علی گڑھ کے مرزا پھویا


wajahatعلی گڑھ یونیورسٹی کی داستان میں ایک نیم حقیقی کردار مرزا پھویا کا ذکر ملتا ہے۔ مرزا پھویا وسطی ہندوستان میں کسی متمول گھرانے کے لاڈلے چشم و چراغ تھے۔ اگلے وقتوں میں کبوتروں کی پالیاں لڑا کر اور مشاعرے سن کر زندگی گزارتے۔ زمانے کا برا ہو کہ ایک سا نہیں رہتا۔ خاندان کی ناک رکھنے کو علی گڑھ میں داخلہ لینا پڑا جہاں جغرافیے کی اونچ نیچ میں سر کھپانا تھا۔ الجبرا کا جبر تھا اور انگریزی کی مصیبت۔ ہر تیسرے روز مرزا علی گڑھ کے تار گھر سے والدین کو پیغام بھیجتے تھے۔ ”روغن بادام ختم ہو رہا ہے۔ خدا معلوم روغن بادام کے بغیر امتحان کس طرح دے پاﺅں گا۔ عجب ناہنجار مدرسہ ہے۔ شرط لگا دی ہے کہ ایک طالب علم کے ساتھ صرف ایک نوکر اور ایک اتالیق رہ سکتا ہے۔ ننھے خان داستان گو کے بغیر نیند نہیں آتی۔ غضب خدا کا ، کوہاٹ کا ایک پٹھان فارسی میں اول نمبر لے گیا۔ پنجاب کے لڑکے اردو کا امتحان پاس کر لیتے ہیں۔ بنگال کے بابو انگریزی لے اڑے۔ اودھ کے اشراف کا مرتبہ یہ لوگ کیا جانیں۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں گھر آﺅں گا تو ابا سے بات کروں گا کہ ہم تو مشتری جان کے بالاخانے پر حکیم عیش سے تعلیم لیں گے۔ ہم سے کالج کی بکواس برداشت نہیں ہوتی۔“

مرزا پھویا تو ایک فرضی کردار تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے بحیثیت قوم مرزا پھویا کی کرداری خصوصیات اپنا لی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ہم خدا کے فضل سے پیدائشی طور پر اعلیٰ اور نہایت باصلاحیت ہیں۔ بس کچھ معمولی غلط فہمیاں ہیں جن کے باعث ہر مرحلے پر ہماری بدھیا بیٹھ جاتی ہے۔ کچھ طریقہ کار کا اختلاف ہے کہ منجدھار میں پہنچتے ہی ہماری لٹیا ڈوب جاتی ہے اور سو باتوں کی ایک بات یہ کہ ساری دنیا ہماری دشمن ہو رہی ہے۔ وجہ ظاہر ہے پہلے ہم اسلام کا قلعہ تھے۔ قلعے کی فصیلوں پر پتھر تو گرتے ہیں۔ پھر ہم نے ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی ۔ دنیا ہمیں الٰہ دین کے اس چراغ سے محروم کرنے کی تاک میں ہے۔ کچھ ملک ہمارے ازلی دشمن ہیں۔ باقی ہماری ممکنہ ترقی سے خائف ہیں۔ کوئی دن جاتا ہے کہ ایک مسیحا صفت ہماری ہی صفوں سے اٹھے گا اور ہم عمامے باندھے، گھوڑے دوڑاتے، بحر ظلمات کے پار لنگر انداز ہوں گے۔ دنیا ہمیں رہنما مان لے گی۔ یہ سوچے جاگتے کی داستان ہمارے حواس پر اس بری طرح سوار ہے کہ ہم دوسروں کے ہنسی ٹھٹھول کا بھی خیال نہیں کرتے۔ دیکھئے اپنے گھر میں تو ہم کسی کو فون پر دھمکا لیتے ہیں۔ کسی کو ای میل بھیجتے ہیں۔ کسی کو لاﺅڈ سپیکر پر چتاونی دیتے ہیں۔ کسی کے لیے اخبار کے کالم میں ملفوف تنبیہ ہی کافی ہوتی ہے۔ کچھ بھاگ جاتے ہیں، کچھ مارے جاتے ہیں اور کچھ دبک جاتے ہیں۔ مگر ہم ساری دنیا کو تو دھمکا نہیں سکتے اور اس سے بھی اہم بات یہ کہ ہماری اجتماعی صورتحال نصابی اخباری بیانیے کا معاملہ تو نہیں۔ ججمان معیشت تو سر کے بالوں کی طرح ہے۔ کٹیں گے تو سامنے آجائیں گے۔ معاشرت کے بخیے ادھڑیں گے تو خود کشی کی خبریں آئیں گی۔ قانون کی عمل داری ہوا ہو جائے گی تو سب کو جان و مال کے لالے پڑ جائیں گے۔ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ ہم اس مضحکہ خیز رویے کو ترک کر کے تنقیدی شعور کی طرف توجہ دیں۔ اجتماعی معاملات پر رائے کا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن کیا ہمیں ہر پانچ دس برس کے بعد رک کر خود سے نہیں پوچھنا چاہیے کہ ہم نے پار سال تاویلات اور عذر خواہیوں کا جو طومار کھڑا کیا تھا اب اسے پرکھ لیں۔

1981ء کچھ زیادہ دور کی بات نہیں۔ محض تین دہائیاں گزری ہیں۔ ہمیں کسی بھی اوسط درجے کی کتاب سے معلوم ہو سکتا ہے کہ1981ءمیں پاکستان کی آبادی آٹھ کروڑ چالیس لاکھ تھی۔ ملک میں فوجی حکومت تھی۔ سیاسی جماعتوں اور ہر طرح کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی تھی۔ اخبارات پر سخت سنسرشپ عائد تھی۔ ہزاروں سیاسی کارکن جیلوں میں بند تھے۔ شرح خواندگی 27 فیصد کے لگ بھگ تھی۔ فی کس سالانہ آمدنی 370 ڈالر کے قریب تھی۔ افغانستان میں روسی فوجوں کے خلاف جہاد جاری تھا۔ ملک میں ہیروئن کے عادی افراد نظر آنا شروع ہو چکے تھے۔ کلاشنکوف جیسا خطرناک ہتھیار عام ہو چکا تھا۔اب ان حقائق سے اخذ کردہ دو مختلف تجزیے ملاحظہ کریں:

الف)        پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔ الحمدللہ ہماری افرادی قوت گذشتہ دس سال میں چھ کروڑ بیس لاکھ سے بڑھ کر آٹھ کروڑ چالیس لاکھ ہو گئی ہے۔ پاکستان میں گذشتہ چار سال سے فوجی حکومت قائم ہے۔ جس نے بدعنوان سیاست دانوں کی سازشی سرگرمیاں روک کر ملک اور قوم کو مفید کاموں میں مشغول کر دیا ہے۔ اصلاح معاشرہ اور اقامت صلوٰةکے نام سے کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جن میں حکومت سے تعاون کرنے والے معززین شامل کیے گئے ہیں۔ شرارتی اور ملک دشمن عناصر کو جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کو یہ سعادت حاصل ہوئی ہے کہ افغانستان میں جاری جہاد میں بھرپور شرکت کے ذریعے اسلام دشمن قوتوں کو ناکوں چنے چبوا دیے جائیں۔ حکومت اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے تعلیم اور صحت جیسے مسائل پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ پاکستان میں سکولوں اور ہسپتالوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔زکوٰة کمیٹیوں کی تشکیل کے بعد کوئی دن جاتا ہے کہ ملک عزیز میں کوئی خیرات لینے والا نہیں ملے گا۔ لوگوں کی آمدنی میں واضح اضافہ نظر آرہا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی آمدنی سے بہت بڑی تعداد میں گھرانوں کی مالی حالت راتوں رات بدل رہی ہے۔

ب)           بدقسمتی سے پاکستان کے سیاسی، معاشی اور سماجی حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ آبادی میں تیز رفتار اضافے کی وجہ سے عنقریب ملکی وسائل کثیر آبادی کے لیے ناکافی ہو جائیں گے۔ زرعی اجناس درآمد کرنا پڑیں گی۔ بے روزگاری پھیل جائے گی۔ ملک کے سیاسی اور سماجی حالات کو مدنظر رکھے بغیر مخصوص مقاصد کی تکمیل کے لیے مذہبی قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔ ان سے حالات بہتر نہیں ہوں گے اور جرائم کی رفتار مزید بڑھے گی ۔ منافقت پھیلے گی اور عدل و انصاف کا نظام ابتر ہو جائے گا۔ سیاسی کارکن کسی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں انھیں زبردستی کام سے روکا گیا تو ملک غنڈوںاور جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔ سیاسی جماعتوںکو لمبے عرصے تک کام کرنے سے روکا گیا تو موجودہ سیاسی قیادت ختم ہو جائے گی اور آئندہ جو لوگ سامنے آئیں گے وہ قومی مسائل اور عوامی مفادات کی بجائے ذات، برادری، دھونس اور ذاتی مفادات کی سیاست کریں گے۔ پاکستان افغانستان کی لڑائی میں بہت سے وسائل خرچ کر رہا ہے جس سے تعلیم اور صحت کو مناسب توجہ نہیں مل رہی۔ چند برسوں میں ہم تعلیم، صحت اور دیگر ضروریات زندگی میں ایشیا کے دوسرے ملکوں سے پیچھے رہ جائیں گے۔جس سے سماجی افراتفری پھیلے گی، اخلاقی اقدار تباہ ہو جائیں گی او رلوگ پرامن بات چیت کی بجائے اسلحے کے بل پر اپنی بات منوائیں گے۔ پاکستان کی معاشی ترقی ناہموار ہے۔ غریب غریب تر ہو رہا ہے اور امیر زیادہ امیر ہو رہا ہے۔

یہاں ایک جیسے بنیادی حقائق کے باوجود ماہرین نے ایک دوسرے سے قطعی مختلف تجزیہ پیش کیا تھا۔ آج تیس برس بعد اوسط درجے کی ذہانت اور معمولی مشاہدے کا حامل کوئی بھی شخص طے کر سکتا ہے کہ دونوں تجزیہ نگاروں میں سے کون درست پیش گوئی کر رہا تھا اور کون غلطی پر تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالنا بے کار ہے کیونکہ اس دوران غلط راستے کا انتخاب کرنے سے خرابی بہت پھیل چکی ہوتی ہے۔ وقت سے پہلے حالات کی سمت کا صحیح اندازہ لگانا ہی اصل بصیرت ہے۔ یہ صلاحیت اور بصیرت عقلی استدلال کی مدد سے پیدا ہوتی ہے۔ تعصب اور ہیجان کی لہروں پر بہنے سے تو خود رحمی اور شکست خوردہ ذہن جنم لیتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments