرف آپ کا خواب ہے۔ جو حقیقت ہے وہ یہ ہے کہ دہشت گردوں نے آپ کی کمر چھوڑ، ایک ایک ہڈی توڑی ہے، بار بار توڑی ہے اور آپ انہیں ٹوٹی ہڈیوں کے ساتھ گردن میں سریہ بھرے کھڑے ہیں اور وہی سریا عوام کو بھی دئیے جا رہے ہیں جا بہ جا سڑکوں اور میٹرو کی صورت میں۔
اور ہاں، ٹی وی پر اس وقت شوکت یوسف زئی کہہ رہے ہیں کہ یہ اسلام کو بدنام کرنے کی سازش ہے اور یہ کہ دشمن آخری سانسیں لے رہے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 149 posts and counting.See all posts by husnain

6 thoughts on “باچا خان یونیورسٹی اور ٹوٹی ہوئی کمر والے دشمن

  • 20-01-2016 at 12:57 pm
    Permalink

    یہ سب کچھ تو ہے لیکن حل کیا ہے؟

  • 20-01-2016 at 1:50 pm
    Permalink

    بہت اچھا جناب مزہ آگیا

  • 20-01-2016 at 1:55 pm
    Permalink

    Kuch nai ho skta yaha. Aise he log martay rahein gay aur hum dushman k bacho ko parhanay ka azam krtay rahein gaey. Islamabad ki he baat le lein, kia yaha sub bachay school jatay hain.? Pehly inko tou parha lo. Responsible log kaha hain aaj..? Sirf be-gunaah students aur dosray masoom logo ka khoon bahany k lye sub ko khuli chutti de di hai. Tooti Kamar wala dushman ye kr raha ha? Shame on Govt and all those responsible in Intelligence and elsewhere. Kitni maao ki aahein aur kitni behno ki cheekhein hain aaj dharti ki fizza mein. Dharti k ye so called ” Sapoot kia kr rahay hain? Gen. Raheel Sharif, DG ISI, Nawaz Sharif aur baqi sub log behissi ki us inteha per na hotay tou aaj masoom log is trah se dehshat gardo ka nishana na bun rahay hotay.

  • 20-01-2016 at 3:07 pm
    Permalink

    اور پھر دیکھ لیجئے امریکہ کو جہاں پر دہشتگرد حملہ ہوا۔ پھر دیکھیئے فرانس کو جہاں دہشت گرد حملہ ہوا۔ پھر دیکھئے انڈونیشیا کو جہاں دہشتگرد حملہ ہوا۔ پھر دیکھیئے ترکی کو جہاں دہشتگرد حملہ ہوا۔ پھر دیکھیئے ایران کو جہاں دہشت گرد حملہ ہوا پھر دیکھئیے انڈیا کو جہاں دہشت گرد حملہ ہوا پھر دیکھئیے کتنے ہی ان ممالک کو جو دہشت گردوں کےا ڈوں سے ہزاروں میل دور رہتے ہیں اور وہاں بھی دہشت گرد حملے ہوئے اور پھر آخر میں دیکھ لیجئیے اپنے آپ کو جو ایک عورت کی طرح اس حملے پر اپنوں کو ہی طعنے دے رہے ہیں۔۔ محترم دہشت گردی کسی بھی ملک میں ہو سکتی ہے وہ جو پوری دنیا کا ماما بنا پھرتا ہے وہ اپنے ملک میں بھی دہشتگردی نہیں روک پاتا ۔ اس آپریشن میں شہید ہونے والے فوجیوں کی قربانیوں پر کھڑے ہو کر انہیں مرنے کے طعنے نہ دیں کچھ نہیں کر سکتے تو خدا کے لئے اس ملک کے لئے دعا ہی کر دیا کریں

  • 20-01-2016 at 3:25 pm
    Permalink

    یہ بہت پراثر اور طاقتور مضمون ہے۔ کاش اس ملک کے حکمرانوں کو اندازہ ہو سکے کہ قومیں حصار بنانے سے محفوظ نہیں ہوتیں۔ اس ذہنیت کو ختم کرنا ضروری ہے جو نوجوانوں میں گمرہی اور جہالت عام کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ پاکستان میں اب مدرسے ہی نہیں ، زندگی کے ہر شعبے میں اس کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ پھر آپ پچاس محافظ مقرر کریں یا سو، کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

  • 21-01-2016 at 8:12 pm
    Permalink

    بلھے شاہ آسمانی اڈدیاں پھڑنا ایں ۔۔جیہڑا گھر بیٹھا اونہوں پھڑیا ای ناہیں ۔۔ بلھے شاہ نے یہ شعر اپنے اندر خدا کی کھوج کے بارے میں لکھا ،، لیکن حسنین جمال نے اسے اپنے اندر موجود دہشت گردوں کے بارے میں استعمال کر کے اس کی معنویت کا ایک اور پہلو نمایاں کر دیا ۔

Comments are closed.