قصہ اسد عمر کے امریکہ کو منہ توڑ جواب اور گھوڑے سے گرنے کا


گزشتہ دنوں تحریک انصاف کے انشا اللہ وزیر خزانہ جناب اسد عمر صاحب نے ملکی خزانے کی پریشان کن صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ 12 ارب ڈالر، جو تقریباً 15 کھرب روپے بنتے ہیں، مانگنے کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے۔ آئی ایم ایف کو سب سے زیادہ رقم امریکہ فراہم کرتا ہے۔ یہ خبر پڑھ کر امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے فوراً کہا کہ خبردار، ہم آئی ایم ایف کی دیکھ رہے ہیں، ہم آئی ایم ایف اور امریکہ کے ڈالروں کو چینی قرضہ اتارنے کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

چینی وزیر خارجہ کے ترجمان گنگ شوانگ کو یہ خبر ملی تو انہوں نے کہا کہ میاں پومپیو، آئی ایم ایف کے اپنے قاعدے قانون ہیں اور وہ خود ہی معاملے کو دیکھے گا، تم چپکے بیٹھے رہو۔
اس پر آئی ایم ایف نے کہا کہ بھائیو، ابھی تو ایس کوئی درخواست موصول ہی نہیں ہو رہی ہے، تم کس چیز پر لڑ رہے ہو؟

آئی ایم ایف والے لحاظ دار لوگ ہیں، ورنہ ایسی صورت حال پر چرچل نے تو یہ کہہ دیا تھا کہ ہم اس چیز پر ہمیشہ بھروسا کر سکتے ہیں کہ امریکی ٹھیک لائحہ عمل اختیار کریں گے، اور وہ صرف اس وقت ایسا کریں گے جب وہ تمام دوسرے لائحہ عمل اختیار کر کے تھک ہار جائیں۔

مائیک پومپیو سمجھ رہے ہوں گے کہ ابھی بھی ادھر نواز شریف کی حکومت چل رہی ہے اور اسحاق ڈار وزیر خزانہ ہیں، ان کو جتنا جی چاہے ڈانٹ لو، وہ چپ کر کے سن بھی لیں گے اور مان بھی لیں گے۔ ہمیں حیرت ہے کہ ویسے تو پاکستان میں ہر پتہ بھی سی آئی اے ہلاتی ہے مگر اس نے مائیک پومپیو کو یہ نہیں بتایا کہ اب نیا پاکستان بن چکا ہے اور امریکہ کا پالا اب اسحاق ڈار سے نہیں بلکہ اسد عمر سے پڑے گا جو اپنے قائد عمران خان کی طرح نہ ڈرتے ہیں اور نہ جھکتے ہیں۔

اسد عمر نے فوراً منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت پاکستانی کے چینی قرضوں کے فکر مت کرے، اپنے چینی قرضوں کی کرے۔ ہم اپنے قرضوں کی فکر خود کر لیں گے، آپ کو دبلے ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم چھے مہینوں میں فیصلہ کر لیں گے کہ یہ قرضہ کیسے اتاریں، آئی ایم ایف یا دوست ممالک سے پیسہ پکڑیں یا سمندر پار پاکستانیوں کو بانڈ بیچ دیں۔

اسد عمر نے امریکہ کو ایسا آئینہ دکھایا ہے کہ اب مائیک پامپیو منہ چھپاتے پھر رہے ہوں گے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ پاکستان پر کل بیرونی قرضہ کوئی 90 ارب ڈالر ہے۔ جبکہ امریکہ کا بیرونی قرضہ 63 کھرب ڈالر ہے جس میں سے تقریباً 12 کھرب ڈالر تو صرف چین کا ہی قرضہ چکانا ہے۔

چین جس دن امریکی بدمعاشی سے عاجز آیا، اس نے سر چڑھ کر امریکہ سے اپنا ادھار واپس مانگ لینا ہے اور اس کے ساتھ ہی امریکی معیشت دھڑام سے زمین پر آن گرے گی۔ یہ ٹھیک ہے کہ چین کی اپنی معیشت کا بھی یہی حال ہو گا مگر جب بات عزت پر آن پڑے تو کون پروا کرتا ہے کہ اپنا کتنا نقصان ہو گا۔ اور چینی نہایت ہی عزت دار قوم ہیں۔

چین بتا بھی چکا ہے کہ پاکستان کی اس کے نزدیک وہی حیثیت ہے جو امریکہ کے لئے اسرائیل کی۔ اب امریکی وزیر خارجہ کہتا ہے کہ میں آئی ایم ایف پر حکم چلاؤں گا اور پاکستان کو قرضہ نہیں دینے دوں گا کہ وہ چین کو پیسے دے دے، تو چین امریکہ سے کہے گا کہ نکالو میرے 12 کھرب ڈالر، میں خود پاکستان کو دے دوں گا۔

اب امریکہ کو یہ احساس ہوا ہے کہ اسد عمر نہایت دلیری سے اس کی معیشت تباہ کر سکتے ہیں تو وہ اپنے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ آپ کو علم ہو گا ہی کہ جب مرد مجاہد جنرل ضیا الحق نے ارادہ کیا تھا کہ ایک سپر پاور سوویت یونین سے دنیا کو نجات دلانے کے بعد دوسری سپر پاور امریکہ کو بھی خاک میں ملا دیا جائے تو ان کا امریکی ساختہ سی ون تھرٹی اچانک گر گیا تھا۔ اب خبر ملی ہے کہ اسد عمر بھی اپنے گھوڑے سے گر گئے ہیں۔ کہیں یہ امریکی سازش تو نہیں ہے؟ گھوڑے کا شجرہ دیکھا جانا چاہیے کہ سی ون تھرٹی کی طرح وہ بھی امریکی نسل کا تو نہیں ہے؟

اسد عمر کی خاص حفاظت کی جانی چاہیے۔ ہماری مانیں تو ان کا صدقہ دیا جائے اور ان پر کالی دال مل کر جادو ٹونے سے ان کو بچایا جائے۔ اور کوئی بھی گھوڑا یا گاڑی ان کو دینے سے پہلے یہ یقینی بنایا جائے کہ وہ امریکی ساختہ نہ ہو بلکہ میڈ ان چائنہ ہو۔ امریکی نئے پاکستان سے ڈر چکے ہیں اور گھبراہٹ میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1038 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar