صائمہ خود کو زخم کیوں لگاتی ہے؟


صائمہ سے میرا تعارف انٹرنیٹ کے توسط سے ہوا۔ پچھلے دنوں ویڈیو گفتگو کرتے ہوئے جب اس نے مجھے اپنے جسم پر پڑے زخم دکھائے تو میری چیخ نکل گئی۔ پنڈلیوں پر قینچی سےکیے شگاف اور خون کی کھرنڈ بتا رہی تھی کہ زخم بہت باسی نہیں۔ جسم کے وہ حصے کہ جو بآسانی ڈھانپے جاسکیں، یہ زخموں کے نشانات صائمہ کی ”خود ایذا رسائی‘‘ کی تکلیف دہ پوشیدہ مثالیں ہیں۔ صائمہ اکثر اپنے جذبات کی سونامی سے نپٹتی ہے۔ یہ وہ منہ زور طوفان ہے جس کے تھپیڑے بظاہر نظر نہیں آتے مگر وہ زندگی کے ساحل پر بے طرح پٹخ کے شدید مجروح کردیتے ہیں۔

صائمہ خود ایذا رسائی یا نان سیوساڈل سیلف انجری (Non Suicidal Self Injury) یا (NSSI) کی تکلیف دہ عادت میں مبتلا ہے جو لوگ دینا میں ”خاموش وبا‘‘ کی طرح پھیل رہی ہے مگر ہم سب اس پر بات کرنے سے گریزاں ہیں۔ ہم نے سوچا کہ صائمہ سے یہ سوال کہ ”آخر تم اپنے جسم کو مجروح کیوں کرتی ہو؟ ‘‘ شاید اس کی خود ایذا رسائی کی عادت کی پرتیں کھولنے میں مددگار ثابت ہو۔ ہمارے سوال کے جواب میں صائمہ نے بتایا:

”میری شادی 30 سال پہلے اپنے چچا زاد وقار سے ہوئی۔ اس وقت میری عمر بمشکل 18 برس اور ان کی 28 سال تھی۔ اس طرح میں ملتان سے سیائٹل (امریکہ) آگئی۔ وقار 21 سال کی عمر میں انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ آئے تھے۔ اس کے بعد ان کا پاکستان دو بار ہی آنا ہوا، ایک بار اپنے والد کے انتقال پر اور دوسری بار شادی کی غرض سے، وقار کو میں بہت کم جانتی تھی کیونکہ وہ کراچی میں پلے بڑھے تھے۔ خود میں اپنے والدین کی چوتھی بیٹی تھی۔ تین یکے بعد دیگرے بیٹیوں کی پیدائش کے بعد جب میری امی حاملہ ہوئیں تو ابا کو پوری امید تھی کہ اس بار خدا مایوس نہیں کرے گا اور اولادِ نرینہ سے نوازے گا مگر جب چوتھی بھی بیٹی ہوئی تو انہوں نے مایوسی کے توڑ کے لئے میرا نام ”فراز‘‘ رکھا اور پیار سے ”شہزادہ‘‘ پکارا۔

میں لڑکوں کے کپڑے پہنتی، انہی کی طرح بولتی، ان کے ساتھ کھیلتی اور یہ ثابت کرنے کے لئے کہ میں لڑکا ہوں، ان کے ساتھ ہر مقابلے میں شریک ہوتی۔ بہنوں کے برخلاف مجھ پر گھر کے کاموں کی ذمہ داری اور باہر کھیلنے پر پابندی نہ تھی۔ ابا میرے ”ہیرو‘‘ تھے مگر میرے ہیرو جلد ہی کینسر میں مبتلا ہو کر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اس وقت ان کے ”شہزادے‘‘ نے گھر والوں کا مردوں کی طرح خیال رکھنے کی ذمہ داری لے لی مگر قدرت نے تو مجھے لڑکی بنایا تھا۔ اس سے کس طرح جھگڑا مولا جاسکتا تھا۔ 11 برس کی عمر میں جب مجھ پر بلوغت کا ”سانحہ‘‘ ٹوٹا تو میں مہینوں گھر سے باہر نہیں نکلی، جسم کی تبدیلی ہارمونز کا اتار چڑھاؤ فطری تھا، مگر ابا کی موت کے بعد یہ تبدیلی ڈیپریشن اور انگزائٹی کی صورت مجھ پر ٹوٹ پڑی۔

میں تو گھر کو تحفظ دینے والا لڑکا تھا، کمزور عورت نہیں، میری ذہنی کیفیت کو کسی نے نہیں محسوس کیا۔ ویسے بھی ذہنی امراض اور نفسیات کو اس زمانے میں کون سنجیدگی سے لیتا تھا؟ پھر ابا کی وفات کے بعد ہم نے غیروں کے ہی نہیں اپنوں کے بھی روپ دیکھے۔ غربت اور محرومی نے مجھ پر گہرا اثر چھوڑا تھا تاہم اس وقت چچی اور چچا نے جو کراچی میں تھے، اپنی سپورٹ جاری رکھی۔ عسرت کے باوجود میری خوبصورتی اپنے کمال پر تھی، جب چچی نے وقار کا رشتہ مانگا تو جھٹ پٹ شادی لازمی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، برسرروزگار اور رشتہ دار لڑکا تھا، سب میری خوش نصیبی پر نازاں تھے اور میں اندر ہی اندر ایک بے یقینی کیفیت سے گزر رہی تھی۔

میں آگے پڑھنا چاہتی تھی تاکہ لڑکوں کی طرح امی اور گھر کا سہارا بنوں، مگر سارے خواب پورے کہاں ہوتے ہیں؟ اس طرح میں ملتان جیسے چھوٹے شہر سے نکل کرسیائٹل (Seatle) (امریکہ کی ریاست) آگئی۔ زبان، رہن سہن اور نظام سے اجنبیت اور اپنوں سے دوری میں وقار ہی میرا واحد جذباتی سہارا تھے۔ چند گھرانے پاکستانیوں کے بھی تھے جن سے وقار کا ملنا جلنا تھا۔ وقار میری شکل کے شادی کے وقت دیوانے تھے مگر بتدریج مجھے احساس ہوا کہ میرا اس نئی ثقافت سے بے بہرہ ہونا انہیں شرمندہ کرتا ہے۔ وہ میرا مذاق اُڑاتے، سب کے سامنے بھی تحقیر کرتے، ان کے رویے نے مجھ جیسی حساس لڑکی کو اپنی ہی نظر میں بے وقعت کرنا شروع کردیا، میرا اعتماد ٹوٹتا گیا، چار سال میں میرے دو بچے ہوگئے، وقار کی کمائی اتنی نہ تھی کہ کسی کو بلاتے یا پاکستان بھیج دیتے تاکہ میری جسمانی اور جذباتی مدد ہوسکے۔ اس دوران مجھے اندازہ ہوا کہ ان کا عورتوں کی جانب رجحان ہے۔

ان کے دوستوں نے مذاق مذاق میں بتایا بھی کہ ان کی ”گرل فرینڈز‘‘ تھیں۔ میں نے سوچا کہ اگر اور لڑکیوں کے ساتھ سوتے تھے تو مجھ سے شادی کرنے کی کیا ضرورت تھی بھلا؟ مگر میری شکایت ان کو غصے میں لاسکتی تھی۔ انہیں اپنے غصے پر کوئی قابو نہیں تھا۔ اکثر مرضی کے خلاف باتوں پر گالم گلوچ، تھپڑ، مار کٹائی، بال نوچنا ان کا وطیرہ تھا۔ وہ میرے احتجاج کو اپنی جسمانی طاقت اور گندی زبان سے قابو میں کرتے۔ 22 سال کی عمر میں مجھے اپنی طاقت کا اندازہ نہیں تھا، میں سماجی نظام سے نابلد ہونے کے ساتھ ساتھ انگزائٹی اور ڈیپریشن کا پہلے ہی شکار تھی۔ میرے اندر غم کا لاوا پک رہا تھا، دن رات میرا دماغ اس کیفیت سے پکتا رہا، میں انگزائٹی اور خوف کی دنیا میں مقید تھی اور ایک میکانکی زندگی بسر کررہی تھی۔ تیار ہو کر دعوتوں میں بھی جاتی مگر ساری محفل میں تنہا ہوتی، لوگ میرے بالوں اور آنکھوں کی تعریف کرتے تو میں سوچتی کیا ان میں کسی کو میرا دکھ نہیں نظر آتا؟

میرے اندر کی آگ ایک دن اتنی بھڑکی کہ مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آیا اور قینچی لے کر اپنے بال کاٹ لئے۔ مجھے لگا کہ یہ بال میرے جسم کا حصہ ہیں اور صرف ان پر ہی پرمیرا اختیار ہے۔ میری اس حرکت نے مجھے سکون دیا، اس کے بعد سے میں اکثر ہی اپنے جذباتی درد اور انگزائٹی سے نجات سے نپٹنے کے لئے اپنے جسم کے ان حصوں کو زخمی کرنے لگی جو کپڑے سے ڈھانپے جاسکتے ہیں مثلاً بازو، پنڈلی، پیٹ وغیرہ، اس کے لئے میں چاقو، قینچی یا کوئی بھی نوکیلی چیز حتیٰ کہ سیفٹی پن تک سے جسم کو کھرچنے لگتی۔ اس حرکت کے بعد اپنے بہتے خون سے تکلیف کم اور سکون زیادہ ملتا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں