کم از کم عدل جہانگیری تو ہو


جب بھی مذہبی سیاست کی باسی کڑھی میں اُبال آتا ہے تو چارسو اسلامی نظام کے نفاذ کی باتیں ہونے لگتی ہیں۔ حکام ہوں یا عوام، ہر گزرتے دن کیساتھ یہ خیال سب کو چٹکیاں کاٹتا ہے کہ 1400سال پرانے اس دور کا احیا ہو جہاں قانون کی نظر میں سب برابر ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی انتخابی نتائج کے بعد اپنی ابتدائی تقریر میں ریاست مدینہ کی مثال دی۔ یہ محض اتفاق ہی ہے کہ عمران خان کی جانب سے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا عزم ظاہر کرنے کے چند روز بعد ہی تحریک انصاف کے پرچم میں لپٹے ایک کتے کو نہایت بیدردی سے قتل کرنے کی ویڈیو وائرل ہوئی اور خیبر پختونخوا پولیس نے 12گھنٹے میں اس بے زبان جانور کا خون ناحق کرنیوالوں کو گرفتار کرلیا۔ بعض دوستوں نے اس واقعہ کو حضرت عمر فاروقؓ کے اس قول سے تشبیہ دی کہ دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا پیاسا مر گیا تو اس کا حساب کتاب ہو گا۔ سر تسلیم خم، نئے پاکستان میں کتوں کو انصاف ملنا شروع ہو گیا مگر تکلف برطرف، انسانوں کو کب اور کیسے، کن نرخناموں پر انصاف میسر آئے گا؟ ایک کتے کی ہلاکت پر تو قانون فوراً حرکت میں آگیا اور قاتل پکڑے گئے مگر اس ملک میں مارے جا رہے بے گناہ انسانوں کی بھی کوئی قدر و قیمت ہے یا نہیں؟ مردان یونیورسٹی میں نہایت بیدردی اور سفاکیت سے قتل کئے گئے مشال خان کے قاتل باعزت بری ہو گئے۔ نقیب اللہ محسود کے قاتل رائو انوار کی ضمانت ہو گئی، عابد باکسر جیسے کرائے کے قاتل آزاد پھرتے ہیں، کتنے ہی نوجوان یوں لاپتہ ہوئے گویا زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں، انسانوں کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں مگر قانون کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی؟ وطن عزیز میں لاقانونیت کا عالم دیکھ کر دل سے ہوک سی اٹھتی ہے کہ یہ تو جنگل سے بھی بدتر سماں ہے کہ جنگل کا بھی کوئی قانون اور ضابطہ ہوتا ہے، یہ تو اندھیر نگری ہے حضور! اندھیر نگری۔

عمران خان کو ابھی وزارت عظمیٰ کی کرسی پر متمکن ہونا ہے، میرا گلہ ان سے نہیں بلکہ قوم کا درد رکھنے والے وہ سب منصف اور رہبر اس مرثیہ خوانی اور نوحہ گری کے مخاطب ہیں جو گاہے گاہے لوگوں کو عدل فاروقیؓ کے خواب دکھاتے اور نظام مصطفیﷺ کے نام پر حکومت کرتے رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عدل و انصاف کے اعتبار سے ہمارے ملک کا شمار عصر حاضر کے بدترین ممالک میں ہوتا ہے۔ آپ قصور کی معصوم بچی زینب انصاری کی مثال لے لیں۔ یہ پاکستان کا ایسا ہائی پروفائل کیس ہے جس کی ماضی سے کوئی نظیر نہیں ملتی۔ پوری ریاستی مشینری نے زیادتی کے بعد قتل ہونے والی زینب کو انصاف فراہم کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ یہ بچی رواں سال کے آغاز میں جنوری کے پہلے عشرے میں اغوا ہوئی، میڈیا اور سول سوسائٹی کی فعالیت کے باعث قانون حرکت میں آیا اور اسی مہینے کے آخری عشرے میں 23 جنوری کو زینب کا قاتل علی عمران نقشبندی پکڑا گیا۔ ڈی این اے سے تصدیق ہو گئی کہ اسی سفاک قاتل نے زینب اور دیگر بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا، ملزم نے اپنے جرائم کا اعتراف بھی کر لیا۔ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کی مداخلت کے باعث یہ مقدمہ عام عدالت کے بجائے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں چلایا گیا، پولیس نے فوری طور پر چالان پیش کر دیا، عدالت نے ایک ماہ سے بھی کم مدت میں اس مقدمے کا فیصلہ کر کے ریکارڈ قائم کر دیا، مجرم کو جلد ٹھکانے لگانے کیلئے اسے وکلاء فراہم کر کے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی تاکہ قانونی تقاضے جلد پورے ہوں۔ ہائیکورٹ نے اپیل خارج کر دی تو سابقہ رفتار سے مقدمے کو آگے بڑھاتے ہوئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی گئی۔ 12جون کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں اپیل کی سماعت کرنے والے بنچ نے سزا کو برقرار رکھا۔ اب اگلا مرحلہ تھا صدرمملکت کی جانب سے رحم کی اپیل مسترد کئے جانے کا۔ تادم تحریر ایوان صدر سے رحم کی اس اپیل کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یوں پاکستان کی عدالتی تاریخ کے اس انتہائی ہائی پروفائل کیس میں بھی 8 ماہ گزرنے کے باوجود مجرم کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا جا سکا۔

اس ملک میں زینب جیسی بچیاں بلاناغہ کسی درندے کی ہوس کا نشانہ بنتی ہیں، چونکہ ان سب کی قسمت زینب جیسی نہیں ہوتی اس لئے ان کے مقدمے کو ہائی پروفائل کیس کا درجہ نہیں مل پاتا۔ پہلے مرحلے پر ایف آئی آر درج نہیں ہوتی، یہ مرحلہ شوق طے ہوجائے تو ملزم نہیں پکڑے جاتے، رشوت دیکر یہ کام بھی کروا لیا جائے تو ٹرائل کورٹ سے فیصلہ ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ کبھی وکیل صاحب چھٹی پر ہوتے ہیں، کبھی جج صاحب نہیں آتے، کبھی مقدمات کی طویل فہرست کے باعث باری نہیں آتی اور اگلی تاریخ دے دی جاتی ہے، پیشیاں بھگت بھگت کر ورثا کی کمر دہری ہو جاتی ہے۔ خدا خدا کر کے ملزم کو سزا ہو جائے تو ہائیکورٹ سے ضمانت ہو جاتی ہے، ایک بار پھر پیشیوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوتا ہے، ملزم مہنگا وکیل کرکے چھوٹ جاتا ہے، انصاف کے حصول کیلئے دھکے کھانے والے اپنا گھر بیچ کر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرتے ہیں تو سیاسی مقدمات کی بھرمار کے باعث ان کی شنوائی نہیں ہوتی۔ اگر کوئی مدعی دھن کا پکا ہو، قسمت ساتھ دے تو بھی مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے میں 20، 25 سال لگ جاتے ہیں۔ گاہے سوچتا ہوں اس قدر چھلنیاں لگانے اور عدل و انصاف کے ایک سے زائد مواقع فراہم کرنے کے بعد بھی بے گناہ جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں اور گناہ گار باعزت بری ہو جاتے ہیں تو ٹرائل کورٹ سے فیصلے کے بعد اپیل در اپیل کے نام پر انصاف میں تاخیر کا کیا جواز بنتا ہے؟ کیوں نہ ٹرائل کورٹ کو اس قدر مضبوط، آزاد، غیر جانبداراور باختیار بنا دیا جائے کہ غلطی کا احتمال باقی نہ رہے اور پھر اس فیصلے کے بعد اپیل کا محض ایک ہی فورم ہو، خواہ وہ ہائیکورٹ کی صورت میں ہو یا سپریم کورٹ کی صورت میں۔

کبھی سوچتا ہوں عدل و انصاف کی کرسی پر بیٹھے منصفوں اور قانون سازا داروں میں براجمان عوامی نمائندوں کو اس ناانصافی کا اِدراک کیوں نہیں ہوتا اور وہ روز محشر کیا منہ دکھائیں گے؟ سیاسی بحث و تمحیص ہوتی رہے گی، ڈیم بنتے رہیں گے، روزگار کے معاملات بھی بتدریج حل ہو جائیں گے، کیا ایسا ممکن ہے عوام کی مسیحائی کا دم بھرنے والے سب بااثر لوگ خواہ ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہے، خواہ وہ کسی بھی سوچ یا نظریات کے حامل ہوں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو یا بظاہر وہ غیر سیاسی مگر نہایت طاقتور اور باختیار ہی کیوں نہ ہوں، کیا وہ اس ایک نکتے پر اکھٹے نہیں ہو سکتے کہ فوری طور پر نظام عدل کی اصلاح کی جائے؟ریاست مدینہ، خلافت راشدہ اور عدل فاروقیؓ تو بہت اعلیٰ و ارفعٰ مثالیں ہیں، ممکن ہو توعدل جہانگیری ہی کی کوئی صورت نکال لی جائے تاکہ جب کوئی سائل زنجیر عدل ہلائے تو فوری انصاف پائے؟ بصورت دیگر، اگر ظلم یونہی عمران علی اور رائو انوار جیسے بچے جنتا رہا اور عدل کی کوکھ بانجھ رہی تو اس اندھیر نگری میں بھیڑیئے ہی باقی رہ جائیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں