اگر بھٹو صاحب کی بیٹی وزیراعظم بن سکتی ہیں تو میری بیٹی کیوں نہیں؟


ملالہ یوسف زئی کے والد، ماہر تعلیم، سماجی کارکن اور دانش ور ضیاء الدین یوسف زئی سے خصوصی انٹرویو (حصہ اول)

ملالہ یوسف زئی کے والد ضیاء الدین یوسف زئی کی اپنی ایک الگ شناخت اور پہچان بھی ہے۔ وہ زمانۂ طالب علمی سے ہی ایک شعلہ بیاں مقرر اور طلبہ سیاست میں ایک سرگرم طالب علم رہنما کی حیثیت سے اپنے حلقے میں نمایاں رہے ہیں۔ مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے بچپن میں ان کی تربیت خالص مذہبی خطوط پر کی گئی تھی۔ مذہبی رنگ ان پر اس قدر حاوی تھا کہ وہ اپنے نام کے ساتھ پنج پیری کا لاحقہ بھی استعمال کرتے تھے۔ کالج میں ان کا واسطہ روشن خیال سیاسی جماعتوں سے پڑا جس نے ان کے نظریات میں انقلابی تبدیلی پیدا کی۔ کالج میں ڈیموکریٹک سٹوڈنٹ فیڈریشن اور پختون سٹوڈنٹ فیڈریشن سے وابستگی کے بعد ایک طالب علم سیاسی رہنما کی حیثیت سے ان کے جوہر کھل کر سامنے آگئے۔

وہ ایک ماہر تعلیم، شاعر، دانش ور اور سوشل ایکٹویسٹ ہیں۔ سوات میں مختلف تنظیموں اور جرگوں میں ایک فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ وادئ سوات میں طالبانائزیشن کے دوران وہ طالبان کے خلاف چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑے رہے۔ اس وقت جب کہ بڑے بڑے جغادری سیاست دان طالبانی جبر کے خلاف لب کشائی کی جرأت نہیں کرسکتے تھے، ضیاء الدین یوسف زئی طالبان کی زیادتیوں اور سوات میں لڑکیوں کی تعلیم پر ان کی عائد کردہ پابندیوں کے خلاف کھل کر نہ صرف عوامی سٹیج سے بولتے تھے بلکہ مختلف ٹی وی چینلوں میں ٹاک شوز میں بھی کسی لگی لپٹی کے بغیر مذہبی شدت پسندی کے خلاف کھل کر اظہارِ خیال کرتے تھے۔ سوات میں کوئی بھی تقریب ہوتی، خواہ وہ تعلیم سے متعلق ہوتی، سیاست، علم و ادب اور سماجی معاملات کے بارے میں ہوتی، ان میں ضیاء الدین یوسف زئی کی موجودگی ناگزیر سمجھی جاتی تھی۔

ایک مشفق اور زیرک باپ کی حیثیت سے انھوں نے ملالہ یوسف زئی کی تعلیم و تربیت میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ وہ ملالہ کو اپنے ساتھ ہر تقریب میں لے جاتے اور اس کی خفتہ صلاحیتوں کو اظہار کے مواقع فراہم کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ملالہ آج عالم گیر شہرت کی حامل ہے۔ وہ آج جس مقام پر کھڑی ہے، اس کی شخصیت کی تزئین و پرداخت میں اگر اس کے والد کا ہاتھ نہ ہوتا تو اسے یہ مقام کبھی نصیب نہ ہوتا۔ ملالہ آج اپنے والد کی تربیت اور اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کا روشن چہرہ بن چکی ہے۔

ضیاء الدین یوسف زئی اس وقت ملالہ فنڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے بانی ممبر ہیں۔ وہ اقوام متحدہ سے مشیر برائے گلوبل ایجوکیشن کی حیثیت سے بھی وابستہ ہیں۔ ذیل میں ضیاء الدین یوسف زئی کا “ہم سب” کے لئے خصوصی تفصیلی انٹرویو نذرِ قارئین ہے۔ واضح رہے کہ ضیاء الدین یوسف زئی کا کسی پاکستانی میڈیا آؤٹ لیٹ کے لئے یہ پہلا انٹرویو ہے۔

٭٭٭   ٭٭٭

 

فضل ربی راہی: اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں مختصراً بتائیں؟

ضیاء الدین یوسف زئی: ضلع شانگلہ جو کہ ایک دور اُفتادہ علاقہ ہے، میں اس کے ایک دور اُفتادہ گاؤں برکانا (شاہ پور) میں پیدا ہوا۔ میری ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے پرائمری سکول میں ہوئی ۔ میں جس گھر میں پلا بڑھا ہوں، وہاں میرا ایک بڑا بھائی اور پانچ بہنیں تھیں۔ میرے والد سکول میں استاد اور ایک مسجد میں خطیب تھے۔ وہ دو فرائض سرانجام دیتے تھے۔ ایسے ہی ماحول میں میری تربیت ہوئی اور میری شخصیت پروان چڑھی۔

فضل ربی راہی: شانگلہ جو اس وقت سوات ہی کا ایک حصہ تھا، میں اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے سوات کے مرکزی شہر مینگورہ چلے گئے تھے۔ اس دوران کن تعلیمی اداروں سے فیض یاب ہوتے رہے؟

ضیاء الدین یوسف زئی: جیسا کہ میں نے بتایا کہ میں نے اپنی ابتدائی تعلیم برکانا کے پرائمری سکول میں حاصل کی۔ مجھے یاد ہے کہ وہ دو کمروں کا سکول تھا اور وہاں ہم ٹاٹ پہ بیٹھتے تھے جس پر کافی گرد بھی پڑی رہتی تھی۔ اس زمانے میں اس سکول میں کسی واش روم کا انتظام بھی نہیں تھا، اس لئے ہم رفع حاجت کے لئے قریبی کھائی میں جاتے تھے۔ پھر ایسا ہوا کہ سکول میں کچھ تعمیراتی کام کیا جانے لگا تو اس دوران ہم چند ماہ تک چنار کے درخت کے نیچے پڑھتے رہے ۔ میں نے ابتدائی تعلیم پانچویں جماعت تک وہیں سے حاصل کی، چھٹی جماعت میں شاہ پور ہائی سکول میں داخلہ لیا جہاں میرے والد استاد تھے، وہاں سے میں نے میٹرک کیا۔

یہ سکول ریاست سوات کے حکمران والئی سوات نے تعمیر کیا تھا جو مڈل کلاس تک تھا اور بعد میں پاکستان میں ادغام کے بعد اس کا درجہ ہائی سکول تک بڑھا دیا گیا۔ چوں کہ شانگلہ میں کوئی نامی گرامی کالج نہیں تھا، اس لئے میٹرک کے بعد شانگلہ کے طالب علم گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہان زیب کالج سوات جایا کرتے تھے، میں نے بھی جہان زیب کالج میں داخلہ لیا۔ مینگورہ آگیا تو پھر میں نے رہائش کے لئے واپس شانگلہ کا رخ نہیں کیا۔ میں زمانہ طالب علمی میں سوات کے ایک خوب صورت گاؤں سپل بانڈئی میں رہا جہاں مجھے لوگوں سے بڑی محبت ملی۔

پھر مینگورہ کی معاشرتی زندگی میرے لئے دل چسپی کا باعث بنی۔ وہاں کی فعال سول سوسائٹی، جس میں آپ بھی شامل تھے، دوسرے دوست بھی تھے جن کے ساتھ میرا ایسا لگاؤ پیدا ہوا اور ان سے اتنا پیار ملا کہ میرا دل وہاں ہی اٹکا رہا۔ میں نے سوچا کہ مینگورہ میرے لئے بہت اچھا ہے۔ میں نے ایف ایس سی جہان زیب کالج سے کیا، اس کے بعد میرے والد صاحب چاہتے تھے کہ میں ڈاکٹر بن جاؤں لیکن میں سائنس کے مضامین میں بہت کم زور تھا، اس کے علاوہ میرا زیادہ رجحان ادب اور فلسفے کی طرف تھا، سیاسیات میں بھی میری دل چسپی تھی، اس لئے میں ڈاکٹر نہ بن سکا۔ میں نے جہان زیب کالج ہی میں بی اے میں داخلہ لیا۔ وہاں سے بی اے کرنے کے بعد میں نے ایم اے انگریزی ادب میں داخلہ لیا لیکن وہاں چوں کہ میری بہت زیادہ سیاسی مصروفیات تھیں جن کی وجہ سے میری پڑھائی میں رکاوٹ پیدا ہونے لگی تھی، اس لئے مجھے اپنی ماسٹر کی ڈگری مکمل کرنے کے لئے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بنوں جانا پڑا۔

فضل ربی راہی: جیسا کہ آپ نے ذکر کیا کہ زمانۂ طالب علمی میں آپ سیاست میں بھی حصہ لیتے رہے تھے، اس وقت آپ عوامی نیشنل پارٹی کی طلبہ تنظیم پختون سٹوڈنٹ فیڈریشن میں سرگرم رہے، کیا اب بھی اس پارٹی کے نظریات سے متاثر ہیں؟

ضیاء الدین یوسف زئی: جماعت نہم سے لے کر بی اے تک میرے یہ چھ سال ایک طرح سے میرے سیاسی نظریات کے بننے میں لگے کیوں کہ میرا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا اور میں اپنے والد سے بہت متاثر تھا، اس لئے میرے ذہن پر مذہب کا بہت گہرا اثر تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مولانا صاحب جو سنہ اَسّی کے عشرے میں مجھے پڑھاتے تھے، جس کی وجہ سے میرے ذہن میں مذہبی شدت پسندی اتنی زیادہ آگئی تھی کہ میں نماز کے بعد دعا کرتا تھا کہ خدا کرے کہ کافروں اور مسلمانوں کے درمیان جنگ چھڑ جائے جس میں مَیں شہید ہوجاؤں۔ تو اس وقت میرے اس قسم کے خیالات تھے۔

اس دوران جب میں ایف ایس سی میں تھا، میری ملاقات ڈیموکریٹک سٹوڈنٹ فیڈریشن اور پی این پی یعنی پاکستان نیشنل پارٹی کے بزنجو گروپ کے شانگلہ میں اس کی پارٹی کے لوگوں سے ہوئی۔ اب میں دو قسم کے نظریات کے بیچ میں آگیا تھا، ایک طرف مذہبی خیالات تھے اور دوسری طرف سیکولر فکر کے حامل لوگ تھے جو مذہبی مباحث کی بجائے مادی اسباب اور حقائق کو اہمیت دیتے تھے، اس سےمیں نے زندگی کا ایک نیا زاویہ دیکھا یعنی سیاسیات اور معاشیات وغیرہ کا، تو ایف ایس سی میں میں ایک طرح ڈی ایس ایف میں تھا اور ڈی ایس ایف ایک ایسی تنظیم تھی جس میں بڑے عوامی اجتماعات کی بجائے کارنر میٹنگز ہوتی تھیں جس میں مجھے اظہار کا ویسا موقع نہیں ملتا تھا جس کی میری خواہش تھی۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں