ایجنڈا کچھ اور ہے !


rana imtiazآج وزیراعظم کی پارلیمان میں تشریف آوری اور پانامہ لیکس کے حوالے سے اپنے خاندان پر لگنے والے الزامات اور اپوزیشن کے سوالات پر ایک وضاحتی بیان پیش کرنا خواہ آپ اس سے متفق نہ ہوں لیکن وزیراعظم کی اس بھرپور کوشش نے بظاھر اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے، اس موقع پر حزب اختلاف کا ایوان سے منہ چھپا کر راہ فرار اختیار کرنا سمجھ سے بالاتر ہے عمران خان کی پولیٹکس تو ہر کوئی جانتا ہے انہوں نے کبھی بھی اس پارلیمان کو تسلیم نہیں کیا وہ تو الزامات لگاتے ہی فیصلہ بھی سنا دیتے ہیں ان کے نزدیک وہ اور ان کی پارٹی کے لوگ ہی دیانت کی کسوٹی پر پورے اترتے ہیں باقی سب سیاستدان چور اور لٹیرے ہیں.

لیکن پیپلز پارٹی والوں کی انتہا پسندی ناقابل یقین ہے چودھری اعتزاز احسن جو کے اس ملک کے مانے ہوے وکیل ہیں اپنی ہربات کو دلیل اور منطق سے ثابت کرنا ان کے پیشے کا وقار ہے آج وہ بھی اسی ہجوم کی قیادت کرتے ہوے ایوان سے باہر تشریف لے گئے، پارلیمان کی شان میں دن اور رات قصیدے پڑھنے والے پیپلز پارٹی والوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جو باتیں آپ نے پارلیمان سے باہر جاکر کیں وہ پارلیمان کے اندر بھی تو ہوسکتی تھیں اور اگر بایکاٹ سیاسی ضرورت تھی تو آپ تقاریر کے بعد بھی تو کرسکتے تھے، آپ کو پارلیمان کے اندر نواز شریف کی باتوں کو جھٹلانا چاہیے تھا افسوس آپ نے ایک تاریخی موقع کھو دیا۔ محترم عمران خان بھاگم بھاگ لندن سے کیا بائکاٹ کرنے کے لئے  تشریف لاے تھے بے اصولی کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے پارلیمان کی لڑائی پارلیمان سے باہر کرکے آپ لوگوں نے اپنا سیاسی قد چھوٹا کیا ہے.

حزب اختلاف کے اس غیر سنجیدہ رویے سے پانامہ لیکس کا بحران مزید سنگین ہوجاے گا اب تو صاف نظر آرہا ہے کے نشانہ نوازشریف کی ذات کے علاوہ اور کوئی نہیں، حزب اختلاف ملک کو درپیش مالی بدعنوانیوں کی روک تھام میں دلچسپی نہیں رکھتی ان کا مقصد صرف نواز شریف سے چھٹکارا پانا ہے، یہاں یہ پوچھنا غلط نہ ہوگا کہ حزب اختلاف اپنی اس کوشش میں کہیں جمہوریت کی گاڑی کو پٹری سے نہ اتار دے اور پھر آیندہ دس سال تک قوم اسی دایرے کے سفر میں واپس آ جائے، آج کی پیپلز پارٹی کو ذوالفقار علی بھٹو یا محترمہ بینظیر بھٹو  کی قیادت میسّر نہیں یقیناً یہ اپنی روایات سے انحراف کرچکی ہے یہی پیپلز پارٹی تھی جس نے ہمیشہ آمریت کا مقابلہ کیا جمہوریت کی آبیاری اپنے خون سے کی اپنے بانی چیئرمین کا عدالتی قتل اور بینظیر بھٹو کی شہادت کے عظیم سانحات برداشت کیے آج یہی پارٹی ان قوتوں کے ساتھ کھڑی ہے جو کہ آمریت کی پروردہ ہیں.

ایک بات ملحوظ خاطر رہے کہ راقم کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ میاں نواز شریف کی بددیانتی کو معاف کردیا جاۓ

عرض طلب صرف اتنا ہے کے ہماری سیاسی جماعتوں کو باہمی رضامندی سے ضابطہ کار کی تشکیل کرنی چاہیے اور قومی خزانہ لوٹنے والے تمام بددیانت افراد کا محاسبہ جلد از جلد شروع کرنا چاہیے، کسی بھی طالع آزما کو شب خون مرنے کا موقع نہیں دینا چاہیے. حزب اختلاف کی موجودہ روش سے نہ تو قومی دولت لوٹنے والوں کا احتساب ممکن ہے اور نہ ان کو کٹہرے میں لایا جاسکتا ہے. دھرنوں کی سیاست نے ملک کو شدید مالی نقصان پہنچایا ہے ہم مزید ایسی حماقتوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے. آج بھی سیاسی منظر پر حزب اختلاف نو جماعتوں پر مشتمل ہے گزرے ہوے زمانے میں یہی نو ستاروں پر مشتمل اتحاد تھا جس نے اس بھیانک رات کو جنم دیا جو قہر بن کر اس ملک پر دس سال تک چھائی رہی۔ خدا نہ کرے کہ پھر ایسا ہو.


Comments

FB Login Required - comments

رانا امتیاز احمد خان

رانا امتیاز احمد خاں جاپان کے ایک کاروباری ادارے کے متحدہ عرب امارات میں سربراہ ہیں۔ 1985 سے کاروباری مصروفیات کی وجہ سے جاپان اور کیلے فورنیا میں مقیم رہے ہیں۔ تاہم بحر پیمائی۔ صحرا نوردی اور کوچہ گردی کی ہنگامہ خیز مصروفیات کے باوجود انہوں نے اردو ادب، شاعری اور موسیقی کے ساتھ تعلق برقرار رکھا ہے۔ انہیں معیشت، بین الاقوامی تعلقات اور تازہ ترین حالات پر قلم اٹھانا مرغوب ہے

rana-imtiaz-khan has 21 posts and counting.See all posts by rana-imtiaz-khan