’یہ سوال گلگت بلتستان کی حکومت سے کیا جا رہا ہے‘

فرحت جاوید - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام اباد


دیامر

Qasim Shah

گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں گھِرے یہ علاقے سیاحت کے لیے مشہور ہیں۔ نانگا پربت کے بیس کیمپ میں آنے والے سیاحوں کی بڑی تعداد بھی ضلع دیامر میں تانگیر اور داریل سے ملحقہ علاقے چلاس میں قیام کرتی ہے۔

تانگیر داریل اور چلاس ماضی میں شدت پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے سبب خبروں میں رہے ہیں، لیکن طویل عرصے سے یہاں خاموشی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

دیامر: سکولوں کو جلانے کے بعد جج کی گاڑی پر حملہ

دیامر میں متعدد سکولوں پر شدت پسندوں کے حملے

گلگت بلتستان: دس غیر ملکیوں سمیت گیارہ سیاح ہلاک

گذشتہ ہفتے رات کی تاریکی میں یہاں شدت پسندوں نے چودہ سکولوں کو نشانہ بنایا ۔ مقامی صحافیوں کے مطابق اتوار کو شدت پسندوں نے داریل اور تانگیر کی وادیوں کی ناکہ بندی کی ۔ اور سیشن جج کی گاڑی کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

اس علاقے میں اچانک عسکریت پسندی کے حالیہ واقعات نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق عسکریت پسندوں یا ایسی تنظیموں کے حامی ان علاقوں میں موجود ہیں۔

تو پھر ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟

مقامی صحافی امتیاز علی تاج کہتے ہیں کہ اس سوال کا جواب آج کل گلگت بلتستان کی حکومت کے پاس بھی نہیں ہے۔

‘یہ وہ سوال ہے جو آج ہر شہری یہاں گلگت بلتستان کے حکومت اور پولیس سے بھی کر رہا ہے کہ ان لوگوں نے ماضی میں سکولوں کو تباہ کیا، دفاتر تباہ کیے، شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا، تو پھر ان کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی گئی، لیکن اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں’۔

ان کے مطابق تانگیر اور داریل میں عسکریت پسندوں کے جانب سے سکول جلائے جانے کے واقعے کے بعد پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائی کی جس میں ایک مبینہ عسکریت پسند ہلاک ہوا۔ ان کے مطابق اس کارروائی کے دوران پولیس پر فائرنگ کرنے والے بیشتر عسکریت پسند گرفتار ہوئے ہیں۔ ‘تاہم کچھ ایسے ہیں جو اس علاقے کی ایک جانب گھنے جنگلوں میں فرار ہو گئے ہیں’۔

ان کے مطابق پہاڑوں میں گھِرے اس دشوار گزار علاقے میں گھنے جنگلات ماضی میں بھی اسے شدت پسندوں کے اغوا کردہ افراد کے لیے ایک آسان پناہ گاہ ثابت ہوئے ہیں۔

نانگا پربت

AFP

ان کا کہنا ہے کہ بعض عمائدین یہ بات مسترد نہیں کرتے کہ داریل اور تانگیر میں حکومت کی عملداری کمزور ہے۔

تاہم گلگت بلتستان کے مشیر برائے اطلاعات شمس میر کہتے ہیں کہ اس رائے میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ‘کسی حادثے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ علاقے میں حکومت کی رِٹ قائم نہیں ہے۔ یہ غفلت یا کوتاہی تو ہو سکتی ہے مگر حکومتی رِٹ اپنی پوری طاقت کے ساتھ قائم ہے۔‘

شمس میر کہتے ہیں کہ یہاں کئی سرکاری سکول ہیں، اب کیڈٹ کالج بن رہا ہے، جبکہ کچھ عرصہ پہلے یونیورسٹی کا ایک کیمپس بھی کھولا گیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق، یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو ‘مذہب اور روایات کی آڑ میں ایسی کارروائیاں کرتے ہیں جیسے کہ بچیوں کے سکول جلا دینا’۔

سکولوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے شمس میر نے کہا کہ جس پیمانے پر یہ کاروائی کی گئی ہے اب ‘اسی سطح پر حکومت سیکیورٹی پلان تیار کر رہی ہے تاکہ دوبارہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں اور ان میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے’۔

ان حملوں میں ملوث افراد سے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کچھ برس پہلے چلنے والی دہشت گردی کی لہر کے دوران گلگت بلتستان میں بھی ‘افغانستان یا پاکستان میں موجود تنظیموں نے کاروائیاں کیں۔ یہاں کے کچھ لوگ وہاں گئے ہیں اور ان کا تعلق رہا ہے، ان تنظیموں کو تو مکمل طور پر ختم کیاگیا ہے لیکن چیدہ چیدہ لوگ یہاں موجود تھے جیسا کہ کل ایک کاروائی میں ایسے ہی ایک شخص کو ہلاک کیا گیا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہو سکتا ہے کہ اس واقعے ملوث افراد کی تربیت کسی وقت افغانستان میں یا پاکستان کے قبائلی علاقے میں ماضی میں کی گئی ہو کیونکہ جس قدر منظم یہ کارروائی ہوئی ہے اسے لگتا ہے کہ یہ تربیت یافتہ تھے’۔

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے ‘ان حامیوں کو اب چھوڑا نہیں جائے گا، اور حکومت انہیں اپنے شکنجے میں لائے گی تاکہ ایسی کاروائی دوبارہ نہ ہو’۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس قدر منظم کاروائی سے یہ بھی تاثر ملتا ہے کہ اس میں ‘بیرونی قوتوں کا ہاتھ’ بھی ہے جس کا مقصد ‘ان علاقوں میں جہاں مذہبی ہم آہنگی پیدا ہو رہی ہے اور سی پیک اور دیامر بھاشا ڈیم بن رہے ہیں ، یہاں انتشار پھیلانا ہے’۔

خیال رہے کہ پولیس کے مطابق گزشتہ ہفتے چودہ سکولوں کو تباہ کرنے کے واقعے کے بعد علاقے میں کئی جگہوں پر مبینہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے گئے ہیں ۔ متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ اسلحہ، گرینیڈ اور ایک خودکش جیکٹ بھی قبضے میں لے لی گئی۔ اب تک ملزمان کی کسی عسکری تنظیم سے وابستگی کی اطلاعات نہیں مل سکی ہیں ۔

  • اس سے قبل اگست 2013 میں چلاس میں شدت پسندی کے ایک واقعے میں سپرانٹینڈنٹ پولیس، پاکستان فوج کے ایک کرنل سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ اس واقعے سے دو ماہ پہلے جون میں دیامر کے علاقے میں دہشتگردوں نے نانگا پربت بیس کیمپ میں دس غیر ملکی اور ایک پاکستانی سیاح کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
  • 2015 میں گلگت بلتستان کی ڈسٹرکٹ جیل سے چار قیدیوں نے فرار ہونے کی کوشش کی تھی جن کا تعلق نانگا پربت بیس کیمپ حملہ کیس سے تھا۔ ان میں سے ایک بھاگنے کی کوشش کے دوران ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا تھا۔ تاہم دو قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
  • مارچ 2016 میں اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل ر راحیل شریف نے 13 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے جن میں نانگا پربت بیس کیمپ ون پر 10 غیر ملکی سیاحوں کو قتل کرنے میں ملوث کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے عرفان اللہ بھی شامل تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں اور نیم قبائلی علاقوں میں کچھ عرصہ قبل سرکاری سکولوں کو نشانہ بنانے کے واقعات عام تھے تاہم قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے بعد ان واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6442 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp