مذہبی سیاست میں بدلتے ہوئے رجحانات


بعض مذہبی جماعتوں کیلئے موجودہ سیاسی مشکلات سے نمٹنا مشکل ہو رہا ہے اور گزشتہ دوانتخابات میں ان کی یکےبعد دیگرے شکست نے ووٹرز کی حمایت حاصل کرنےکی ان کی صلاحیت پرسنجیدہ سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ کچھ نئےحقائق نے انھیں بدل کر رکھ دیا ہے ان میں وہ گروپس بھی شامل ہیں جنھوں نےماضی میں پارلیمانی طرزِحکومت کو مسترد کردیا تھا۔ اگروہ اپنےمتعلقہ پلیٹ فارم سےالیکشن میں حصہ لیں گے تو انھیں مزید ذلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انھوں نے اکٹھے متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سےکم ازکم 12 سیٹیں نکالی ہیں اور تقریباً 22 لاکھ ووٹ حاصل کیے۔ جماعت اسلامی، جمیعت علمائےاسلام اور جمعیت علما ئے پاکستان بھی ملک کی پرانی سیاسی جماعتیں ہیں، یہ ہمیشہ ووٹ اور انتخابات کے ذریعے ملک میں تبدیلی لانے پریقین رکھتی ہیں۔ انھوں نے 1973 کا آئین تیار کرنے میں بھی کرداراداکیا۔ لہذا دیگرسخت گیرموقف والی جماعتوں کےمقابلےمیں ان کی سوچ کافی اعتدال پسندی پرمبنی ہے۔ خاص طورپر جےیوآئی(ف) عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے پروان چڑھنے کا کوئی جواب نہ دے سکی کیونکہ عمران خان کی شہرت کے علاوہ لبرل جدید سوچ کےساتھ اس مرکزی جماعت نے جےیوآئی اور مولانا فضل رحمان کی لیڈرشپ کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کو دوہرے نقصان کا سامنا ہے۔ ایک طرف جےیوآئی (ف ) سےہاتھ ملانے پر اسے اندرسے تنقید کا سامنا ہے اور دوسری جانب اس کے ووٹرز کی بڑی تعداد پی ٹی آئی کی طرف چلی گئی۔ 2013 سے  2018 تک پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر جماعت اسلامی نے جو بھی حاصل کیا تھا، وہ سب اس نے گزشتہ الیکشن میں ہار دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ افغان جنگ کے بعد اور خاص طور پر نائن الیون کے بعد یہ دونوں پارٹیاں مذہبی سیاست میں تبدیل ہوتے ہوئے رجحانات کےساتھ خود کو بدل نہ سکیں۔ نہ صرف انہوں نے مزید شدت پسندی والی سیاست کو فروغ دیا بلکہ القاعدہ طالبان اور القاعدہ کی طرح کی تنظیمیں اور گروپس سامنے آئے جنھوں نے تبدیلی لانے کیلئے الیکشن اور جمہو ریت کے خلاف موقف اپنایا۔ جماعت اسلامی شدت پسندی والی سیاست کا شکار زیادہ ہوئی لیکن انھیں خود کواس کا ذمہ دار قرار دینا چاہیئےکیونکہ وہ اس بیانیے کا حصہ رہے ہیں جس سے اب مزید انتہا پسند گروپس سامنے آئے ہیں جنھوں نے جے آئی اور جے یو آئی دونو ں کو چیلنج کیا ہے۔

