چوہدری شجاعت حسین صاحب کا فیصلہ


یہ جو اپنے چوہدری صاحب یعنی چوہدری شجاعت حسین صاحب نے ضمنی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے یقین مانیے کہ یہ سراسر قومی مفاد میں کیا ہے۔ اور یہ بات ہم اتنے وثوق سے اس لئے کہہ رہے ہیں کہ اس بات کا اعلان چوہدری صاحب نے خود کیا ہے یہی کہ وہ یہ الیکشن قومی مفاد میں لڑ رہے ہیں۔ ویسے تو چوہدری صاحب لڑائی کے سخت خلاف ہیں اور نظریۂِ مِٹی پاؤ کے بانی ہیں مگر کیا کِیا جائے کہ کچھ سیاسی لوگ بغیر لڑائی لڑے چوہدری صاحب کو الیکشن میں کامیابی کی سند دینے پر تیار ہی نہیں ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کی تشفی کے لئے چوہدری صاحب نے ایک اور نظریہ بھی دے رکھا ہے اور وہ ہے ’روٹی شوٹی کھا کے جانا‘۔ روٹی کا مفہوم تو الیکشن لڑنے اور لڑانے والے تمام لوگ بخوبی سمجھتے ہیں مگر شوٹی کے مطالب و معانی سمجھانے کے لئے چوہدری صاحب کے دوستوں کو کافی محنت کرنا پڑتی ہے کیونکہ شوٹی کو سوٹی میں بدلنے کے لئے سُکی پُکی تبدیلی سے کام نہیں چلتا۔ چوہدری صاحب کے گھر کا دسترخوان اتنا وسیع ہے کہ بعض اوقات ہمسایوں کے گھر کو بھی مجبوراً دسترخوان کا حصہ بنانا پڑتا ہے۔

چوہدری صاحب اس سے پہلے بھی کئی بار الیکشن لڑ چکے ہیں اور جیت ہار کا سامنا کر چکے ہیں۔ کبھی وہ قومی اسمبلی کو رونق بخش چکے ہیں کبھی سینٹ میں رونق افروز ہو چکے ہیں۔ حتیٰ کہ چوہدری صاحب وزارتِ عظمیٰ کے عالیشان منصب پر بھی فائز رہ چکے ہیں مگر ایک مختصر عرصے کے لئے۔ یہ الگ بات ہے کہ چوہدری صاحب کی شخصیت سیاسی حوالے سے اتنی بھاری بھرکم ہے کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں وزارتِ عظمیٰ کا منصب کچھ ہفتوں کے لئے چوہدری صاحب پر فائز رہ چکا ہے۔ البتہ اس سے پہلے یہ قومی مفاد والی بات وارد نہیں ہوئی تھی۔ یہ تاریخ ساز بات اس الیکشن کہ جو ابھی واقع ہونے ہیں کے موقع پر ہی سامنے آ رہی ہے۔

چوہدری صاحب، مولانا فضل الرحمان کی طرح ایک نامی گرامی سیاستدان کے بیٹے ہیں اور دونوں خاندانی سیاستدان ہیں۔ دونوں خاندان پاکستانی سیاست میں اتنے الجھے ہوئے ہیں کہ خود پاکستانی سیاست اتنی الجھی ہوئی نہیں ہے۔ یہ الگ بات کہ دونوں ہی بہت سلجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔ دونوں میں کچھ اور مشترک باتیں بھی پائی جاتی ہیں مثلاً چوہدری صاحب الیکشن ہارنے کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور اسے ایک قومی سازش سے تعبیر کرتے ہیں۔ اِدھر اپنے مولانا بھی کچھ ایسی ہی سوچ رکھتے ہیں۔ وہ اپنے ہارنے کو عالمی سازش سے تعبیر کرتے ہیں۔ دونوں اپنے مخالفین سے اتحاد کرنے میں اتنی دیر بھی نہیں لگاتے جتنی ایم کیو ایم کے فاروق ستار اپنے اتحادیوں سے ناراض ہونے میں لگاتے ہیں۔ دونوں سیاست میں اتنے پرانے ہیں کہ اُن سے ذیادہ پرانے صرف قبلہ قائم علی شاہ صاحب ہی رہ جاتے ہیں۔ وہی قائم علی شاہ صاحب جو بچپن میں عمران خان کی باؤلنگ کے بہت بڑے مداح تھے۔

چوہدری صاحب کا نظریۂِ مِٹی پاؤ سیاستدانوں میں بہت مقبول ہؤا اور انہوں نے حتی المقدور اس کا زیادہ سے زیادہ استعمال کر کے عوام تک اس نظریہ کے ثمرات پہنچائے۔ لہٰذا ملکِ عزیز کی سڑکیں بازار اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ کسی نہ بہانے مسلسل مٹی پائی جاتی ہے۔ چونکہ ابھی تک کسی بڑے سیاستدان نے نظریۂِ مِٹی چُکو نہیں ایجاد کیا لہٰذا اس نئے نظریے کی ایجاد تک مِٹی چُکنے کا کام نہیں کیا جا سکتا۔ اب جبکہ چوہدری صاحب نے ضمنی الیکشن محض قومی مفاد کی خاطر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ چوہدری صاحب اس الیکشن میں کامیابی کے بعد نظریۂِ مِٹی چُکو کا اعلان کر دیں اور پھر ملک بھر کی گلیوں بازاروں میں پڑی مُٹی چُکنے کا کام شروع ہو سکے۔

مرزا کا خیال ہے کہ چوہدری صاحب اور مولانا کے خلاف اب کوئی اور سازش ہونے کی کنجائش نہیں ہے کیونکہ اب ہماری سیاست نہ تو قومی اور نہ ہی عالمی سازش کی متحمل ہو سکتی ہے۔ ویسے بھی چوہدری صاحب کے الیکشن جیتنے سے تمام سیاستدانوں کو فائدہ ہی فائدہ ہے۔ ایک تو چوہدری صاحب روٹی شوٹی کا انتظامکیے رکھیں گے اور دوسرے یہ کہ چوہدری صاحب کسی وزارت کے امیدوار ہر گِز ہر گِز نہیں ہوں گے چونکہ اس کا اعلان بھی انہوں نے ساتھ ہی کر دیا ہے تا کہ حاسدین اُن کی جیت میں محض اس لئے روڑے نہ اٹکائیں کہ کہیں چوہدری صاحب اُن کی وزارت ہی نہ ہتھیا لیں۔ البتہ ہم اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے کہ چوہدری صاحب کو اگر وزارت چُکنے میں قومی مفاد کا تھوڑا سا بھی چسکا نظر آیا تو وہ اس شجرِ ممنوعہ سے دور رہ سکیں گے۔

چوہدری صاحب اور مولانا دونوں ہی درویش طبع سیاستدان ہیں۔ چوہدری صاحب الیکشن ہارنے کے بعد گجرات چلے جاتے ہیں جبکہ مولانا بھی کوئی مستقل ٹھکانہ بنانے کو اپنی فقیرانہ طبیعت کے بر خلاف سمجھتے ہیں۔ لہٰذا وہ اسلام آباد میں ایک سرکاری گھر میں طویل عرصہ عارضی قیام کے بعد اسلام آباد میں ہی ایک دوست کے گھر عارضی طور پر شفٹ ہو رہے ہیں۔ مولانا کو اس بات کا یقین ہو یا نہ ہو مرزا کو پورا یقین ہے کہ جو سرکاری گھر مولانا چھوڑ کر جا رہے ہیں اُس کا دل مولانا کے بغیر بالکل بھی نہیں لگے گا اور بالآخر قومی مفاد میں مولانا کو دوبارہ اُس گھر میں ہی لانا پڑے گا چاہے مولانا کی درویشانہ طبیعت اس پر مائل ہو یا نہ ہو بالکل ایسے ہی جیسے چوہدری صاحب کو قومی مفاد میں یہ الیکشن جیت کر بادل نخواستہ وزارت قبول کرنا پڑے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں