آج دنیا میں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے سب سے توانا آواز ملالہ کی ہے: ضیاء الدین یوسف زئی


ملالہ یوسف زئی کے والد، ماہر تعلیم، سماجی کارکن اور دانش ور ضیاء الدین یوسف زئی سے خصوصی انٹرویو (حصہ سوم)

فضل ربی راہی: Let Her Fly کے نام سے آپ کی پہلی انگریزی کتاب زیر طبع ہے۔ یہ کس موضوع پر ہے اور یہ کتاب کب تک شائع ہوسکے گی؟

ضیاء الدین یوسف زئی: یہ میری دوسری بلکہ تیسری کتاب ہے ، میری پہلی کتاب پشتو شاعری کی ہے، دوسری ایک چھوٹا سا کتابچہ تھا۔ میری یہ کتاب Let Her Fly جس کا اردو ترجمہ پرواز کرنے دو! ہوسکتا ہے۔ یہ دراصل میری زندگی کی کہانی ہے، ایک بیٹے کی حیثیت سے، پانچ بہنوں کے بھائی کی حیثیت سے، دو بیٹوں کے باپ کی حیثیت سے، ایک بیٹی کے باپ کی حیثیت سے اور ایک بیوی کے شوہر کی حیثیت سے۔

میری زندگی مختلف ادوار اور حالات کی وجہ سے جس طرح ٹرانسفارم ہوئی ہے اور جس طرح کا اب میں انسان ہوں، جس طرح مختلف محرکات کی وجہ سے میری تربیت ہوئی، اس میں ان حالات کی پوری کہانی ہے، جس میں بہت سے لوگوں کے لئے ایک ایسا موثر پیغام موجود ہے جس سے ان کو بہت حوصلہ مل سکتا ہے۔ یہ دراصل ایک مسیج اورینٹڈ سٹوری ہے۔ میں نے پدرانہ نظام کے خلاف ایک جنگ لڑی ہے لیکن میں نے اس کا کوئی جھنڈا نہیں اٹھایا تھا کہ میں پدرانہ نظام کے خلاف ہوں لیکن اپنی بیٹی پر اعتماد کرنا، اپنی بیوی تورپیکئی جس کو آپ بھی جانتے ہیں، وہ آپ سے بھی ملتی رہی ہے، بات بھی کرتی رہی ہے، اس پہ اعتماد کرنا، ایک طرح سے میرا پدرانہ معاشرے کے خلاف خاموش لیکن کھلی بغاوت تھی۔

جب میں سوات میں ہوتا تھا تو میرے کئی دوستوں کی بیویوں کا مجھے نہ نام کا پتا ہوتا تھا اور نہ میں نے کبھی ان کو دیکھا تھا، لیکن تورپیکئی کو یہ آزادی میں نے وہاں بھی دی تھی، وہ فون پہ بات بھی کرتی تھی اور ضرورت ہوتی تو مل بھی لیتی تھی۔ میں ایک مختلف انسان تھا، یہ تبدیلی آسانی سے نہیں آتی کیوں کہ جب آپ کسی بھی سٹیٹس کو یا کسی سوشل ٹیبو کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں، تو جو سب سے پہلا آدمی مخالفت میں آپ کے سامنے آتا ہے، وہ آپ خود ہوتے ہیں کیوں کہ ایک پرانا ضیاء الدین ہوتا ہے اور ایک نیا ضیاء الدین ہوتا ہے، پرانے ضیاء الدین کے لئے یہ بڑا آسان ہوگا کہ وہ دوسرے شوہروں کی طرح، دوسرے باپوں کی طرح کنٹرول رکھے، بیٹی کو ٹیلی فون کی طرف نہ جانے دے، اس کو کہے کہ جب باہر نکلنا ہے تو پورا پردہ کرکے کسی مرد رشتےدار کے ساتھ نکلنا ہے، میں اس طرح نہیں تھا۔

لوگ اس وقت شاید اب بھی مجھے بزدل سمجھتے ہیں لیکن میں اس کو بہادری سمجھتا ہوں۔ بزدلی یا بہادری کا جو سفر ہے، لوگ مجھے کچھ بھی کہیں میں اس کی پروا نہیں کرتا۔ اگرچہ زیادہ تر لوگ میری بہت عزت کرتے ہیں لیکن مجھے بعض لوگوں کی طرف سے عجیب و غریب قسم کے الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، وہ مجھے اکثر یہ لکھتے ہیں کہ آپ بیٹی کا مال یا اس کی کمائی کھاتے ہیں، آپ بڑے بزدل ہیں تو میں نے ایک شخص کو جواباً لکھا کہ اگر بیٹے کی کمائی کھانا قابل فخر ہے تو بیٹی کی کمائی کھانے میں کیا ممانعت ہے؟ اتنے ہم پدرانہ معاشرے کے عادی ہوچکے ہیں کہ اگر آپ کا بیٹا کماتا ہے تو آپ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ میرے بیٹے نے سعودی عرب سے دس ہزار ریال بھیجے ہیں، بے چارا اپنے ملک میں بھی نہیں ہوتا، اس نے دبئی سے میرے لئے کمبل بھیجا ہے، میرے لئے اتنے پیسے بھیجے ہیں اور اگر آپ کی بیٹی کسی سکول میں جاب کرتی ہے، یا ڈاکٹر اور نرس ہے، اس کی کمائی پہ آپ کو شرم محسوس ہوتی ہے، حالاں کہ اس رویے پہ معاشرے کو شرمسار ہونا چاہئے۔ وہ اگر نرس ہے اور اس کو کسی ہسپتال میں ایک باعزت جاب ملی ہے، وہ محنت کرتی ہے اور اپنی تنخواہ میں سے بیس ہزار روپے آپ کے گھر میں لاتی ہے تویہ اَمر قابل فخر ہے یا اس پہ آپ کو شرمندہ ہونا چاہئے؟ یا معاشرے میں وہ لوگ جو اپنے گاؤں میں اس بندے کو بری نظر سے دیکھیں کہ اس کی بیٹی جاب کرتی ہے اور یہ اس کی کمائی کھاتا ہے، ان لوگوں کی ذہنیت پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔اصل میں تو اس بیٹے کے لئے کچھ کرنا چاہئے جو روزگار کے سلسلے میں ملک سے باہر ہے۔

اس کتاب میں میری زندگی سے متعلق اس طرح کے واقعات اور خیالات کا ذکر ہے۔ یہ کہانی میرے خیال میں لوگوں کے لئے دل چسپ ہوگی کیوں کہ یہ کتاب انگریزی کے ساتھ چھ سات دوسری زبانوں میں بھی شائع ہو رہی ہے، اس کا مصنف میں ہوں اور اس کو لکھنے والی لوئس کارپنٹر نامی ایک خاتون رائٹر ہیں۔ انشاء اللہ یہ کتاب چار نومبر کو مارکیٹ میں آجائے گی۔ اگر لوگ اس کتاب کو پڑھیں گے تو مجھے امید ہے کہ ہمارے معاشرے خصوصاً مردوں میں اس کی جومثبت تبدیلی آنی چاہئے، وہ ہماری اجتماعی خوشحالی کے لئے بہت ضروری ہے۔ میں ترقی کی بجائے خوشحالی کالفظ اس لئے استعمال کر رہا ہوں کہ لوگ پھر یہ کہیں گے کہ ہم وہ ترقی نہیں چاہتے جس میں خواتین آزاد ہوں، اس لئے میں کہتا ہوں کہ خوشحالی کے لئے، کیوں کہ خوشحالی تو ہم سب چاہتےہیں نا، اب مجھے میری بیٹی یا بیوی کی خوشحالی پہ دکھ ہوتا ہے تو پھر مجھ میں کوئی بیماری ہے، مجھے علاج کے لئے کسی ڈاکٹر کے پاس جانا چاہئے کہ جب میری بیٹی جاب کرتی ہے، تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے، وہ اپنی بات کرتی ہے، اس کی اپنی ایک شخصیت بنتی ہے، جس پہ اسے خوشی ہوتی ہے اور مجھے دکھ ہوتا ہے۔

یہ جو پدرانہ معاشرہ ہے یہ نفسیاتی بیمار ہے اور میں پشتونوں سے خصوصی طور پر کہناچاہتا ہوں کہ ہم جب حکمرانوں سے سوال کرتے ہیں کہ چی دا سنگہ آزادی دہ (یہ کیسی آزادی ہے) تو جو اپنی آدھی آبادی کو غلام رکھے، پابند رکھے، اس کو تعلیم نہ دے، اس کی آزادی پہ یقین نہ رکھےاور جب وہ باہر جاتی ہے، تقریر کرتی ہے تو وہ اس کا مذاق اڑاتےہیں، اس کی ہتک کرتے ہیں، ایسے معاشرے میں جب پشتون آزادی کی بات کرتے ہیں تو مجھے بہت عجیب لگتا ہے۔ اگر وہ دس بار حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ یہ کیسی آزادی ہے تو ایک بار خود کو بھی مخاطب کریں کہ یہ کیسی آزادی ہے جس میں انھوں نے اپنی آدھی آبادی کو محبوس کر رکھا ہے۔

فضل ربی راہی: آپ پشتو زبان کے بہت اچھے شاعر ہیں۔ آپ کے پہلے پشتو شعری مجموعہ ’’خو مینہ تل ژوندئ وی‘‘ (محبت ہمیشہ زندہ رہتی ہے) کے دو ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ کیا شاعری کا سلسلہ اب بھی جاری ہے؟

ضیاء الدین یوسف زئی: جب میں نے آخری نظم لکھی تھی وہ امن کے متعلق تھی جو میں نے افغانستان میں ایک مشاعرے میں پڑھی تھی اور جسے بڑی پزیرائی ملی تھی، اس کے بعد میں نے کوئی خاص شاعری نہیں کی ہے کیوں کہ اس کے بعد میں بہ طور ایکٹویسٹ بہت مصروف ہوگیا تھا یعنی سکولوں کی تنظیم کے ساتھ بھی، گلوبل پیس کونسل میں بھی، جرگے میں بھی اور سول سوسائٹی کی دیگر سرگرمیوں میں بھی ۔ اس کے علاوہ طالبان کے خلاف ہم جو جدوجہد کر رہے تھے، اس میں میری مصروفیات اتنی بڑھ گئیں کہ میں اپنی شاعری بھول گیا۔ میرے نازک احساسات اورلطیف جذبات پہ گرد پڑ گئی جس کی وجہ سے میری تخلیقی صلاحیت وہ نہیں رہی جو ہونی چاہئے۔ ہمارے دوست شوکت شرار آرکٹیکٹ، ڈاکٹر خادم حسین اور آپ بھی مجھے کہتے رہے ہیں کہ میں شاعری سے ناتا جوڑے رکھوں، آپ دوست ایسے ہیں جو مجھے ہمیشہ شاعری اور ادب کی طرف راغب کرتے رہتے ہیں جس کے لئے میں آپ سب کا بڑا شکرگزار ہوں کہ آپ مجھے شاعر سمجھتے ہیں ورنہ میں تو آج تک خود کو کوئی خاص شاعر نہیں سمجھ سکا۔

فضل ربی راہی: آپ کی سوچ اور نظریات سے ترقی پسند ہونے کا تاثر ملتا ہے، زمانہ طالب علمی میں آپ کون سی کتابیں پڑھتے رہے ہیں؟ آپ کن شاعروں اور ادیبوں سے متاثر ہیں؟

ضیاء الدین یوسف زئی: میں نے اپنے والد کی لائبریری میں کافی اسلامی لٹریچر پڑھا ہے۔ ان کی لائبریری میں ’’خدام الدین‘‘ نامی بہت رسالے ہوتے تھے، مجھے نہیں پتا کہ یہ مولاناعبدالحق صاحب یا مفتی محمود صاحب کی جمعیت علمائے اسلام کی زیر ادارت ہوا کرتے تھے، لیکن اس رسالے کے مضامین میں بہت پڑھتا تھا۔ میرے والد صاحب کی لائبریری میں زیادہ تر اسلامی کتابیں ہوتی تھیں، ان میں اقبال اور شیخ سعدی کی شاعری اور مولانا ابولکلام آزاد کی کتابیں غبار خاطر وغیرہ ہوا کرتی تھیں، تو کچھ کتابیں تو میں وہاں سے پڑھتا تھا اور قرآن پاک کے ترجمہ کے علاوہ فارسی و عربی کی کچھ کتابیں میرے والد صاحب نے ایک استاد سے مجھے پڑھوائی تھیں، اس لئے مطالعہ کے حوالے سے میری ایک بنیاد موجود ہے۔ پشتو ادب کے ساتھ میری دل چسپی ایف ایس سی کے بعد پیدا ہوئی، اس وقت میں نے پشتو کی شاعری پڑھنا شروع کی۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں