جنرل (ر) احمد شجاع پاشا – ماسٹر مائنڈ کی واپسی؟


عام انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد آئی ایس آئی کے سابق سربراہ احمد شجاع پاشا کا نام پھر سے خبروں میں ہے۔ ایک موقر اخبار نے خبر دی ہے کہ انھیں نئی حکومت میں اہم ذمہ داری ملنے کا امکان ہے اور ممکنہ طور پر انھیں قومی سلامتی کے مشیر کا عہدہ دیا جا سکتا ہے۔ مسلم لیگ ن جولائی 2011ء میں تحریک انصاف کی سیاسی اٹھان کے پیچھے لیفٹنٹ جنرل (تب ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی) احمد شجاع پاشا کے کردار پر بات کرتی رہی ہے۔ انگریزی کے ممتاز صحافی خالد احمد نے اپنی کتاب Sleepwalking to Surrender میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کو حامد میر کے دیے گئے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا ہے جس میں انھوں نے بتایا کہ مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے بعد ٹی وی اینکروں نے فوج پر کڑی تنقید کی۔ انھی دنوں ایک بریگیڈئیرصاحب نے حامد میر کو فون پر کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ حامد میر ان سے ملاقات کے لیے گئے تو جنرل صاحب نے فرمایا :

’’یہ نظام اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے ‘‘

کون سا نظام؟ حامد میر نے پوچھا

’’پارلیمانی جمہوریت اور پاکستان‘‘

’’کیا آپ صدارتی طرز حکومت چاہتے ہیں!‘‘ حامیر میر نے پوچھا۔

’’ہاں‘‘

’’یہ آپ کا کام نہیں، آئین میں تبدیلی پارلیمنٹ کا کام ہے ‘‘

اس تاریخی مکالمہ کے بعد جنرل پاشا نے حکمرانوں کے بچوں سے متعلق سخت زبان برتی اور پوچھا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ان سیاست دانوں کے بعد ان کے بچے ہم پر حکمرانی کریں۔ اس ملاقات میں جو حامد میر کے بقول خوشگوار ماحول میں نہیں ہوئی، سارے وقت سیاست پر ہی بات ہوتی رہی۔ اس میٹنگ کے بعد اچانک اینکروں اور کالم نگاروں کو دورہ پڑا اور وہ سیاست دانوں کی آل اولاد اور پارلیمانی جمہوریت کے لتے لینے لگے۔ عمران خان کی پشت پناہی کا فیصلہ ہوا اور انھیں اٹھایا جانے لگا۔ کئی سیاست دانوں نے حامد میر سے مشورہ لیا کہ کیا انھیں عمران خان کی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لینی چاہیے کیونکہ ان پر جنرل پاشا کا پریشر ہے۔

اس زمانے میں یہ بات بھی چلی کہ مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے اپنی پارٹی سے بڑی تعداد میں لوگوں کو تحریک انصاف میں جاتے دیکھ کر جنرل اشفاق پرویز کیانی سے شکایت بھی کی ہے۔

حامد میر نے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کو جتنا بتایا، اس سے کہیں زیادہ اپنے کالموں میں لکھا ہے، سب سے اہم کالم جنرل پاشا کی ریٹائرمنٹ پر ’’ الودع جنرل پاشا ‘‘ ہے جس میں وہ بتاتے ہیں کہ جنرل صاحب، ایوب خان کے پرستار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ عمران خان بھی ایوب خان کے مداح ہیں۔ یکم اپریل 2018ء کو لاہور میں ہونے والے جلسے میں انھوں نے قوم کو سکرین پر دکھایا کہ ایوب خان کے دور آمریت میں امریکا میں پاکستانی سربراہ مملکت کی کتنی توقیر تھی۔

ڈکٹیٹر ایوب خان کی محبت میں مبتلا لوگ یہ بتاتا بھول جاتے ہیں کہ انھوں نے قائد اعظم کی بہن کو دھاندلی سے الیکشن میں شکست دی تھی، ایوب خان نے آپریشن جبرالٹر کی مہم جوئی کر کے عسکری ہی نہیں، سیاسی اور معاشی اعتبار سے بھی حماقت کا ارتکاب کیا۔ انھی کے دور میں مشرقی پاکستان میں علیحدگی کے بیج بوئے گئے۔ اس لیے ان کے اقتدار سے ہٹنے کے اڑھائی سال بعد قائد اعظم کا پاکستان ٹوٹ گیا اور ملک کے اکثریتی حصے نے اپنی راہ الگ کر لی۔ جنرل پاشا کی طرح عمران خان بھی صدارتی نظام کے حامی ہیں۔

حامد میر نے اپنے مذکورہ کالم میں لکھا تھا کہ جنرل پاشا کے دور میں پے در پے ناکامیوں کے باوجود پیپلزپارٹی کی حکومت نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے انھیں دوبارہ توسیع دی۔ حامد میر کے بقول ’’ سیاست میں دخل اندازی کی وجہ سے ’’ آئی ایس آئی پہلے ہی متنازع تھی جنرل پاشا نے اسے مزید متنازع بنا دیا۔ سیاست میں ان کی مداخلت کی کہانیاں آنے والے دنوں میں آہستہ آہستہ طشت از بام ہوں گی۔ ‘‘

حامد میر کا یہ کالم ان کی کتاب قلم کمان 2 میں شامل ہیں۔ یہ کالم 12 مارچ 2012 کو جنگ اخبار میں شائع ہوا۔

جنرل احمد شجاع پاشا سروس میں تھے تو ان پر تحریک انصاف کو پروان چڑھانے کا الزام لگا، ریٹائر ہوئے تو کہا گیا کہ نواز شریف کی منتخب حکومت گرانے کے لیے ہونے والے دھرنے کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے۔ لاہور میں شفقت محمود کے گھر ان کی عمران خان سے ملاقات کی خبر بھی آئی۔ جنرل پاشا پر دھرنے کا منصوبہ ساز ہونے کا الزام ممتاز سیاست دان جاوید ہاشمی نے بھی لگایا، جنھوں نے دھرنے کو منتخب حکومت گرانے کی سازش قرار دیتے ہوئے تحریک انصاف کو چھوڑ دیا تھا۔ انھوں نے میڈیا کو بتایا تھا کہ عمران خان سے سیاسی راستے جدا ہونے کے بعد آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے ان سے فون پر دھمکی آمیز لہجے میں گفتگو کی تھی۔

نواز شریف کے حامی ہی نہیں، مخالف صحافی بھی جنرل پاشا سے نالاں رہے، جس کی ایک نمایاں مثال رؤف کلاسرا ہیں جنھوں نے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے سلسلے میں جنرل پاشاکے کردار پر اپنے کالموں میں سخت تنقید کی۔ جنرل پاشا کو قومی سلامتی کا مشیر بنانے کی خبر آ تو گئی ہے لیکن ایسا کرنا عمران خان کے لیے آسان فیصلہ نہیں ہوگا کیونکہ مسلم لیگ ن اس بات کو خوب اچھالے گئی، دوسرے پیپلز پارٹی کے دور میں قومی سلامتی کے مشیر رہنے والے میجر جنرل (ر) محمود علی درانی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ فوج اس عہدے پر کسی سابق فوجی کا تقرر پسند نہیں کرتی۔ اگر عمران خان نے ایسا کیا تو اس کا یہ مفہوم نکالنا مشکل نہیں ہو گا کہ وہ ایک ایسے شخص کو نواز رہے ہیں جس پر دوران ملازمت سیاسی امور میں مداخلت کے سنجیدہ الزامات ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں