ایک ایک رمق۔ ایک ایک قطمیر کا علم سب کو ہے


نہیں! ایسانہیں! سب کچھ متکبر انسانوں کے اختیار میں نہیں! ایسا ہوتا تو کارخانہ عالم چل سکتا نہ جزا اور سزا کی ضرورت پیش آتی!

مدت ہوئی بزرگوں سے سنا تھا کہ دیانت داروں کی نیک نامی فضائوں میں خوشبو کی طرح بکھیر دی جاتی ہے۔ کیا عجب اس پر فرشتے مامور ہوں! بدنیت ‘ مفاد پرست اور زر پوش لاکھ پردے تانیں‘بری شہرت کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیتی ہے۔ قدرت کا اپنا نظام ہے۔ نیکی چھپتی ہے نہ بدی! کاش طاقت ور اس اٹل حقیقت کو سمجھ سکتے!!

معیشت دان کہتے ہیں کہ اُبھرے پیٹ کی طرح افراط زر چھپایا نہیں جا سکتا۔ عام لوگ برملا کہتے ہیں عشق پوشیدہ رہتا ہے، نہ مُشک! مگر نظر نہ آنے والا نظام۔ جو اس ظاہری دنیا کے متوازی چل رہا ہے۔ کچھ اور چیزوں کو بھی ظاہر کر دیتا ہے۔ حرام کی کمائی کبھی نہیں چھپتی وہ نالائق‘کند ذہن‘ کج فہم جو گھومنے والی نرم چرمی کرسیوں پر بیٹھے‘ نکٹائیوں کی گرہیں منحوس انگلیوں سے سیدھی کرتے، عشرہ طرازی کے ساتھ پائپ میں تمباکو کی تہہ بٹھاتے‘ ریاست کو طاعون زدہ کرتے ہیں، بالآخر ظاہر اور رسوا ہو کر رہتے ہیں۔

مگر سیاست دانوں‘ جرنیلوں نوکر شاہی کے مہروں‘ طاقت ور تجار اور صنعت کاروں سے بھی زیادہ فرعونیت ان اینکر حضرات میں آ گئی ہے جو شہرت اور ریٹنگ کے منہ زور گھوڑوں پر بیٹھے ہوا سے باتیں کر رہے ہیں۔ ظلم کر رہے ہیں۔ ظلم پھیلا رہے ہیں!

دروغ گوئی کو انہوں نے سائنس بنا دیا ہے۔ ایک لمحے کے لیے بھی یہ سوچنے کو تیار نہیں کہ دنیا میں صرف نظر آنے والا نظام نہیں‘ نظر نہ آنے والا نظام ان کے تعاقب میں ہے۔ بری شہرت ان کی پھیلتی جا رہی ہے۔ کیا عجب فرشتے اس کام پر مامور ہوں‘ خلق خدا پر وہ عیاں ہو چکے ہیں مکمل طور پر عیاں!بُری طرح بے نقاب!

ان اینکر حضرات کے ساتھ وہی المیہ پیش آیا جو چوٹی پر بیٹھے ہوئے حکمران کے ساتھ پیش آتا ہے۔ خلق خدا سے انقطاع! عوام سے الگ تھلگ جَیٹ سَیٹ زندگی!

ہاں!جَیٹ سَیٹ زندگی!! اس اصطلاح سے پہلے اس قسم کے حضرات کے لیے ایک اور اصطلاح تھی۔’’کیفے سوسائٹی‘‘ یہ لوگ عوام سے الگ ‘ بلند پایہ گراں کیفوں میں بیٹھتے تھے۔ پھر جہاز آ گئے۔

یہ اینکر حضرات جَیٹ سَیٹ زندگی گزارتے ہیں! کبھی ایک حکمران کے ساتھ جہاز پر‘ کبھی دوسرے کے ساتھ ہیلی کاپٹر پر‘ کبھی دولت مندوں کے ساتھ‘ کبھی خود اپنی پسند کے اسفار پر! زندگی ان کی ایک وزیر اعظم‘ ایک صدر‘ ایک وزیر خارجہ کی زندگی سے کم مصروف نہیں!

ٹی وی پر پروگرام! سیاست دانوں سے ملاقاتیں! بڑے بڑے بزنس ٹائیکونوں سے مذاکرات!کاروباری مصروفیات بلند منصب پر فائز ہر شخص ان کی توجہ کا طلب گار‘ اہم شخصیات سے فون پر بات چیت!ہر بڑے شہر میں عالی شان محل!کچھ کے بیرون ملک کئی کئی عشرت کدے!شمالی علاقہ جات سے لے کر دبئی تک اور دبئی سے لے کر سوئٹزرلینڈ تک سیرو سیاحت دُہری شہریتیں !

ایسے میں رشتہ عوام سے مکمل طور پر کٹ جاتا ہے۔ سودا سلف لینے بازار وہ اسی طرح نہیں جاتے جس طرح غریب ملکوں کے کھرب پتی حکمران نہیں جاتے! وہ عملاً قرنطینہ (Quarantine) میں رہ رہے ہیں! الگ تھلگ جگہ جہاں اُن مریضوں کو رکھا جاتا ہے جو خطرناک متعدی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں!یہاں تک کہ اب ان کے پاس سوشل میڈیا کو بھی سونگھنے کا وقت نہیں!

مگر اس سارے عرصہ میں نظر نہ آنے والا نظام مسلسل کام کر رہا ہے! کوئی یہ نہ سمجھے کہ اس نظر نہ آنے والے نظام سے مراد پیروں فقیروں کی کشف و کرامات کی تعویز گنڈوں کی‘ نجومیوں پامسٹوں کی اور ملنگوں سادھوئوں کی دنیا ہے! نہیں!یہ نظر نہ آنے والا نظام قدرت کا نظام ہے۔

یہ فیصلے لوحِ محفوظ سے اترتے ہیں! اس نظام کی ایک جھلک ایک ہلکی سی جھلک‘ سورۃ کہف میں دکھائی گئی ہے منہدم دیوار تعمیر کر دی جاتی ہے۔ لڑکے کو قتل کر دیا جاتا ہے اچھی بھلی سالم کشتی کے پیندے میں سوراخ کردیا جاتا ہے! پروردگار صرف خالق نہیں!

مدبر الامر بھی ہے! تدبیریں کرتا ہے! ایک واقعہ دوسرے سے جڑا ہوتا ہے! آپ غصے میں ہیں۔ شدید غصے میں! جس پر غصہ ہے اُسے تہس نہس کر دینا چاہتے ہیں! بھول جاتے ہیں کہ وہ قریبی عزیز ہے! مخلص دوست ہے! فون کرتے ہیں فون نہیں ملتا! بار بار ڈائل کرتے ہیں‘ بار بار مصروف ملتا ہے۔

لائن خراب ہو جاتی ہے۔ غصے میں جھلا کر گاڑی میں بیٹھتے ہیں۔کہ اس کے گھر جا کر اس کی آئندہ نسلوں کو سبق سکھا کر آتا ہوں۔ گاڑی سٹارٹ نہیں ہوتی! رابطہ ہو ہی نہیں پا رہا۔ شام کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تو قصور ہی نہیں! آپ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ فون نہیں ملا۔ گاڑی کا انجن نہیں سٹارٹ ہوا۔

اس وقت تو آپ نے فون پٹخ دیا تھا اور گاڑی کی بے گناہ باڈی کو فرنگی بوٹ سے ٹھوکر بھی ماری تھی!! تو کیا یہ محض اتفاق تھا؟ ہاں! محض اتفاق کہنے اور سمجھنے والے بھی بہت ہیں ! وہ بھی ہیں جو زندگی کو محض دو برقی تاروں ۔ مثبت اور منفی۔ کے مل جانے کا نام دیتے ہیں! غالب کی طرح بہت ہیں جو کہتے ہیں    ؎

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

مگر نہیں!ایسا نہیں! یہ فون کسی ان دیکھے ہاتھ نے ملنے نہ دیا۔ یہ گاڑی اس وقت خود بخود خراب نہیں ہوئی۔ کی گئی۔ تاکہ آپ کو حادثے سے‘ جنگ سے‘ ایک المناک نتیجے سے بچایا جا سکے جو رونما ہو جاتا تو خاندان کے بے گناہ افراد پس جاتے۔ مخلص دوست سے آپ محروم ہو جاتے!!یہ حقیقت تو واشگاف الفاظ میں وحی بھی کر دی گئی۔ بسا اوقات تمہیں ایک شے پسند ہے جب کہ وہ نقصان دہ ہے۔ بہت دفعہ تم ایک شے کو مکروہ گردانتے ہو مگر اس میں تمہارے لیے خیر ہے(مفہوم) نظر نہ آنے والا نظام پوری قوت سے کارفرما ہے!

مفادات‘ شہرت‘ دولت اور قرنطینہ کی گرد میں روپوش یہ طاقتور اینکر بے نقاب ہو چکے!ان کا تعصب خلقِ خدا پر عیاں ہو گیا۔ افسوس !ہیہات!ہیہات! یہ ابھی تک اس حقیقت سے بے خبر ہیں! یہ عوام سے کٹے ہوئے ہیں ! زرداری صاحب کی طرح! میاں نواز شریف کی طرح! بلاول‘ مریم اور حمزہ شہباز کی طرح! ان کے اندازے غلط!ان کے تجزیے تارِ عنکبوت کی طرح بے اصل! ان کا جھکائو واضح! ان کا انجام معلوم!!

پون گھنٹہ ہو گیا تھا انتظار گاہ میں بیٹھے! بلایا گیا کہ ڈاکٹر کے پاس جانے کی باری آ گئی ہے۔ اہلیہ کا بلڈ پریشر ٹیسٹ کرائیے اور وزن کرنے والی مشین پر کھڑا کیجیے۔ سفید ریش شخص بی پی چیک کر چکا تو پوچھا ووٹ کسے دیا تھا۔ کہنے لگا دیا ہی نہیں، ڈیوٹی پر تھا۔ پوچھا دیتے تو کسے دیتے‘ کہنے لگا پی ٹی آئی کو!

اس پہلے انتظار گاہ میں ٹیلی ویژن پر ایک مشہور و معروف اینکر عمران خان کو مشورے دے رہا تھا اور ساتھ ساتھ طنز لطیف میں کہے جا رہا تھا کہ ایسا کر دیں تو جانیں گے۔ بائیں طرف بیٹھا‘ منتظر مریض۔ شائستگی سے عاری نکلا۔ ایک گالی دی اور قدرے بلند آوازمیں بولا۔ یہ مشورے نواز شریف کو کیوں نہیں دیے؟ دوسری طرف والا بولا۔ نواز شریف کو کیسے دیتا؟ اس سے لفافہ جو مل رہا تھا!!

نسخہ لیا۔ دوا فروش کے پاس آئے۔ کائونٹر پر دو نوجوان تھے۔ دونوں سے پوچھا ووٹ کسے دیا تھا کہنے لگے پی ٹی آئی!

حاشا وکلا یہ مطلب نہیں کہ سب نے ووٹ پی ٹی آئی کو دیے مگر لہر جو چڑھی اور سر سے بلند ہو گئی بہت سوں کو دکھائی نہ دی! آنکھوں میں موتیا ہی نہیں‘ چنبیلی اور رات کی رانی بھی آ جاتی ہے!! یہ منظر اس سے پہلے بھی رونما ہوا تھا! بھٹو نے کھمبے کھڑے کیے اور لوگوں نے کھمبوں کو ووٹ ڈالے!!

بریلوی دیو بندی بیکار جھگڑ رہے ہیں کہ نیکوں کے پاس علم ہے یا نہیں‘ وہ طاقت ور ہیں یا نہیں! مردے جانتے ہیں یا نہیں! خدا کے بندو! اولیا تواولیا‘ عام شخص عام دکاندار عام نائب قاصد، عام صوفہ ساز، ویگن کا عام کوچوان بھی سب کچھ جانتا ہے!

مروّت میں یا ڈر سے نہ بولے تو اور بات ہے! کالم نگاروں اور اینکر حضرات نے سیاست دانوں سے‘ غیر سیاست دانوں سے حکمرانوں سے‘ اغنیا سے جو کچھ لیا‘ اس کی ایک ایک تفصیل ایک ایک رمق ایک ایک قطمیر کا علم ان عام لوگوں کو ہے!نیک نامی فضائوں میں خوشبو کی طرح بکھیر دی جاتی ہے اور بدی دھوئیں کی طرح!!
دم گھٹتا ہے مگر علم سب کو ہو جاتا ہے!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں