پیاری بہنیں


syed abdur rauf shahجمعرات قریب آرہی تھی، جبکہ ذہن پہ اضطراری کیفیت طاری تھی کہ اس چھٹی پہ بڑی ہمشیرہ کے پاس جاؤں یا اپنے گھر جاؤں، اس کشمش میں یہ فیصلہ کرنا گویا میرے لیے کوئی بڑا عدالتی فیصلہ ہو،

البتہ ذہن کے اکناف کو اک مدّعے پہ یکجا کیا اور مجموعی کیفیت اس طرف راغب ہوئی کہ یہ چھٹی بڑی ہمشیرہ کے پاس گزارنے کے لیے بوریا بستر باندھا جائے

جمعرات آچکی تھی جبکہ بزمِ ادب سے فراغت بھی مل چکی تھی، دن کا کھانا بھی دسترخوان پہ سجا دیا گیا تھا، بھوک سے بھی محاذآرائی جاری تھی، لیکن ہمیشرہ کے پاس جانے کی اتنی خوشی تھی کہ آج بھوک بھی اس خوشی کے سامنے ہاتھ جوڑے مؤدبانہ کھڑی تھی،

جہاں روازنہ ظہرانے میں دو روٹیاں بھی ناکافی ہوتی تھی، آج اس چھٹی کی وجہ سے ایک روٹی تو کھا لی لیکن دوسری روٹی “چنگیر” میں پڑی تڑپ رہی تھی مچل رہی تھی کہ “ارے میرا بھی کچھ کرتے جاؤ کیوں مجھے بے یار و مددگار دسترخوان پہ چھوڑے جا رھے ہو۔۔!

میں نے اس کی یہ عرض سنی ان سنی کر دی، بیگ تیار کیا جوتے پہنے اور بڑی تیزی سے درسگاہ سے نکلا اور اپنے آپ کو وہاں سے جبراً رخصت کر لیا، بس سٹاپ پہ جا کے گجرات کی بس کے انتظار میں کھڑا ہوگیا، جوگاڑی بھی آتی مسافروں سے کچھا کھچ بھری ہوتی، میں سٹوڈنٹ تھا اس لیے کسی جگاڑ میں تھا کہ کوئی بس آئے اس پہ بیٹھ کے فری نکل جاؤں لیکن قریب قریب بس کی آمد کے آثار نظر نہ آرھے تھے،

آخر کار ایک خستہ حال، بوسیدہ سی بس اپنا ہارن بجاتی ہوئی گجرات کے ایک قصبے صبور کی فضاؤں میں داخل ہوئی اور جوں ہی بس سٹاپ پہ رکھی تو ایسی چڑاں چڑاں کی آوازیں اسکے انج انج سے نکلی کہ میں نے سوچا ابھی ہی یہ زمین بوس ہوجائے گی،

خیر مجھے اس سے کیا غرض، فری میں سفر جو میسر تھا، اس پہ سوار ہونے کے لیے میں نے ایک دقیقہ بھی ضائع نہ کیا، چھت پہ چڑھ کے بیٹھ گیا، ٹھنڈی ہواؤں سے بھی محظوظ ہوتا ہوا سیالکوٹ کی فضاؤں میں داخل ہو چکا تھا،

جبکہ بہن بھی ذہنی طور پہ تیار ہوتی کہ آج میں نے جامعہ سے ان کے پاس جمعہ کی چھٹی گزارنے آنا ہے۔

بس سٹاپ پہ اتر چکا تھا کندھے سے کالے رنگ کا چھوٹا سا بیگ لگائے شہر کی گلیوں سے گزر رہا تھا دائیں بائیں طرح طرح کی دوکانوں پہ گاہکوں کی چہل پہل بڑے زور وشور سے جاری تھی، چنگ چی کی آوازوں نے آسمان سر پہ اٹھا رکھا تھا، باقی کسر جراحی آلات بنانے کی فیکٹریوں میں لگی الیکٹرک مشینوں کی آوازوں نے نکال دی۔

بے ہنگم ٹریفک اوربے تکے شور نے دماغ کے تاروں کو گویا تار تار کردیا ہو، بے سکونی اور الجھن کے عالم میں فوراً خیال آیا کہ کیسے یہ لوگ اس شوروغل میں بڑے سکون سے زندگی بسر کرلیتے ہیں ؟ ایسی بے سکونی اور اضطراری کیفیت میں زندگی کی گھڑیاں کیسی کاٹی جاتی ہیں؟

قدموں میں زرا جان ڈالی، رفتار میں تھوڑی تیزی لائی، اور ہمشیرہ کے گھر کے مرکزی دروازے کے سامنے جا کھڑا ہوا، گیٹ کھٹکھٹایا، آگے سے معصومیت مسلط کیے ہوئے میری بھانجی نے گیٹ کھول کے ایسے استقبال کیا جیسے صدیوں سے میرا ہی انتظار تھا، صحن میں اچھل کود کے ہمشیرہ کو مطلع کیا کہ امی ماموں آئے ہیں، ہمشیرہ کی صیحت بالکل بھی ٹھیک نہ تھی مجھے دیکھ کر چہرے کی نکاہت، اعضاؤں میں کمزوری او بخار کی تیزی پہ، محبت و مسرت کے جذبات فوراً ایسے طاری کر لیے، اک لمحے کے لیے مجھے لگا کہ انہیں کوئی شکایت ہی نہ ہو

سب بہن بھائیوں میں وہ بڑے ہیں اس لیے ہم ان کا والدین جتنا احترام کرتے ہیں، لیکن جتنے وہ ہمارے راذدان ہوتے اتنی باتیں تو ہم نے کبھی امی ابو کو بھی نہیں بتائی۔

جب بھی ان کے پاس گیا تو انہوں نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ رؤف تم نے کیا کھانا ہے، بلکہ اک بہن کو اگر بھائی کی پسند کی خبر نہ ہو تو میں سمجھتا ہوں انہیں پھر سے بہن بھائی کے رشتے کا “کورس مع الفورس” (طاقت) کرناچاہے۔

انہیں پتہ تھا کہ میں دیسی گھی، مکھن، دودھ اور دہی کا ایسا دیوانہ ہوں جیسے چرسی سگریٹ کا۔

اسی حالت میں اٹھی پاس بیکری سے ایک بڑی سی مکھن کی ٹکیہ لائی اور چاند کی طرح دو گول مٹول روٹیاں بنائی انہیں مکھن سے ملمّہ کیا، اس پہ شکر ایسے بکھیری جیسے کھیت میں بیج بکھیرتے ہیں۔

کم سنی کی وجہ سے مجھے یہ فرق معلوم نہیں تھا کہ شادی کے بعد بہن کسی اور گھر کا حصہ بن جاتی ہے، اور وہاں زور آزمائی، من مانی اور ضدیں ویسے نہیں چلتی جیسے اپنے گھر میں چلا کرتی ہیں، لیکن انہوں نے کبھی اس چیز کا احساس نہ ہونے دیا کہ ان کی شادی ہوگئی ہے بلکہ دن بدن ان کا جذبہء خدمت اور اظہارِ محبت کھل ڈھل نکھر رہا تھا جو میری بچگانہ سوچ پہ مثبت اثرات مرتب کرتا ۔

تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں ایسے انٹرویو لیتی جیسے جیو نیوز کی اینکر ہوں، جب کہ میں بھی ہوا میں تیر چلا کہ شیخ رشید کی طرح اپنی دھاک بٹھا لیتا۔

میری دوچار باتیں سننے کے بعد یہ حسرت ایسے بھرائے ہوئے لہجے میں کرتی کہ” کاش مجھے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے ایسے مواقع ملتے جیسے تمہیں مل رہےہیں” گویا ایک بیش قیمت خزانہ اپنی جوانی کی منزل پہ ہی بھول آئی ہوں، اور حقیقت میں بھی ایسا ہی تھا کہ وہ گھر میں سب سے بڑی ہونے کی وجہ سے اپنی تعلیمی سرگرمیاں ہم چھوٹے بہن بھائیوں کی پرورش اور گھر کے کاموں میں اماں جی کے ہاتھ بٹھانے میں ہی گڈ مڈ کرگئی۔ جبکہ رہی سہی حالت تنگی ء حالات نے پوری کردی ۔

وہ ایک رات جو ہمارے اِدھر اُدھر اور رازونیاز کی باتوں کے لیے ناکافی تھی ایسے کٹ گئی جیسے تیز چاقو سے پیاز کا “گنڈا”

، نیند ایسے آنکھوں سے غائب ہوتی جیسے گرمی کے دنوں میں بجلی۔

دوسرے دن پہننے کے لیے بہنوئی کے کپڑے دیتے ہوئے بولی کہ یہ مجھے اتار دو کہ دھلائی کردوں، میں بھی غنیمت سمجھتا چلو اچھا ہو گا کہ خود نہیں دھونے پڑیں گے۔

جمعہ پڑھنے کے بعد واپس ان کے گھ رآتا تو انہوں نے، دو روٹیاں، ان پہ مکھن کی بڑے حجم کی ٹکیہ، چھوٹی سی پیالی میں شکر، دہی کی ایک لبالب بھری پلیٹ، اور دودھ پتی کی ابھلتی ہوئی پیالی سے دسترخوان ایسے سجایا ہوتا جیسے مہندی کی رات گھر ۔

مجال ہے کہ سوائے دہی کہ میں نے کچھ برتنوں میں چھوڑا ہو، کھاتے کھاتے اتنا سیر ہوجاتا کہ آخر میں دہی سے شکست کھانا پڑتی، لیکن اس شکست پہ بہن کبھی راضی نہ ہوتی کہ دہی کھاؤ دہی سے شکست نہ کھاؤ، یہ تمہیں کھانا ہی پڑۓ ے گا۔

دن کا کھانا ایسے سیر ہوکے کھایا جیسے کسی کے ولیمے پہ آیا ہوں، بیگ اٹھایا، کپڑے جو بہن استری کرچکی تھی شوز جنہیں پالش کرکے میں دھوپ میں رکھ چکی تھی، پہن لیے۔

جوں ہی کپڑے پہنے تو احساسِ کمتری نے مجھے ایسے جکڑ لیا جیسے شیر شکار کو اپنے پنجوں میں،

کہ میں دو گھنٹے لگا کہ انہیں واش کرتا ہوں لیکن میری دوگھنٹے کی دہلائی سے کپڑوں میں وہ چمک پیدا نہیں ہوتی جو بہن کی دس منٹس کی دہلائی میں پیدا ہوجاتی ہے۔

خود ہی اپنے آپ کو مخاطب کیا کہ ارے بھیا، تمہیں زیادہ “سیریس” لینے کی ضرورت نہیں تیرا ایک سال کا تجربہ ہے جبکہ بہن کا دس سے پندرہ سال کا، لہذا کپڑے پہن اور چلتا بن۔

مکمل تیاری کے ساتھ اب الوداع ہونے کےلیے دروازے پہ کھڑا تھا، لیکن بہن کافی دیر سے پچھلے کمرے میں کھسر پھسر کررہی تھی۔

بلآخر چند کرنسی نوٹ سائیڈ والی جیب میں ڈالتے ہوئے بولی کہ یہ پیسے لے جاؤ اور اپنی تعلیمی اخراجات پورے کرنے میں صرف کرنا، ظاہراً دِکھاوا کرتے ہوئے ان کا ہاتھ پیچھے کرتا کہ مجھے نہیں ضرورت لیکن قلبی حالت آج ایسے بہن کے ساتھ مل گئی جیسے اپوزیشن حکومت کے ساتھ،

رخساروں اور پیشانی پہ بوسے دیتے ہوئے مجھے رخصت کیا، بہن کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہوئے ہاتھوں کے اشاروں سے اللہ حافظ بولا،

جو ں ہی دوسری گلی کا موڑ مڑا تو فوراً جیب میں ہاتھ ڈالے، دیکھوں تو سہی کہ آج باجی نے کتنے پیسے دیے ہیں؟

البتہ وہ بچپن کا واحد بڑا خزانہ تھا جو سات سو روپے کی صورت میں بہن نے میری جیب میں ڈالا، خوشی اور مسرت کے ملے جلے جذبات لیے ہمشیرہ کے شہر سے رخصت ہوا، آج جب فارغ وقت میں بیٹھ کے سوچتا ہوں تو، احساس ہوتا ہے کہ

وہ بہن کا گھر بیک وقت میرے لیے ہوٹل بھی تھا جہاں سے من پسند کھانے بآسانی میسر تھے۔

بنک کی اے ٹی ایم مشین بھی تھا، جہاں سے جب جاتا تو جیب خرچ کے لیے کچھ نہ کچھ مل جاتا۔

پوسٹ آفس بھی تھا جہاں جو پیغام ڈالتا تو فوراً ابو اور امی کو پہنچا دیا جاتا۔

رئپرینگ کی دوکان بھی تھا جہاں پہنچ کے اپنی سوچوں اور افکار کی ڈینٹنگ پینٹنگ کرواتا۔

نیوز چینل روم تھا جہاں سے ہر دوہفتے یا ایک ماہ بعد سب کے حالات سے اگاہی ملتی رہتی ۔

دھوبی گھاٹ بھی تھاجہاں میرے کپڑے ایسے چمکا کے دہلائی کرتی تھی جیسے ایریل صرف کی ایڈ (تشہیر) میں دِکھائے جاتے ہیں ۔

درس گاہ بھی تھا جہاں سے ہمدردی اور احساس کی تعلیم بلا تعطل جاری رہتی ۔

بــہن کا پیــار کســی دعا ســے کم نہیں ہوتا، وہ چاھئے دور بــھی ہو غــم نہــیں ہــوتا

اکثر رشتے دوریوں سے پھیکے پڑ جاتے ہیں، پَر “بہن بھائی” کا پیار کبھی کم نہیں ہوتا


Comments

FB Login Required - comments