ہم صورت گر کچھ خوابوں کے


inam-rana-3مجھے بچپن سے خواب دیکھنے کی عادت رہی۔ میں نے جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتے ہوے ورلڈ کپ بھی جیتا، قوم سے خطاب بھی کیا، فلم بھی بنائی اور کئی مشہور اداکاراوں کے ساتھ “فقط سلام دعا” بھی کی۔ وکالت بھی ہمیشہ سے میرا ایک خواب تھا اور والد کی مخالفت کے باوجود ایم اے انگلش کا داخلہ چھوڑ کر وکالت چن لی۔

میرے والد جب اپنی ججی سے ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچے تو میں وکیل بن چکا تھا۔ میرے والد کا تعلق انسانوں کے اس طبقے سے تھا جو ریٹارمنٹ پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ انکا ارادہ تھا کہ ان کے کچھ دوستوں کی طرح وہ فیملی سمیت کینیڈا کی امیگریشن لے لیں مگر میں اڑ گیا کہ میں تو اپنا ملک چھوڑ کر نہیں جاوں گا۔ کون جانتا تھا کہ کچھ ہی عرصے میں جانا پڑے گا۔ انسان کتنا بیوقوف ہے جو سوچتا ہے کہ اپنی زندگی کے فیصلے وہ خود کرتا ہے۔ خیر میری ضد پر وہ تیار ہوے کہ چیمبر بنایا جائے اور یوں میں نے “رانا اینڈ رانا” کے نام سے چیمبر کی بنیاد رکھی۔ ہجویری کمپلیکس لاہور میں ایک خوبصورت سا چیمبر لے کر اسے خوب سنوارا اور ہم وکیل بن گئے۔ میرے والد بھی اکثر آ کر میرے پاس بیٹھ جاتے اور اپنی تمام تر کم گوئی کے ساتھ وکالت کے گر سکھانے کی کوشش کرتے۔ اس وقت کی تمام تر زندگی میں شاید وہ تین مہینے واحد موقعہ تھا جب ہم باپ بیٹے نے آپس میں “غیر ضروری” باتیں کیں اور زیادہ وقت ساتھ گزارا۔ پچیس اپریل دو ہزار پانچ کو میرے والد ریٹائر ہوے اور پانچ ہی دن بعد یکم جولائی کو دفتر کیلیے تیار ہوتے ہوے دل کا دورہ پڑنے سے چلے
rana01گئے۔ یعنی “اڑنے بھی نہ پائے تھے کہ گرفتار ہوے ہم”۔

چوبیس برس کی عمر میں چیمبر چلانا روز بروز مشکل ہوتا گیا۔ دسمبر دو ہزار چھ تک جیسے تیسے میں نے “رانا اینڈ رانا” چلائی اور پھر اک دن لندن چلا آیا۔ وکالت میرا عشق ہے۔ میں نے اپنے والد کی صرف دو نافرمانیاں کیں، سگریٹ اور وکالت۔ حیرت کہ باپ جو کام خود کرتے ہیں اکثر اولاد کیلیے مضر خیال کرتے ہیں۔ انگلستان میں “اعلی تعلیم کے حصول” کے ساتھ ساتھ میں نے وہ سب کیا جو اعلی تعلیم کے حصول کیلیے آئے قائداعظم اور اقبال نے نہیں کیا۔ ہاں مگر خواب دیکھتا رہا۔ صبح پانچ بجے دوکانوں پر ڈلیوری دیتے ہوے، بیرے کے طور پر جھوٹی پلیٹیں اٹھاتے ہوے، پارٹی روم ویٹر کے طور پر شرابیوں کی الٹیاں صاف کرتے ہوے یا سٹینڈ پر کھڑے “سکائی ٹی وی” بیچتے ہوے؛ میں خواب دیکھتا رہا اور میرا وکالت کا عشق جنون بنتا رہا۔ اور پھر اک دن میں نے اپنی لگی لگائی سیلز کی روزی کو چھوڑ کر ایک لا فرم اس شرط پر جوائن کر لی کہ کیس لاؤ، کام کرو اور اس پر اپنا حصہ لو۔ یاد رہے کہ اس وقت تک مجھے جانتے ہی بس چند لوگ تھے۔ میں نے کئی لا فرموں میں کام کیا، اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام بھی کیا، کم کھا کر خرچہ بھی پورا کیا، اپنے ایک باس کی گندی گالیاں بھی سنیں، مگر اک خواب تھا کہ وکیل بننا ہے اور پھر میرے رب نے میری محنت کو قبول کر لیا۔ وکالت چل ہی نکلی۔

صاحبو، آپ کو یہ ذاتی رام کتھا یوں سنانا شاید معیوب ہے مگر اس کا مقصد آپ سے چندہ اکٹھا کرنا نہیں۔ آج سولہ مئی دو ہزار سولہ کو الحمدللّٰہ میں نے ایک اور خواب کی تعبیر پائی۔ آج میری اپنی فرم “جولیا اینڈ رانا سولسٹرز” کا پہلا دن تھا۔ پرنسپل سولسٹر کی سیٹ پر بیٹھا تو یہ سب ایک فلم کی طرح چل پڑا۔ یادش بخیر ایک دن میرے ایک سابق باس نے مجھے کہا سمجھ نہیں آتا اچھے خاصے پیسے کماتے ہو پھر مطمئن کیوں نہیں۔ میں نے کہا” اگر پیسا ہی کمانا ہوتا تو سیلز میں زیادہ کماتا تھا۔ مجھے خواب دیکھنے کی عادت ہے”۔ سو خواب دیکھا تھا کہ جہاں سے گرا تھا، اسی تخت تک واپس جانا ہے۔ میرے رب کا شکر کہ میرے خواب کو صورت بخشی۔ صاحبو، خواب دیکھیے، حالات جیسے بھی ہوں خواب دیکھیے اور انکی صورت گری کی کوشش کیجیے۔ ہمارا کام فقط کوشش ہے۔ ہماری قوم بیک وقت دنیا کی سست ترین اور محنتی ترین قوم ہے۔ کتنے ہی ہیں جو اپنے خوابوں کی تعبیر تلاشتے ہیں اور کئی پا بھی جاتے ہیں۔ مگر کتنے ہی ہیں جو حالات کا رونا روتے رہ جاتے ہیں۔ حالات بدلنے کی کوشش تو rana02کیجیے اور باقی اس پر چھوڑئیے جو کہتا ہے کہ ہم لوگوں میں دنوں کو پھیرتے رہتے ہیں۔

بہت سے دوستوں نے پوچھا تھا کہ جولیا کون ہے اور اسکا نام مجھ سے پہلے کیوں رکھا۔ جولیا میری بیوی ہے۔ اس نے مجھے تب قبول کیا جب مجھے ٹھکرائے جانے کی عادت ہو چلی تھی۔ اک دن جب اپنے باس کے ناروا سلوک پر آزردہ تھا تو اس نے مجھے اکسا کر وکالت کا آخری امتحان پاس کرنے پر مجبور کیا۔ اس نے اس موقعے پر میری حوصلہ افزائی کی جب میں کم ہمتی کے نیزوں کی زد پہ تھا۔ ایک شاعر اپنی محبت کا اظہار شعر سے، مصنف ہیر رانجھا یا رومیو جولیٹ لکھ کر اور شہنشاہ تاج محل بنا کر کیا کرتے ہیں۔ ایک غریب وکیل اپنی محبت کو فقط یہی دان کر سکتا تھا کہ اپنی فرم کے نام میں اس کا نام ڈال کر یہ کہانی امر کر لے۔ میں نے بیگم سے کہا”یہ میری محبت کا تاج محل ہے”، مگر اسے خوشی نہیں ہوئی۔ اس نے پڑھ رکھا ہے کہ ممتاز محل شاہجاں کے پندرہویں بچے کو جنم دیتی ہوئی مر گئی تھی۔


Comments

FB Login Required - comments

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 35 posts and counting.See all posts by inam-rana