ملک کو درپیش چینلجز اور انتخابی نتائج۔ جنگ میں نہ چھپ سکنے والا کالم


24 جولائی کو لکھے اور 25 جولائی (انتخابات والے دن) روزنامہ جنگ میں ”انتخابات کے ممکنہ نتائج ‘‘ کے زیرعنوان شائع ہونے والے کالم کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا گیا تھا کہ:
” میری صحافتی زندگی میں یہ پہلا الیکشن ہے کہ جس کی شفافیت سے متعلق ایک نہیں، دو نہیں، تین نہیں بلکہ سوائے ایک کے باقی سب پارٹیاں سوالات اٹھارہی ہیں اور یہ پہلا الیکشن ہے کہ جس کے انعقاد سے قبل سوائے ایک کے باقی سب بڑی جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ انتخابات متنازعہ ہوگئے ہیں یا ہورہے ہیں۔ غلطی مسٹر الف کی ہے یا مسٹر جیم کی، سیاسی جماعتوں کی ہے یا اداروں کی لیکن یہ حقیقت ہے کہ اگلے انتخابات ابھی سے متنازعہ ہوگئے ہیں اور یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ صرف مسلم لیگ(ن) نہیں بلکہ پیپلز پارٹی، اے این پی، ایم ایم اے، بلوچستان کی پختون اور بلوچ قوم پرست جماعتیں اور ایم کیوایم وغیرہ بھی انتخابات کے بعد انتخابی عمل اور نتائج کے حوالے سے سوال اٹھائیں گی۔

اگر ان جماعتوں کو حسب توقع نتائج نہ ملے اور پی ٹی آئی کے حق میں پلڑا ایک حد سے زیادہ بھاری ہوگیا تو اس بات کا قومی امکان ہے کہ یہ سب جماعتیں مل کر یا پھر سوائے ایک دو کے، نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاج کا راستہ اپنالیں۔ واضح رہے کہ پختون تحفظ موومنٹ کا مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ وقتی طور پر دب گیا ہے اور غالب امکان یہ ہے کہ انتخابات کے بعد وہ ایک بار پھر پوری قوت کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ راؤ انوار کی رہائی نے اس تحریک کو مزید مواد فراہم کردیا جبکہ حنیف عباسی کے خلاف ظالمانہ فیصلے کے بعد تو راولپنڈی میں بھی اسی طرح کے نعرے لگے جس طرح کہ پی ٹی ایم کے جلسوں میں لگتے ہیں۔ مجھے تو یہ بھی خطرہ محسوس ہورہا ہے کہ شاید عدلیہ کے اندر سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی جیسی آوازیں بھی مزید اٹھ سکتی ہیں۔

علاقائی اور بین الاقوامی چینلجز اور بدترین معاشی صورت حال تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان میں ایک مستحکم حکومت ہو لیکن انتخابات کے اسی طرح متنازعہ رہ جانے کی صورت میں مستحکم حکومت تو دور کی بات ہے، پاکستان مکمل سیاسی انارکی کی طرف جاسکتا ہے۔ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان کے اندر اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہو لیکن اگر انتخابات متنازعہ ہوگئے تو اداروں کے مابین تناؤ، ٹکراؤ میں بدل سکتا ہے اور یہ اس ملک کی بڑی بدقسمتی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ حلقے ان انتخابات کے بارے میں پرامید نہیں بلکہ تشویش میں مبتلا ہیں۔ ہم کچھ کرنہیں سکتے صرف دعا ہی کرسکتے ہیں تو آئیے سب دعا کرتے ہیں کہ میرا یہ تجزیہ سراسر غلط ثابت ہو اور ان انتخابات سے ملک کے لئے کوئی اچھا نتیجہ نکلے۔ ‘‘

افسوس کہ میری دعا قبول نہ ہوئی اور میرا تجزیہ درست ثابت ہوا۔ انتخابات متنازعہ بن گئے اور افسوس کہ ہمارے خدشات سے بھی زیادہ متنازعہ بن گئے۔ میں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی، اے این پی، ایم ایم اے، نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور ایم کیوایم کو نتائج تسلیم کرنے میں تامل ہوگا لیکن یہ تو میں نے بھی نہیں سوچا تھا کہ الیکشن والے دن ایسا کچھ ہوگا کہ پاک سرزمین پارٹی، جی ڈی اے اور لبیک تحریک جیسی جماعتیں بھی دھاندلی کا رونا روئیں گی۔

یہ خدشہ میں نے ظاہر کیا تھا کہ ہارنے والی جماعتیں شکایت کریں گی لیکن یہ تو وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ الیکشن والے دن بھی ایسا کچھ ہوگا کہ جس کے نتیجے میں مولانا فضل الرحمان جیسے مصلحت پسند انسان بھی اس قدر برہم ہوجائیں گے اور اکلوتے بیٹے کو پاکستان کے لئے شہید کرنے والے عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتخار حسین بھی ملکی اداروں کا نام لے کر شکایت کریں گے کہ وہ ہارے نہیں بلکہ ہرائے گئے ہیں۔ میں نے مذکورہ کالم میں بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ انتخابات کے بعد پی ٹی ایم دوبارہ پوری قوت کے ساتھ میدان میں اترے گی لیکن یہ تو وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ انتخابات کے نتیجے میں ریاستی اداروں کے بارے میں بداعتمادی اس قدر بڑھے گی کہ اے این پی تو کیا جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے جلسوں میں بھی پی ٹی ایم والے نعرے لگ جائیں گے۔

افسوس کہ یہ خدشہ درست ثابت ہوا کہ 2018ء کے انتخابات کانتیجہ ملک کے اندر سیاسی استحکام کا موجب نہیں بنیں گے۔ ملک کو اندرونی اور بیرونی محاذ پر جن چینلجز کا سامنا ہے، ان کا تقاضا تھا کہ مرکز اور صوبوں میں مستحکم حکومتیں قائم ہوتیں لیکن افسوس کہ مرکز میں ایسی حکومت بڑی مشکل سے بن رہی ہے، وہ بڑی مشکل سے چلے گی اور اسے ہر وقت خطرات کا سامنا رہے گا۔ اسی طرح سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بننے والی حکومت کو بھی اپنی سائز جتنی اپوزیشن کا سامنا ہوگا۔

اپوزیشن جماعتیں حد سے زیادہ برہم ہیں اور پاکستانی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اسمبلیوں میں حلف اٹھانے سے قبل کسی حکومت کے خلاف گرینڈ اپوزیشن بن گیا۔ اسی طرح یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ سوائے ایک جماعت کے باقی سب کی سب جماعتیں دھاندلی کی شکایت کررہی ہیں۔ اب بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایسی حکومت پاکستان کو درپیش معاشی بحران کا کیسے حل نکال سکے گی اور ان بیرونی اور اندرونی چیلنجز سے کیسے عہدہ برآ ہوسکے گی جو ملک کو درپیش ہیں۔ اس وقت پاکستان میں چیلنج صرف حکومت چلانے کا نہیں بلکہ ریاست کو چلانے کا درپیش ہے اور بدقسمتی سے اس انتخاب نے ریاستی اداروں کے مابین خلیج یا پھر بعض ریاستی اداروں کے کردار کے حوالے سے اعتراضات میں اضافہ کردیا۔

پاکستان کی سیاست کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں اس نتیجے تک پہنچا ہوں کہ اس ملک میں کسی ایک بندے یا کسی دوسرے بندے، کسی ایک جماعت یا کسی دوسری جماعت کے اقتدار میں آنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان حقیقی مسائل کے لئے افراد اور جماعتوں سے بالاتر ہوکر سوچ کی ضرورت ہے۔ کرپشن بھی ایک مسئلہ ہے اور بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن نمبرون مسئلہ انتہاپسندی اور دہشت گردی ہے، پاکستان کا دنیا میں خراب امیج ہے یا پھر پاکستان کے سٹرکچرل مسائل ہیں۔

یقینا پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کا مجموعی کردار مایوس کن رہا ہے اور مسلم لیگ (ن) ہو کہ پیپلز پارٹی، اے این پی ہو کہ جے یو آئی، ایم کیوایم ہو کہ بلوچستان کے قوم پرست، سب اپنی اپنی حد تک قوم کے توققات پر پورا نہیں اتری ہیں۔ اسی لئے ہم بھی ان پر تنقید کرتے رہتے ہیں لیکن پاکستان کے حقیقی چینلجز کے تناظر میں ان کا ایک مثبت رول بھی ہے۔ مثلاً پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کرپشن کے لئے بدنام ضرور ہیں لیکن یہ دونوں جماعتیں پی ٹی آئی کی طرح ملکی وحدت کے لئے ایک بانڈ کی حیثیت بھی رکھتی ہیں۔ ماضی میں جب قوم پرست جماعتیں یا پھر تحریک طالبان جیسی تحریکیں ریاست کے خلاف بدگمانی پھیلاتی تھیں تو یہ جماعتیں ریاست کے ساتھ کھڑی رہ کر اس کے اداروں پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کا کام کرتی رہیں۔

مجھے نہیں لگتا کہ انتخابات کے بعد یہ دونوں اور بالخصوص مسلم لیگ(ن) مزید یہ کام کرے گی۔ اے این پی کرپشن کے لئے بدنام ضرور ہے لیکن یہ تحریک طالبان کے سامنے ایک ڈھال اور پی ٹی ایم جیسی تنظیم کے معاملے میں ایک سیفٹی والو کی حیثیت بھی رکھتی تھی جو اب بدقسمتی سے خود پی ٹی ایم کے راستے پر گامزن نظر آتی ہے۔ اسی طرح جماعت اسلامی اور جے یو آئی جیسی تنظیمیں مذہبی انتہاپسندوں کے راستے میں ایک ڈھال کی حیثیت رکھتی تھیں لیکن اب وہ اسی طرح ڈھال نہیں رہنا چاہیں گی۔ سردست تو مولانا فضل الرحمان کے لہجے میں بھی طالبان والی سختی نظر آنے لگی ہے۔

مصطفیٰ کمال کی خامیاں اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کراچی کے اندر الطاف حسین کے بیانیے کو انہوں نے ہی چینلج کیا اور وہ ان کے پیروکاروں یا کارندوں کے مقابلے میں ایک ڈھال کی حیثیت رکھتے تھے۔ اب اسی مصطفیٰ کمال کو بھی اپنے کارکنوں اور مخالفین کے طعنوں کا سامنا ہے اور ان کے لہجے میں ایم کیوایم کے دور کی تلخی دوبارہ نظر آنے لگی ہے۔ یہی رول بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں، بلوچ علیحدگی پسندوں کے مقابلے میں ادا کررہی ہیں اور اب وہ بھی مزید دیوار نہیں بننا چاہیں گی۔

قبائلی علاقہ جات کے شہاب الدین سالارزی اور حاجی شاہ جی گل تحریک طالبان کی ہٹ لسٹ میں سرفہرست رہے۔ فاٹا مرجر میں کلیدی کردار کے علاوہ وہ پی ٹی ایم کے مسئلے کے حل کے لئے بھی کوششیں کرکے ریاست کا ہاتھ بٹھارہے تھے لیکن انتخابات کے بعد وہ دونوں پچھتا رہے ہیں کہ انہوں نے پی ٹی ایم کے علی وزیر اور محسن داوڑ کا راستہ کیوں نہیں اپنایا۔

پتہ نہیں اس ملک کے مختار پاکستان کو صرف عمران خان اور نوازشریف کے آئینے میں کیوں دیکھ رہے ہیں اور کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ پاکستان کو پاکستان کے آئینے میں دیکھا جائے۔ وہ پاکستان جس میں بلوچستان بھی ہے، جس کا حصہ کراچی بھی ہے، جس میں قبائلی علاقے بھی ہیں، جس کے ایک سرحد پر ہندوستان اور دوسرے پر افغانستان واقع ہے اور جسے اس وقت معاشی بحران کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اپنے امیج کے بحران کا بھی سامنا ہے۔ جسے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے مسائل کا سامنا ہے اور جس میں مذہبی، علاقائی اور لسانی بنیادوں پر نفرتوں کو ہوادی جارہی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں