امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں


ٹرمپ

Reuters
ایران پر امریکی پابندیاں کا پہلا مرحلہ پیر کی رات سے نافذ ہو جائے گا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ نیا ایٹمی معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر رہا ہے۔

پیر کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا: ’میں ایک نئے معاہدے کے لیے تیار ہوں جس میں ایرانی حکومت کی تمام منفی سرگرمیوں کا مکمل احاطہ کیا گیا ہو، جس میں اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام اور دہشت گردی کی پشت پناہی شامل ہیں۔‘

ایران پر امریکی پابندیاں کا پہلا مرحلہ پیر کی رات سے نافذ ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

ایران کے لیے ٹرمپ کا موقف سخت کیوں؟

ٹرمپ کی دھمکی کے باوجود ایران کا میزائل تجربہ

امریکہ نے صدر ٹرمپ کے پیش رو براک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ ایک چھ ملکی ایٹمی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ایران نے اپنا ایٹمی پروگرام معطل کر دیا تھا جس کے عوض اس پر عائد پابندیاں اٹھا دی گئی تھیں۔

تاہم صدر ٹرمپ ابتدا ہی سے اس معاہدے کے خلاف رہے ہیں اور انھوں نے مئی میں اس معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے کا اعلان کیا تھا جس پر یورپی ملکوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔

یہ معاہدہ ایران، امریکہ، جرمنی، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے درمیان طے پایا تھا جس کا مقصد ایران کو ایٹمی بم بنانے (جسے ایران مسترد کرتا آیا ہے) سے روکنا تھا۔

امریکہ کے علاوہ اس معاہدے میں شامل دیگر ممالک کا خیال ہے کہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کا یہی بہترین راستہ ہے۔

یورپی ممالک سمجھتے ہیں کہ اگر امریکی پابندیاں لگ جاتی ہیں تو انھیں اربوں ڈالر کے کاروبار کا نقصان ہو گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5752 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp