بیجوں کی دنیا: ننھے منے دانے کھانوں میں کیا کمال دکھاتے ہیں؟

سلمیٰ حسین - ماہر طباخ، دہلی


پکوان،

Getty Images
کنول کا پھول دیکھنے میں خوبصورت ہوتا ہے لیکن اس کی جڑ اور بیج کا استعمال کھانوں میں کیا جاتا ہے

پھول ہمارے کھانوں کو خوشبودار بناتے ہیں تو ہرے بھرے ساگ کے پتے ہمیں تنومندی فراہم کرتے ہیں۔ جڑ میں پیدا ہونی والی سبزیاں دستر خوان کو متنوع بناتی ہیں لیکن بیج یہ ننے منھے دانے یہ کیا کرتے ہیں؟

آئیے آج ان ننے منھے بیجوں کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کریں کہ یہ کس طرح ہمارے کھانوں میں استعمال ہوتے ہیں اور ان کے طبی فوائد کیا ہیں کیا یہ بھی غذائیت سے بھرپور ہیں؟

سلمیٰ حسین کی دیگر تحریریں

کھانوں میں پھولوں کا استعمال

زعفران: رنگ و نور کا جادو

کھچڑی کے چار یار، قیمہ، پاپڑ، گھی، اچار

رائی، میتھی، زیرہ دھنیا، خشخاش۔ یہ وہ عام بیج ہیں جو روزمرہ کے کھانوں میں استعمال ہوتے ہیں لیکن کچھ اور بیج بھی ہیں جن کا استعمال محدود ہے۔ جیسے کلونجی، اجوائن اور سونف

کنول کا پھول اپنی تمام خوبصورتی کی بنا پر ہمارے ملک کا امتیازی پھول ہے۔ اس کی جڑ سے کھانے بنائے جاتے ہیں اور اس کا بیج جو مکھانا کہلاتا ہے عصرِ حاضر کا اہم جز ہے۔ سالوں پہلے مکھانے کا سالن بنایا جاتا تھا یا پھر کھیر لیکن عصرِ حاضر میں اس کا استعمال اس قدر عام ہے کہ ہر بازار میں مسالہ لگے مکھانے خوبصورت ڈبوں میں بند آپ کے منتظر ہیں۔

مکھانا کنول کے پھول کا بیج ہے اس لیے پھول مکھانا کہلاتا ہے۔ کنول کا پھول تال یا جھیل میں کھلتا ہے۔ اس لیے یہ تال مکھانا بھی کہلاتا ہے۔ ریاست بہار میں بسے ملاح بڑی محنت اور جانفشانی سے کنول کے بیج جمع کرتے ہیں اور پھر ان کے دھونے اور صاف کرنے کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے۔ دھل دھلا کر یہ سفید دانے سیاح نقطوں کے ساتھ بازار میں فروخت کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

مکھانے بدن میں پیدا ہونے والے برے کولیسٹرول سے نجات دلواتے ہیں۔ دل کو مضبوط اور قویٰ بناتا ہے۔ صبح کی چائے میں میدہ بھرے بسکٹ کے بجائے توے پر بھونے مکھانے کا استعمال اچھا نسخہ ہے۔ مکھانے ہندوستانی کھانوں میں سالن پلاؤ، کھیر وغیرہ بنانے کے کام آتے ہیں۔

فوڈ

Getty Images
کنول کی جڑ کی ترکاری بنتی ہے اور اس کے پھول کا بیچ مکھانے بھی شوق سے کھائے جاتے ہیں

میتھی دانہ ہندوستان میں سالہا سال سے اپنا سکہ جمائے ہے۔ حکایت ہے کہ اس کا اصلی وطن یورپ کا جنوبی علاقہ ہے لیکن کئی زمانوں سے یہ ہندوستان میں کاشت کیا جاتا ہے۔ سنسکرت زبان میں اس کا نام ‘میتھی کا’ ہے۔ ہندوستان کے مغربی صوبے راجستھان میں بکثرت کاشت ہوتا ہے۔

میتھی دانوں سے بھرا ڈبا ہندوستان کے ہر عام و خاص باورچی خانے میں موجود رہتا ہے۔ گاؤں ہو یا شہر میتھی دانہ دوسرے مسالحہ جات کے ساتھ رکھا پایا جاتا ہے۔

گو کہ بیج میں ہلکی سی تلخی ہوتی ہے پھر بھی اس کے طبی فوائد کے مدِنظر اس کا استعمال عام ہے۔ جوڑوں کے درد کا بہترین علاج ہے۔ دانے پھانک لیں اور یا پانی میں بھگو کر پی لیں۔

میتھی کے یہ ننھے بیج ہمارے کھانوں کی تیاری میں بھی کام آتے ہیں۔ اچانک مہمان کی آمد پر آلو میتھی کی سبزی اور گرما گرم چپاتی شرمندگی سے بچا لیتی ہے۔ راجھستان میں جہاں یہ بکثرت پایا جاتا ہے۔ میتھی کی لونج بڑے شوق سے کھائی جاتی ہے۔ میتھی دانے سے بڑے لڈو اور میتھی دانے کا سالن لوگوں کی خاص پسند ہے۔

میتھی دانے کے انکور سے بنائی سبزی جسم کو توانائی بخشتی ہے۔ میتھی دانہ معدنیات اور حیاتین سے مالا مال ہے اور ایک صحت مند زندگی کا ساتھی ہے۔

سرسوں

Getty Images
رائی بھی کھانوں میں خوب استعمال ہوتی ہے اور اس کے کالے دانوں سے تیل نکلتا ہے۔

رائی اور میتھی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ سرسوں کا کالا دانہ زمانہِ قدیم میں ‘راجیکا’ کہلاتا تھا۔

حکایت ہے کہ سرسوں کے یہ دانے بدروح یا پھر بیماری سے نجات پانے کا بہترین علاج تھے۔ ان دانوں سے نکالے گئے تیل کا ذکر 800 قبلِ مسیح میں بھی پایا جاتا ہے اور آج بھی عصرِ حاضر میں اس کا استعمال عام ہے۔ بیشترً ترکاریاں اسی تیل میں بنائی جاتی ہیں۔

بنگال اس تیل کے استعمال میں سب سے آگے ہے۔ وہاں مچھلی کے پکوان بھی اسی تیل میں تیار کیے جاتے ہیں۔

کھیتوں میں جب سرسوں پھولتی ہے تا حدِ نظر زرد قالین بچھا نظر آتا ہے۔ سرسوں کے لہلہاتے پودے ایک دلفریب منظر پیش کرتے ہیں۔ سالہا سال قبل جب جدید مشینوں کا رواج نہیں تھا ان بیجوں کا تیل کولہو کے بیل کی مدد سے نکالا جاتا تھا۔ آج بھی یہ تیل کچی گھانی کے تیل کے نام سے فروخت ہوتا ہے۔ رائی اور میتھی کے یہ دانے مفید اور قابلِ ستائش ہیں۔

اب زیرہ جو سب کو زیر کر دے۔

300 سال قبل مسیح زیرے کا ذکر کوٹلیہ کی کتاب میں پایا جاتا ہے۔ ہندوستانی کھانوں میں یہ ثابت یا پھر سفوف کی شکل میں استعمال ہوتا ہے۔

زیرہ قدرتی طور پر تین رنگوں میں پایا جاتا ہے۔ سفید، کالا اور سنہری۔

کالے زیرے کے دانوں کی مہلک لونگ، الائچی اور کالی مرچ کے ساتھ مل کر گرم مصالحے کو ایسی خوشبو فراہم کرتی ہے کہ پکوان مہک اٹھتا ہے۔ اسی لیے اسے شاہ زیرہ کہتے ہیں۔

گرمیوں میں اس کا پانی ‘جل جیرا’ سڑک پر لگی گاڑیوں میں فروخت ہوتا ہے اور دھوپ کی تپیش سے پریشان لوگ اسی سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ چونکہ اس میں لوہے کی خاص مقدار پائی جاتی ہے۔ یہ نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے اور مدافعتی نظام کی قوت کو بڑھاتا ہے۔

اس میں موجود وٹامن سی جلد کے امراض کو دور کرتا ہے اور اس کا بگھار کھانے کی اشتہا آور بناتی ہے۔

معمولی سا دہی کا رائتہ زیرے کی مدد سے مزیدار بن جاتا ہے۔ بھونے زیرے کی خوشبو رائتے کی جان ہے۔ ہندوستانی کھانوں میں یہ بڑے کام کی چیز ہے۔ زیرہ آلو یا پھر زیرے میں بگھارے چاول بڑے شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ مرغ کے ساتھ پکوان تیار کیا جائے تو وہ مرغن ہو جاتا ہے اور باآسانی تیار بھی ہو جاتا ہے۔

الغرض جیسا پہلے کہا کہ زیرہ سب کو زیر کرتا ہے۔

سرسوں کا کھیت

Getty Images
دور تک سرسوں کے کھیت میں کھلی جابجا سرسوں آنکھوں کو خوبصورت نظارہ دیتی ہے۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4854 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp