اپوزیشن پارلیمنٹ سے فرار کیوں ہوئی؟


mujahid aliقومی اسمبلی میں وزیراعظم کی تقریر اور پاناما لیکس کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے کے بعد امید تھی کہ ملک میں جاری قومی سیاسی بحران کم ہو گا اور ایوان میں مختلف سیاسی گروہ اپنے اختلافات کا اظہار کر کے کسی نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم اپوزیشن کے اچانک واک آﺅٹ اور وزیراعظم کے دلائل کو مسترد کرنے کے رویہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں باہمی انتشار اور اختلاف رائے کو چھپانے کے لئے ایوان میں بحث سے گریز کر رہی ہیں اور ایوان کے باہر میڈیا کے سامنے یک طرفہ طور سے اپنا موقف پیش کر کے سیاسی دباﺅ برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ اپوزیشن کا یہ اختلاف یوں بھی واضح ہوتا ہے کہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ تو بدستور سات سوالوں کا جواب مانگنے پر اصرار کر رہے ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا موقف ہے کہ سوال جواب سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ٹرمز آف ریفرنس TORs کے لئے اتفاق رائے کرنا چاہئے تا کہ تحقیقاتی کمیشن قائم ہو اور معاملات کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اس حوالے سے بدستور غیر یقینی کا شکار ہیں۔ گزشتہ دنوں ان کی ایک آف شور کمپنی کا قضیہ سامنے آنے کے بعد وہ مسلسل دفاعی پوزیشن میں ہیں۔ یہ درست ہے کہ حکومت کے نمائندوں نے اس معاملہ کو لے کر عمران خان پر تند و تیز تنقید کی ہے اور انہیں آف شور کمپنی بنانے والوں کا لیڈر تک قرار دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے طلال چوہدری نے آج کا اجلاس شروع ہونے سے پہلے کہا کہ وزیراعظم کا تو نام کسی آف شور کمپنی کے حوالے سے موجود نہیں ہے۔ لیکن عمران خان آف شور کمپنی کے مالک رہے ہیں، اس لئے اب نئے قواعد میں ان کی تحقیقات کرنے کی بات کی جائے گی۔ اس قسم کے بے سروپا الزامات کو عمران خان کی طرف سے سنجیدگی سے لیتے ہوئے اپنے معاملات کی وضاحت کرنے اور یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وزیراعظم بھی اسی طرح لندن کے فلیٹس کی خریداری اور قیمت کے حوالے سے واضح موقف اختیار کریں اور دستاویزات پیش کریں۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے براہ راست پاناما پیپرز کے حوالے سے گفتگو کی۔ ان کا لب و لہجہ جارحانہ تھا اور انہوں نے نام لئے بغیر عمران خان کو کئی بار تنقید کا نشانہ بنایا۔ اور کہا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دوسرے گناہوں میں تربتر ہیں لیکن وہ خود نیک اور پارسا ہیں۔ انہوں نے دریافت کیا کہ ایسے لوگ مناسب سمجھیں تو ایوان کو بتا دیں کہ وہ شاہانہ زندگی گزارنے کے لئے کہاں سے وسائل حاصل کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے غیر ضروری طور پر عمران خان کے فلاحی اداروں کا بالواسطہ حوالہ بھی دیا اور جتایا کہ انہوں نے بطور وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب بہت سے اداروں کو مفت قطعات اراضی اور دیگر مالی مراعات دی ہوں گی۔ لیکن شریف خاندان نے اتفاق اسپتال اور شریف کمپلیکس جیسے فلاحی ادارے قائم کرنے کے لئے نہ ایک انچ زمین مفت لی ہے اور نہ ہی سرکاری محاصل میں کوئی رعایت حاصل کی ہے۔ اپوزیشن کے الزامات مسترد کرنے اور جوابی الزامات لگانے کے باوجود وزیراعظم نے سیاسی بحران کو حل کرنے کے لئے اپوزیشن کی مشاورت سے کمیٹی بنانے کی تجویز دی ہے۔ یہ کمیٹی باہمی بات چیت کے ذریعے تحقیقاتی کمیشن کے لئے ٹی او آرز تیار کرے گی۔ نواز شریف نے اپوزیشن کے قواعد کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی اصول کی بنیاد پر استوار نہیں ہیں بلکہ ان کا محور وزیراعظم کی ذات بلکہ ذاتی طور پر نواز شریف ہے۔ انہوں نے ایوان سے اپیل کی کہ وہ ملک میں احتساب کا نیا نظام استوار کرنے کے لئے مشاورت کرے تاکہ احتساب کے موجودہ نظام میں جو نقائص ہیں، انہیں دور کیا جا سکے۔

یہ درست ہے کہ وزیراعظم نے قومی اسمبلی کے طویل خطاب میں ان سب سوالوں کا جواب نہیں دیا جو اپوزیشن کی طرف سے اٹھائے گئے تھے۔ لیکن وہ سوالات مختلف اخباری خبروں اور بیانات کے حوالے سے لندن میں شریف فیملی کے فلیٹس کی خریداری سے متعلق اصل تاریخوں کا تعین کرنے کے لئے تھے۔ یا ان میں یہ پوچھا گیا ہے کہ یہ وسائل کہاں سے آئے اور انہیں ملک سے باہر کیسے روانہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ وزیراعظم سے ان کی آمدنی اور ٹیکس کی تفصیلات مانگی گئی تھیں۔ اپوزیشن سمیت کوئی شخص یہ توقع نہیں کر رہا تھا کہ وزیراعظم قومی اسمبلی کے فلور سے ان تفصیلات کو بیان کریں گے۔ لیکن انہوں نے اپنے مالی معاملات کے حوالے سے بعض بنیادی اعتراضات کا جواب ضرور دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 1972 کو اتفاق فاﺅنڈریز کو نیشنلائز ہونے کے بعد دیگر سرمایہ داروں کی طرح ان کے والد میاں محمد شریف کو اپنے مالی مستقبل کے بارے میں خدشات لاحق ہوئے۔ اس لئے انہوں نے متحدہ عرب امارات میں اسٹیل فیکٹری لگائی۔ اسی فیکٹری کو فروخت کر کے جلا وطنی کے دور میں سعودی عرب میں اسٹیل مل لگائی تھی۔ اس فیکٹری کو 2005 میں ساڑھے سترہ ملین ڈالر میں فروخت کر دیا گیا۔ نواز شریف کا موقف تھا کہ لندن کے فلیٹ خریدنے کے لئے وسائل اسی سرمایہ کاری سے فراہم کئے گئے تھے اور پاکستان سے کوئی پیسہ منتقل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 20 برس میں ان کے خاندان کے تجارتی اور صنعتی اداروں نے ملکی خزانے کو دس ارب روپے ٹیکس ادا کیا ہے جبکہ انہوں نے خود تین کروڑ 60 لاکھ روپے ٹیکس دیا ہے۔ اس طرح بیرون ملک سرمایہ کاری کے حوالے سے وزیراعظم نے کچھ معلومات ضرور فراہم کی ہیں۔ اس میں یہ جواب بہرطور آنا باقی ہے کہ ان کا خاندان 70 کی دہائی میں متحدہ عرب امارات میں فیکٹری لگانے کے لئے سرمایہ کیسے ملک سے باہر لے کرگیا تھا۔ اس کے علاوہ یہ سرمایہ نواز شریف کے والد کا تھا۔ اس میں دیگر بھائیوں اور اہل خاندان کو بھی حصہ ملا ہو گا۔ جبکہ لندن کا کاروبار اور فلیٹ صرف نواز شریف خاندان کی ملکیت ہیں۔

اپوزیشن اگر اس ممکنہ صورتحال کے لئے تیار ہو کر ایوان میں آتی تو وہ وزیراعظم کی تقریر سے اٹھنے والے سوالوں کو پیش کرکے ایوان میں ہی جواب طلب کر سکتی تھی یا نواز شریف کی تقریر میں موجود خامیوں کا حوالہ دے کر نیا موقف بیان کر سکتی تھی۔ اس تقریر کے بعد کوئی بات کئے بغیر اچانک ایوان سے واک آﺅٹ، شکست خوردہ طرز عمل ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں نہ تو ہوم ورک کرتی ہیں اور نہ ہی ان میں ویسا باہمی اشتراک موجود ہے جو وہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ خورشید شاہ اور اعتزاز احسن ایک بات کرتے ہیں، عمران خان دوسری اور جماعت اسلامی تیسری…. اس طرح معاملات کو سلجھانے کی بجائے الجھانے کا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں شیخ رشید جیسے لوگ مکمل کنفیوژن پیدا کرنے اور حکومت کو تنہا اور کمزور کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہیں۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے آج کے واک آﺅٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ ہم ایوان میں باتیں کر کے وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے بلکہ میڈیا کے ذریعے عوام سے براہ راست مخاطب ہونا چاہتے ہیں۔ یہ طرز عمل منفی اور ناقابل قبول ہے۔ عوام ووٹ دے کر ان لوگوں کو اس لئے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں کہ تمام اہم امور پر وہاں بات کی جائے اور معاملات طے کئے جائیں۔ ایوان میں بات کرنے کو وقت کا ضیاع قرار دینا کسی پارلیمنٹرین اور خاص طور سے اپوزیشن لیڈر کو ہرگز زیب نہیں دیتا۔

وزیراعظم کی تقریر میں مسئلہ حل کرنے کے لئے ٹھوس تجویز پیش کی گئی ہے۔ حکومت بالآخر عدالتی کمیشن کے ضوابط یا ٹی او آرز TORs کی تیاری کے لئے اپوزیشن سے بات کرنے پر آمادہ ہے۔ اپوزیشن کو فوری طور سے اس تجویز کو قبول کر لینا چاہئے تھا کیونکہ چند مزید دن خراب ہونے اور سخت سست باتیں کرنے کے بعد بالآخر سب سیاسی پارٹیوں کو یہی راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ آج حکومت کی طرف سے یہ پیشکش کی گئی تھی کہ وزیراعظم اپوزیشن کی تقریروں کے دوران ایوان میں موجود رہیں گے اور سب سوالوں کے جواب دیں گے۔ بس پارلیمانی لب و لہجہ اختیار کیا جائے۔ اپوزیشن نے وزیراعظم سے براہ راست سوال کرنے کا یہ اہم موقع ضائع کر کے اپنی پوزیشن خراب کی ہے۔

پاکستان کو خارجی اور داخلی محاذ پر گوناں گوں مسائل کا سامنا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے لئے کسی بھی سوال پر بات چیت کی بجائے تصادم کا راستہ اختیار کرنا مناسب نہیں ہے۔ یہ رویہ دراصل قومی مسائل سے روگردانی اور اپنی ذمہ داریوں سے انحراف کے مترادف قرار پائے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 417 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali