جناب وزیر اعظم۔۔۔ مریم بی بی سلامت رہیں۔۔۔


hashir ibne irshad“اس پر پھر بات کریں گے کہ جناب نواز شریف کے آج کے خطاب میں کیا کیا اعلی پھلجھڑیاں تھیں۔ یہ بھی پھر بتائیں گے کہ نصف صدی سے کاروبار کرنے والے تر دماغ انکم ٹیکس اور کارپوریٹ ٹیکس کا فرق کیوں نہیں سمجھتے۔ اس پر بھی کبھی بحث کر لیں گے کہ سوال گندم اور جواب چنا کیونکر تھا۔ اپوزیشن کی حماقتوں اور حکومتی عمال کی حیلہ سازیوں پر بھی کچھ لفظ کبھی لکھ ہی لیں گے پر میرا آج کا دکھ کچھ اور ہے۔ یاد ہے یہ ہمارے منتخب نمائندے آخری دفعہ کب یوں اکٹھے ہوئے تھے ؟ کب قوم اور ملک کے مسئلوں پر سب نے آخری دفعہ سر جوڑا تھا۔ کب سیاسی سکھیاں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے رقصاں ہوئی تھیں۔

 

بیس ماہ گزر گئے جب پارلیمنٹ کا گھیراؤ ہوا تھا۔ جنگلے ٹوٹے تھے۔ سپریم کورٹ کے باہر شلواریں ٹنگی تھیں اور اچانک ہماری اس پارلیمنٹ کو جسے کبھی نیشنل ایکشن پلان پر بحث کی توفیق نہیں ہوئی تھی ملک میں سیکیورٹی کا بحران نظر آنا شروع ہو گیا تھا اور پھر سب پارلیمنٹ کے تحفظ کی قسمیں کھانے اکٹھے ہوئے تھے۔ آج یہ شریف خاندان کے تحفظ کی قسمیں کھانے اکٹھے ہوئے ہیں۔ مجھے ان دونوں وفاداری برانڈ اجتماعات سے کوئی مسئلہ نہیں پر مجھے اس بات پر تو دکھی ہو لینے دیں کہ غربت، جہالت، لاقانونیت، بھوک اور بیماری سے بلکتے عام لوگوں سے بھی وفاداری کے لئے کبھی سب اکٹھے ہوں گے؟ کبھی ان کے سات سوال بھی کوئی لکھے گا ؟ کبھی ان کے تئیس سالوں کا حساب بھی کوئی دے گا؟

 

مکول کی عنبرین پر کبھی قومی اسمبلی میں بحث ہو گی۔ کبھی مظفر گڑھ کی آمنہ کا جھلسا جسم کسی قرارداد کے پیرہن سے ڈھکا جائے گا۔ لیہ کی تیس لاشیں کبھی پوائنٹ آف آرڈر بنیں گی۔ کوئی اسٹینڈنگ کمیٹی کبھی تھر کے سسکتے بچوں پر آواز اٹھائے گی۔ یا بس یہ پارلیمنٹ ایک انجمن ستائش باہمی بنی رہے گی۔ چودہ ماہ اور بیس ماہ بعد انہیں ملنا یاد آئے گا تو اپنے اپنے مفاد کی ٹوکریوں کا تبادلہ کرنے کے لئے ہی یا کبھی انہیں پارلیمنٹ اور ڈی چوک کے باہر کی دنیا بھی دکھائی دے گی۔ بیس ماہ پہلے جب ایسا ہی ایک اجتماع ہوا تھا تو کچھ لفظ نوک قلم سے ٹپکے تھے اور خون ناحق کی طرح کاغذ پر جم گئے تھے۔ سوچا تھا کہ شاید امید کی کوئی برسات انہیں کبھی دھو ڈالے گی پر بارش روٹھ ہی گئی ہے۔ وہی پرانے لفظ آپ کی نذر ہیں۔ انہیں پڑھیں اور بتائیے کیا کچھ بدلا ہے۔ کیا کچھ بدلے گا؟۔۔۔ “

واہ جناب واہ۔ اتنے خدّام ادب ایک جگہ یک زبان، یک آواز، یک رنگ… سچ ہے کہ مقصد عظیم ہو تو چھوٹے موٹے اختلافات سے صرف نظر تو کرنا بنتا ہے. یوں بھی روز روز یہ موقعہ کہاں ملتا ہے۔ چودہ ماہ کی جدائی کے بعد ملاقات ہو تو صدقے دلارے نہ جایئں تو اور کیا کریں ہاں یہ ہے کہ بیچ میں کچھ بیوقوفوں کے منہ سے واہی تباہی بھی نکل جاتی ہے پر کیا فرق پڑتا ہے کھڑے تو آپ ہی کے ساتھ ہیں چاہے مجبوراً ہی سہی

 یہ اکٹھ نہ دیکھتا تو زندگی بھر پچھتاتا۔ ایک ہی نشست میں اتنے اقوال زریں۔ اتنے انکشافات اور اعلی ظرفی اور بے لوثی کے ایسے مظاہرے۔ بارہ مصالحے کی ایسی چاٹ بھلا کس میلے میں ملے گی بھائی

آج پتا لگا کہ دہشت گردی کے لیے لائٹ مشین گن، بارودی سرنگوں اور کلاشنکوف سے بڑھ کر بھی ایک ہتھیار ہے۔ بچپن سے خوامخوا گیند واپس نہ کرنے والے محلے داروں کے شیشے توڑنے اور پرندے مارنے کی انتہائی ناکام کوشش میں اس عظیم تکنیکی ہتھیار کا غلط استعمال کیا. چودھری صاحب سے پہلے رسم و راہ ہوتی تو محلے کے بچوں کو اکٹھا کر کے اپنی کوئی عسکری تحریک ہی شروع کر لیتے؛ غلیل تو سب ہی کے پاس ہوتی تھی.. کسی نے کہا تھا کہ اصل سائنسی ترقی ایجادات کی نہیں دریافت کی مرہون منّت ہوتی ہے. اور دریافت بھی اکثر استعمال کا ہوتا ہے، چیز تو پہلے ہی موجود ہوتی ہے. تو جناب میں آپ کے صدقے، غلیل موجود تو تھی پر خلیل میاں صرف فاختائیں اڑاتے تھے۔ اب دریافت ہوا کہ غلیل کا اصل استعمال دہشت گردی ہے. ذرا آپریشن ضرب عضب ختم ہو لے پھر دیکھیے گا، شمالی وزیرستان کی خفیہ سرنگوں سے ہزاروں غلیلوں کی کھیپ برآمد نہ ہوئی اور بجلی کا مسئلہ چھ ماہ میں حل نہ ھوا تو میرا نام بدل دیجیے گا۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے سبزہ زاروں میں بیٹھے ان انتہائی خطرناک گھس بیٹھیوں، باغیوں اور دہشت گردوں کا جلد علاج کیجے. اور حضور مسئلہ صرف غلیلوں کا نہیں ہے، میں نے ان گنہگار آنکھوں سے ان کے پاس پتیلیاں، کڑچھے، چمچ، جلانے والی لکڑیاں، ماچسیں، کپڑے اور برتن دھونے کے صابن، یہ بڑے بڑے شاپر اور انواع و اقسام کے جوتے دیکھے ہیں۔ اتنے مسلّح ہجوم سے نمٹنا شاید پولیس کے بس کی بات نہ ہو. یہ کار مشکل فوج ہی سے کرایا جاے تو بہتر ہو گا. یوں بھی پولیس کی قیادت ہر گھنٹے بعد بدل جاتی ہے۔ اچھی خاصی کنفیوژن ہے۔ کہیں پھر کچھ کا کچھ نہ ہو جاے

دیکھئے بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ میرا ارادہ تو صرف تقریروں پر بات کرنے کا تھا۔ کیا کیا موتی پروے گئے ان تقریروں میں۔ مولانا صاحب کی تقریر پر تو میں آب دیدہ ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ اگلے وقتوں کے وفا کے یہ پیکر، جمہوریت کے محافظ اب کہاں نظر آتے ہیں۔ ایسے بے ریا اور مخلص لوگ جنہوں نے زندگی بھر کبھی آمریت کا ساتھ دیا نہ کبھی پرمٹوں کی پرواہ کی۔ ہمیشہ وزارتوں کو جوتے کی نوک پر رکھا، اپنی تمام عمر حزب اختلاف میں گزاری۔ کشمیر کمیٹی ہو، اسلامی نظریاتی کونسل ہو، وزارت اعلی ہو یا وزارت سیاحت ہو، کوئی لالچ، کوئی ترغیب، کوئی چمک ان کے پایے استقلال میں جنبش نہ لا سکی۔ جوڑ توڑ کی سیاست سے نفرت کرنے والے، اپنی جماعت میں عظیم جمہوری قدرروں کے علمبردار، اسلامی تشخص کے نام لیوا، فرقہ وارانہ گروہ بندی کے ناقد ایسے مرد مجاہد کا تو ہر لفظ ڈیزل میں، معاف کیجیے گا، سونے میں تولا جانا چاہیے۔ جہاں آج انہوں نے محض اصولوں کی خاطر جناب والا تبار کے استعفے کی ڈٹ کر مخالفت کی وہیں ان کی تقریر کا نکتہ عروج وہ تھا جب رقّت آمیز لہجے میں انہوں نے معزز ایوان کو بتایا کہ مغرب کی عریانی اور فحاشی کا بھی ایک میعار ہوتا ہے لیکن دھرنوں میں تو وہ میعار بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا تاہم انہوں نے اس میعار کے محاسن پر روشنی ڈالنے سے گریز کیا تاہم ان کی تقریر کے بعد پی ٹی اے نے یو ٹیوب اور فحش سائٹس کے ساتھ ساتھ دھرنوں کی تمام ویڈیوز بھی بلاک کر دی ہیں تاکہ قوم کے نوجوانوں کا اخلاق محفوظ رکھا جا سکے. سنا ہے مولانا نے وعدہ کیا ہے کہ اگلے سیشن میں وہ مغربی عریانی کے اصولوں پر سیر حاصل گفتگو کریں گے

اعتزاز صاحب نے البتہ تھوڑی سی زیادتی کی۔ بہتے جھرنوں سے شفاف انتخابات کو دھاندلی زدہ کہنا، پھر درویش منش وزیروں پر رعونت اور تکّبر کے الزامات اور تو اور باغی دہشت گردوں کے اکثر مطالبات کو درست قرار دے کر انہوں نے اپنی دانشوری پر ایک سوالیہ نشان کھڑا کر لیا ہے۔ اکثر حکومتی وزرا بعد میں پوچھتے ملے کہ یہ تقریر حکومت کے حق میں تھی یا مخالفت میں تاہم اس کا کوئی ٹھوس جواب نہ مل سکا. جناب کی تقریر سے یہ بھی عیاں تھا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں بہنے والی دودھ اور شہد کی نہروں، انصاف کے اعلی میعار، کرپشن کی مکمّل بیخ کنی، بجلی کی مسلسل فراہمی اور عوام کی عظیم فلاح کے اچانک غائب ہو جانے کا انھیں بہت دکھ ہے اگرچہ انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ خیر اس عمر میں یادداشت تھوڑی متاثر ہو ہی جاتی ہے

میں حقیر فقیر پر تقصیر جو انہی عوام میں سے ہے جنہیں اچکزئی صاحب جپسی سمجھتے ہیں۔ جن کے پاؤں ریڈ زون کے ادھر رکھے جایئں تو قلم کر دیے جاتے ہیں. جن کی ایک ایف آئ آر مہینوں درج نہیں ہوتی۔ جو انصاف کے لئے تھانوں اور عدالتوں میں عمر گنوا بیٹھتے ہیں۔ جو ہاری ہیں، مزارعے ہیں، مزدور ہیں، کمی ہیں، کمین ہیں، کیڑے ہیں، مکوڑے ہیں، خاک نشین ہیں، سی این جی کی قطاروں کے گزیدہ ہیں، جو بجلی کے بل بھی دیتے ہیں اور پورا ٹیکس بھی، جن کا کوئی قرضہ کوئی معاف نہیں کرتا، انہی عوام کی طرف سے اگر جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ حضور آپ کا اقتدار سلامت، ذرا آپ جمہوریت، آئین اور پارلیمنٹ بچا لیں تو ایک سیشن اس لئے بھی کر لیجئے گا کہ آج بھی آپ کی چھتر چھایا تلے اس ملک میں جب ایک بیٹی جس کا نام مریم نہیں ہے جس کا نام بختاور نہیں ہے، جب سر عام پامال ہونے کے بعد آپ کے “نوٹس” لینے کے بعد در بدر بھٹکتی، انصاف کی تلاش میں ناکام ہو کر بیچارگی میں جب اپنے آپ کو آگ لگا لیتی ہے تو اس کو بچانے کا ذمہ دار کون ہے۔… خدا آپ کی بیٹیاں سلامت رکھے۔۔۔۔ بھاگ لگے رہن

 


Comments

FB Login Required - comments

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 44 posts and counting.See all posts by hashir-irshad