عمران خان، جسے میں جانتا ہوں!


2018ء کے عام انتخابات میں کامیابی کے کئی دن بعد ہونے والی حالیہ ملاقات کے آغاز میں عمران خان نے مجھ سے سوال پوچھا، ’’کیا آپ کو یاد ہے کہ میں نے اپنی سیاسی جماعت کیسے بنائی تھی اور کیا آپ کو میری جدوجہد کے دن یاد ہیں؟‘‘ یہ رسمی انٹرویو نہیں تھا۔ یہ کافی کے کپ پر ان کے بنی گالا کے دفتر میں ہونے والی ملاقات تھی، ان کی تقریب حلف برداری سے چند روز قبل یہاں بڑی تبدیلی نمایاں نظر آ رہی تھی۔ مجھ سے ان کے دفتر کے باہر اپنا موبائل فون جمع کرانے کیلئے کہا گیا۔ جب سے وہ اسلام آباد میں ای سیون کے پوش علاقے سے پہاڑی پر قائم بنی گالا میں منتقل ہوئے ہیں اس وقت سے چند برسوں کے دوران ایسا میرے ساتھ کبھی نہیں ہوا۔ اچانک مجھے احساس ہوا کہ میں پاکستان کےنئے وزیراعظم سے ملنے جا رہا ہوں۔

ملاقات سے قبل مجھے خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک، ان کے پرانے ساتھی ڈاکٹر عارف علوی اور منیزہ حسن نظر آئے جو عمران خان کے دفتر کے ساتھ ہی قائم نفاست سے سجائی گئی انتظار گاہ میں بیٹھے تھے۔ ہفتے کے آخری دنوں میں یہ نئے وزیراعظم کا کیمپ آفس ہوگا کیونکہ عمران خان ہفتے کے آخری دن وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں قیام نہیں کریں گے۔ عمران خان مجھ سے مسکراتے ہوئے اور ٹینشن سے عاری چہرے کے ساتھ ملے۔

ہماری بات چیت کے دوران وہ مسکراتے ہوئے ان بڑے چیلنجز کا ذکر کر رہے تھے جو ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس مرتبہ وہ نواز شریف یا آصف زرداری کے بارے میں بات نہیں کر رہے تھے۔ وہ توانائی کے بحران، پانی کی قلت اور قرضوں کے مسئلے پر بات کر رہے تھے۔ جب میں نے کہا کہ مسائل بڑے ہیں اورپارلیمنٹ میں اپوزیشن بھی بڑی ہے تو انہوں نے کہا ’’کئی لوگ کہتے تھے کہ عمران خان وزیراعظم نہیں بن سکتا اور اب یہی لوگ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان ہمارے مسائل حل نہیں کر سکتا لیکن آپ انتظار کریں اور دیکھیے گا کہ میں ان مسائل کو شکست دوں گا۔‘‘

عمران خان کو یہ بات چیت اچھی طرح سے معلوم تھی کہ انہیں قومی اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں تھوڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وزیراعظم کا انتخاب کھلا ہوگا لیکن اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوگا۔ وہ پراعتماد تھے کہ وہ آسانی سے اسپیکر کا الیکشن جیت جائیں گے۔ ’’میں اس اپوزیشن سے نہیں ڈرتا، یہ فطری اتحادی ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ کہتے ہوئے مجھے حیران کر دیا کہ وہ بلوچ لیڈر اختر مینگل سے ملاقات کیلئے تیار ہیں اور ان کے 6 مطالبات کی حمایت کریں گے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ کا پہلا مطالبہ گمشدہ افراد کے حوالے سے ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمام گمشدہ افراد کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

ان کے پاس قومی اسمبلی میں صرف تین نشستیں ہیں لیکن عمران خان ان کے مطالبات کی حمایت صرف تین نشستوں کیلئے نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے 2012ء میں اختر مینگل کے 6 نکات کی حمایت کی تھی اور میں 2018ء میں بطور وزیراعظم ان کے 6 مطالبات پر بات کرنے کی کوشش کروں گا کیونکہ مجھے ان کے مطالبات میں کچھ غلط نہیں لگ رہا۔‘‘ اختر مینگل ایسے افراد میں سے ایک ہیں جو کھل کر 2018ء کے انتخابات سے قبل اور بعد میں ہونے والی دھاندلی کی بات کر رہے ہیں۔ وہ طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پرانے نقاد ہیں۔ عمران خان ان کے تین ووٹوں کے بغیر بھی وزیراعظم بن سکتے ہیں لیکن ان کی بی این پی کے ساتھ ان کے رابطے اُن لوگوں کیلئے پیغام ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ اُن طاقتور قوتوں کی کٹھ پتلی ہیں جو اختر مینگل جیسے لوگوں کو پارلیمنٹ میں نہیں دیکھنا چاہتیں۔

عمران خان گمشدہ لوگوں کا مسئلہ فوج اور متعلقہ ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر حل کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ یہ عمران خان ہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گمشدگی کی بات کراچی سے جیو نیوزپر میرے ٹی وی شو کیپٹل ٹاک پر 2003ء میں بتائی تھی۔ اس وقت کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات پروگرام میں موجود تھے۔ ڈاکٹر عافیہ آج امریکی جیل میں اپنی زندگی گزار رہی ہیں اور عمران خان ان کے معاملے میں خاموش رہنے کے متحمل نہیں ہو سکیں گے۔ گمشدہ افراد کا معاملہ براہِ راست دہشت گردی کیخلاف جنگ سے جڑا تھا۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے جنگجوئوں سے مبینہ تعلق کے شبے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اٹھایا اور عمران خان ان افراد میں سے ایک تھے جو ببانگ دہل یہ کہتے تھے کہ ’’یہ ہماری نہیں بلکہ امریکا کی جنگ ہے، ہمیں اپنے لوگوں کے خلاف یہ جنگ نہیں لڑنا چاہئے، اور ہمیں تمام گمشدہ افراد کو عدالتوں میں پیش کرنا چاہئے۔‘‘

کئی ناقدوں نے انہیں طالبان خان کہا۔ 2005ء میں میرے ہی ایک شو کے دوران، پرویز مشرف حکومت کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے انہیں ان کے سامنے ’’دو ٹکے کا کپتان‘‘ قرار دیا تھا لیکن آج یہی شیخ صاحب ان دیگر لوگوں کے ساتھ عمران خان کے اتحادی ہیں جنہوں نے ان کا مذاق اڑایا تھا اور جو کئی جاگیرداروں اور صنعت کاروں کی موجودگی میں وزیراعظم پاکستان بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ عمران خان نے سخت جدوجہد کی اور کبھی مختصر راستے (شارٹ کٹ) کا انتخاب نہیں کیا۔

محمد خان جونیجو حکومت کی برطرفی کے بعد جنرل ضیا الحق نے 1988ء میں انہیں وزارت کی پیشکش کی تھی۔ عمران نے معذرت کا اظہار کیا۔ 1993ء میں ایک مرتبہ پھر انہیں معین قریشی کی نگراں حکومت میں وزارت کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے 1996ء میں اپنی سیاسی جماعت قائم کی اور میں ہی وہ شخص تھا جس نے اُس وقت ان کے سیاست میں آنے کے خیال کی توثیق نہیں کی تھی۔ مجھے ان کے کینسر اسپتال کی فکر تھی جس کا افتتاح 1994ء میں ہوا تھا اور اسے عمران خان کی بھرپور توجہ کی ضرورت تھی۔ نواز شریف نے انہیں 1997ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی 20؍ نشستوں پر اتحادی بننے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے 1997ء میں اپنا پہلا الیکشن لڑا اور ہر جگہ سے بری طرح ہار گئے۔

2002ء کے انتخابات سے چند روز قبل، جنرل پرویز مشرف نے انہیں مسلم لیگ ق کے ساتھ اتحاد پر مجبور کرنے کی کوشش کی لیکن عمران نے انکار کیا۔ اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل احسان نے عمران کو مسلم لیگ ق کی حکومت میں شمولیت اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے اور آخر میں 2002ء کے الیکشن میں پی ٹی آئی کو انتخابات میں صرف ایک نشست پر کامیابی ملی۔ آنے والے سات برسوں میں عمران خان ان افراد میں سے ایک تھے جنہوں نے پوری قوت اوربہادری کے ساتھ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بیٹھ کر پرویز مشرف کی پالیسیوں کی مخالفت کی۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف جلاوطن تھے اور عمران خان ان افراد میں شامل رہے جو میرے ٹی وی شو میں پرویز مشرف پر بار بار تنقید کرتے رہے۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں