پانامہ حمام اور ہم عوام


waqar gilaniملک میں پانامہ دستاویزات کا سیاسی طوفان زور شور سے برپا ہے بڑے بڑے سیاستدانوں ، کاروباری حضرات اور کئی افسران اپنے کڑوروں ، اربوں روپے سمندر پار (off shore)کمپنیوں میں ڈال کر سرخرو ہو چکے ہیں ۔ کیا حکو مت اور کیا اپوزیشن سبھی اس حمام میں ننگے ہو چکے ہیں مگر نظریں نیچی کر کے دیکھنے کی بجائے انگلیوں کا رخ ایک دوسرے کی طرف ہے ۔ یہ دستاویزات بالکل ایسے ہی آئیں جیسے کوئی اچانک دروازہ ، کھول کر ان حضرات کو رنگے ہاتھوں پکڑے لیکن ان کی شرم اور جھجھک ختم ہو تی نظرآتی ہے ۔ خود کو احتساب کے لئے پیش کرنے کی بجائے کہا جا رہا ہے “وہ بھی چور ہے“ ،”وہ بھی چور ہے “تم نے بھی تو یہ کیا ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ، ایسے میں قابل احترم سید عالی جناب حامد سعید کاظمی کا جملہ یاد آگیا جنہوں نے بھی اپنی عزت بازار سیاست میں نیلام کر دی ۔ بطور وزیرمذہبی امور جب ان سے حج کوٹہ اور معاملات میں خورد برد (کرپشن ) کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ”کرپشن “ہوئی ہے مگر پہلے سے کم ہوئی ہے ۔ عوام کے سامنے نمبر بنانے کے لئے تو فوجی قیادت نے بھی چھ فوجی افسران جن کے خلاف بہت پہلے کرپشن کے الزامات ثابت ہو چکی انہیں ہٹانے کی خبر جاری کر دی۔ لیکن اس سارے منظر میں “انتہائی با ہمت “اور جمہوریت کے علم بردار وزیر اعظم نواز شریف ٹس سے مس نہیں ہوئے ۔ کمال ہے کہ انہوں نے ذرا سی بھی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کر کے صرف اتناہی کہہ دیا ہو کہ ہاں یہ فلیٹ میرے بیٹوں کے نام ہیں اور ان کا پیسہ یہاں یہاں سے آیا ۔ لیکن وہ کیوں کہیں کیونکہ وہ تو ملک کے منتخب وزیر اعظم ہیں اس لئے وہ خو دکو مکمل طور پر کسی کو بھی جوابدہ نہیں سمجھتے ۔ پاکستان میںکوئی حقیقی عوامی جمہوریت تھوڑی ہے یہاں تو درباری جمہوریت ہے ۔ دربار کے امراءبادشاہ سلامت کو ہمشہ سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں ۔ بادشاہ سلامت اور ان کے اہل خانہ کے قصیدے پڑھنا اور ان کے مخالفوں پردیوانہ وار جھپٹنا شاہ سے زیادہ شاہ کی وفادار ی کا ثبوت دینا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں نہ کہ عوام کی خدمت اور تو اور خود وزیر اعظم سلامت کہتے ہیں ۔ کہ میں عوام کی منتخب کردہ پارلیمنٹ جس سے وہ خود اس منصب پر فائز ہوہے اس کے سامنے کیوں جواب دوں جب وزیر اعظم ہی خود کو عوام کے سامنے جوابدہ نہ سمجھے تو کیا ہو ۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی ایک دوسرے کو چت کرنے کے لئے در پے ہیں اور انہیں عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیںلگتا۔ عوام تو ان کے لئے صر ف ایک آلہ (Tool)ہیں جس کو استعمال کر کے اقتدار کی سیڑھی پر چڑھ جاﺅ یا کسی کو گھسیٹ کر نیچے پھینک دو ۔

وزیر اعظم سلامت آپ کے اہل خانہ کو اربوں روپے کی جائیداد اور خزانے مبارک ہوں آپ اپنی اربوں روپے کی جائیداد وں کے لئے شایدپارلیمنٹ اور عوام کو جوابدہ نہیں ہوں گے جس کے لئے آپ نے اب تک کئی تقریریں کر دی ہیں ۔ اور پاکستان کے طول و عرض میں سرکاری خرچ پر بڑے بڑے جلسے بھی منعقد کر وا لئے ہیں ۔ حتیٰ کہ آپ شہر اقتدار اسلام آباد سے صرف چند کلو میٹر دورکے علاقہ کوٹلی ستیاں بھی چلے گئے جہاں جا کر آ پ کو یاد آیا کہ آپ تو یہاں 26سال بعد آئے ہیں ۔آپ جیسے دو بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور تیسری دفعہ کے منتخب وزیر اعظم کی کوٹلی ستیاں جا کر یہ بھی خیال آگیا کہ غالباً اس علاقے میں اب تک کوئی ہسپتال ہی نہیں ہے ۔ بے چارے لوگ اپنے بیماروں کو سڑک پر رکھ کر راولپنڈی کے ہسپتالوں میں جانے کے لئے دیر تک انتظار کرتے رہتے ہیں تو کیوں نہ یہاں ہسپتال بنانے کا اعلان کر دیا جائے ۔ وزیر اعظم سلامت نے صحیح سوچا کیونکہ ہسپتال بنانا تو صدقہ جاریہ ہے اور صدقہ تو بلا ٹالتا ہے ۔

جناب وزیر اعظم! آپ اورآپ کے اہل خانہ کو اربوںروپوں کی جائیداد یں اور خزانہ مبارک ہو ۔ جس کا حساب دینے کے لئے آپ کو منتخب کردہ پارلیمان میں جا کر بات کر نا ناگوار لگتا ہے لیکن کبھی کہیں بھولے چوکے ، کم ازکم ایک بار آپ پارلیمنٹ میں اس بے چاری عنبرین کی ہی بات کر دیں جس کو ایبٹ آبادمیں ایک مقامی جرگے نے مارکر گاڑی میں جلادیا ۔ کبھی کوئی ایک لفظ کراچی کی اسی خاتون کے بارے میں جسے دو پولیس والوں نے رات کو ناکے پر رکشہ روک کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا ۔ کہیں کوئی ایک لفظ منڈی بہاولدین عمران مسیح کے لیے جس پر بقول پولیس توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگا کر چند ملا مسیحی برادری کے گھر جلانے کے درپے ہیں ۔ اور کہیں کوئی ایک لفظ ملک میں تقریباً ہر دوسرے روز غیرت کے نام پر قتل ہونے والی ان خواتین کے لئے جن کے حقوق کا وعدہ آپ نے مغرب کو خوش کرنے کے لئے ایوان وزیر اعظم میں آسکر ، ایوارڈ یافتہ فلم دیکھنے کے بعد کیا تھا ۔اور کبھی کوئی جملہ ملک میں مذہب اور فرقے کی بنیاد پر ہونے والی ٹار گٹ کلنگ کے بارے میں جس میں بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں۔ اپنے اور اپنے خاندان کے لئے سو، ہزار الفاظ بولیں، سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کریں لیکن کبھی کہیں ایک لفظ اور ایک حکم ان بے چارے مظلوم عوام کے لئے بھی جن کا نام استعمال کر کے آپ جیسے حکمران اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو کر اندھے اور بہرے ہو جاتے ہیں ۔


Comments

FB Login Required - comments