جے یو آئی کے رہنما کیوں دہشتگرد حملوں کا شکار ہوئے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انھوں نے الیکشن کے ذریعے تبدیلی کی مستقل حمایت جاری رکھی۔ لیکن مذہبی جماعت جس نےایم ایم اے کا حصہ ہونے کے باوجود سب سے زیادہ نقصان اٹھایا وہ جمعیتِ علمائے پاکستان ہے جو 70 اور 80 کی دہائی میں مرحوم مولاناشاہ احمد نورانی اور مرحوم مولاناعبدالستارنیازی کے زیر قیادت قومی سیاست کا حصہ ہوا کرتی تھی۔ ان پارٹیوں کو اپنے اندر سنجیدہ نوعیت کی اصلاحات لانی چاہیئے اور سمجھنا چاہیئے کہ لبرل یا مرکزی جماعتوں جیسے پی پی پی، پی ایم ایل(ن) یا پی ٹی آئی کی بجائےانھیں اندرونی طور پر سنجیدہ نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔

تمام عملی مقاصد کیلئے تحریک لبیک پاکستان نے جو شعلہ بیان خطیب مولاناخادم حسین رضوی کے زیر قیادت ہے ان جماعتوں کی جگہ لے لی ہے، جو 25 جولائی کےانتخابات میں پانچویں بڑی جماعت بن کرسامنےآئی، اس پارٹی نے 25 لاکھ ووٹ حاصل کیے۔ اگرچہ اس نے صوبائی اسمبلی کی دو سیٹیں لیں، لیکن اس نے پنجاب میں پی ایم ایل (ن) اور کرا چی میں ایم کیوایم کو کافی نقصان پہنچایا۔ ٹی ایل پی کا رجحان مکمل طورپر جے یو پی کی سیاست کے برعکس تھا اور مولانا نورانی اور ستار نیازی جیسے رہنمائوں کی غیرموجودگی میں جے یو پی میں تقسیم درتقسیم بھی ایک وجہ ہے۔ یہ امرقابل ذکر ہےکہ ٹی ایل پی نے الیکشن میں اپنی طاقت پر حصہ لیا اور کسی اتحاد کاحصہ نہیں بنی نہ ہی انھوں نے کوئی سیٹ ایڈجسمنٹ کی حتیٰ کہ ایم ایم اے جیسے اتحاد کاحصہ بھی نہیں بنی۔ اس سےانھیں ان کی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے اور مستقبل میں ان کی مدد کر سکتا ہے۔

ایک اور رجحان جو مرکزی سیاست میں مذہبی جماعتوں کےپھیلائو میں کردار ادا کر سکتا ہے وہ ان پارٹیوں اور گروپس کا 2013 تک کا یہ فیصلہ تھا کہ الیکشن اور مغربی طرزِ جمہوریت ایک ’غیراسلامی‘ طریقہ ہے۔ وہ اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ انتخابات کے ذریعے تبدیلی لاسکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ میڈیا کیلئے اپنی سیاست اور سوچ میں بہتری لائے ہیں کیونکہ ماضی میں وہ ٹی وی سکرین پر آنے سے گریز کرتے تھے یا فوٹو بنوانے کے بھی خلاف تھے۔ ان میں سے سب سے نمایاں گروپ حافظ سعید کی زیرقیادت جماعت الدعوۃ ہے۔ ماضی میں انھوں نے ایم ایم اے کی جانب سے دعوت ٹھکرا دی تھی یا 2013 میں بننے والےانتخابی اتحاد دفاعِ پاکستان کونسل کا حصہ بننے سے انکار کیا تھا۔ لہذا جب انھوں نےپہلی بار ملی مسلم لیگ اور بعد میں اللہ کبرتحریک کےخیال کی توثیق کی تو ان کی سوچ میں بھی تبدیلی آئی۔ ان کے اپنےبیٹےطلحہ سعید نے این اے91 سرگود ھا سےالیکشن میں حصہ لیا اور 12 ہزار ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے امیدواروں نے مجموعی طورپر 5 لاکھ ووٹ حاصل کیے۔ انھوں نےعام نشستوں پر13 خواتین امیدوار بھی کھڑی کیں ان میں سے اکثر کا تعلق مختلف فرقوں سے تھا یہ ایسی بات ہے جو دیگر مذہبی جماعتوں میں نہیں ملتی۔

بشکریہ روز نامہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں