تحریک انصاف کے متعدد کامیاب امیدواروں کے نوٹیفیکیشن روکے جانے پر افراتفری: حکومت بنانے میں شدید دشواری


الیکشن کمیشن کی جانب سے ممکنہ طور پر پاکستا ن تحریک انصاف کی کامیابی والے 13 حلقوں کے نوٹیفیکیشن روکے جانے پر پی ٹی آئی کے لئے حکومت سازی کے لئے نمبر پورے کرنا بے حد مشکل ہو گیا۔ تحریک انصاف کی کامیابی والے قومی اسمبلی کے 4 اور پنجاب اسمبلی کے 6 حلقوں کے نوٹیفیکیشن روکے جانے کا امکان ہے۔ تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے انتخابی حلقوں کے نتائج روکے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے22 حلقوں کے امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفیکیشن جاری نہ ہونے کا امکان ہے، جن میں سے 18 حلقوں پر امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفیکیشنز عدالتوں میں مقدمات کے زیرالتوا ہونے کی وجہ سے جاری نہیں ہو سکیں گے۔ 22 حلقوں میں سے 13 حلقوں پر پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 108سے فرخ حبیب ، این اے 131سے عمران خان، این اے  140سے سردار طالب نکئی کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن روکے جانے کا امکان ہے۔ پر ویز خٹک کی کامیابی والے تین حلقوں این اے 25، پی کے 64 اور61 کے نوٹیفیکیشن الیکشن کمیشن میں زیر سماعت کیس کے فیصلے سے مشروط ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے لئے تحریک انصاف کے کامیاب ہونے والے امیدواروں کے حلقوں حلقہ پی پی 17، پی پی 76پی پی 91، پی پی123پی پی 128،پی پی 129،پی پی 177کے نوٹیفیکیشن بھی روکے جانے کا امکان ہے۔ پنجاب اسمبلی کے 6 اور قومی اسمبلی کے چار حلقوں کے نوٹیفیکیشن روکے جانے پر تحریک انصاف کے حکومت سازی کے لئے نمبر گیم پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے انتخابی حلقوں کے نتائج روکے جانے پر چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ترجمان انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ انتخابی نتائج میں تعطل سے انتقال اقتدار موخر ہونے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں