ایک طویل سفر کی کتھا


خزاں کی زلفوں میں اُلجھی ایک شام، آخری دَموں پہ تھی۔
تالاب کنارے، پیپل کا ایک بوڑھا شجر، اپنے شاخچوں میں بسنے والے پرندوں کے انتظار میں کھڑا اونگھ رہا تھا۔
دِ ن بھر کی مسافت سے تھکا ہارا سورج، تالاب کے پانی میں اُتر کر اشنان کرنے لگا تو لکن میٹی کھیل کر گھروں کو لوٹتے بچے یہ اچھوتا نظارہ دیکھ کر مسحور سے ہو گئے۔
ایک شریر بچے نے پانی میں کنکری پھینکی تو لہروں کا جال سا بنتا چلا گیا (جو اگلے ہی لمحے واپس پانی میں تحلیل بھی ہو گیا )۔

ایک پکھی واسن تالاب کے اندر جگمگ کرتا دیا رکھ کر واپس اپنی کٹیا میں گھس گئی۔
نرم میٹھی ہوا، دیے کی لَو کو آگے پیچھے جھلا رہی تھی۔
پیپل کے درخت کی سب سے اونچی ٹہنی پر بیٹھے کوّے نے منہ پھاڑ کر جماہی لی۔
کبوتروں کی ایک ڈار فضا میں گول گول چکر کاٹ رہی تھی۔

یک بارگی ایک تیز جھونکا، دِیے کے نازک بدن سے ٹکرایا تو واپسی کے سفر پر گام زن پرندوں کے لبوں سے سسکاریاں نکل گئیں اور پکھی واسن کا بدن کسی ان جانے خوف سے کپکپا اُٹھا اور پیپل کا درخت ایک دَم چوکنا سا ہو گیا اور اس کی شاخوں سے لپٹے پتے جھڑ جھڑ کر تالاب میں گرتے چلے گئے اور سورج نے آنکھیں موند لیں اور رات کے سیاہ اندھیروں نے روشنی کا آخری ذرہ تک نگل لیا ۔
—O—

ممتاز اطہرؔ وہی بچہ ہے جس نے تالاب کے پانی میں سورج کو نہاتے دیکھا تھا تو اسے ایک شرارت سوجھی تھی۔
اُسی نے وہ کنکری پھینکی تھی، جس نے لہروں کا ایک جال سا بچھا دیا تھا۔
اُس شام جب ممتاز اطہر نے خزاں رسیدہ پتوں کو شاخوں سے ٹوٹ کر بکھرتے اور ایک ٹمٹماتے ہوئے ننھے دِیے کو تیز ہوا سے لڑتے دیکھا تھا، تو وہ ایک معصوم حیرت کے نیل گوں طلسم میں گرفتار ہو گیا تھا اور اُس کی مضطرب آنکھیں سوال کے جگنوؤں سے چمک اٹھی تھیں۔

اُس رات جب وہ نیند کی جادوئی وادی میں اُترا تو اُس نے مٹی کے دِیے کو ایک ستارے میں تبدیل ہوتے دیکھا اور وہ یہ جان کر دَنگ رہ گیا تھا کہ اس ستارے کی آنکھیں ہو بہو اُس کی اپنی آنکھوں جیسی تھیں۔
ٹوٹ کر بنا بھی تو جا سکتا ہے، ڈوب کر اُبھرنا بھی تو ممکن ہے، دِیا بجھ کر ستارہ بھی تو ہو سکتا ہے۔
یہ معرفت کا پہلا زینہ تھا، یہ آگہی کا پہلا چراغ تھا، پھر اس کے بعد ٹوٹنے، بننے، ڈوبنے اور اُبھرنے کا ایک نہ ختم ہونے والا سفر شروع ہوا ۔

ایک مہربان ہاتھ نے بڑی بے مہری سے اُس کا بستہ چھینا اور لوہا پگھلانے والی بھٹی میں اُچھال دیا۔
دھڑ دھڑ جلتی، راکھ بنتی کتابوں کے ہر ورق پر کچھ خواب لکھے تھے۔
وہ آنسوؤں کی بھاپ کو سینے میں دبائے، گھر کی چار دیواری سے باہر نکلا تو اوائل جون کی ایک تپتی دُپہر اس کا ستا چہرہ دیکھ کر مزید غضب ناک ہو گئی۔
فضا میں شعلے سے لپک رہے تھے۔
یوں لگتا تھا جیسے سورج پگھلا کر اپنے مدار سے باہر نکل آیا ہو۔
وہ بھی کچھ سوچ کر اپنے مدار سے باہر نکل آیا اور سورج کے تعاقب میں نکل پڑا۔
—O—

یہ جو خراد مشین پہ جھکا ہے، جس کے ہاتھ کالک سے لتھڑے ہیں، آنکھوں میں غصہ بھرا ہے، یہ ممتاز ہے جو زندگی کے پنجرے میں قید، بقا کی جنگ لڑنے کے لیے نت نئے ڈھونگ رچاتا ہے، رنگوں، آوازوں اور تمثالوں سے بھرا اطہر، پگھلائے ہوئے سورج کے تعاقب میں کہیں دُور نکل گیا تھا۔

ممتاز نے پان چبایا، سیگرٹ کا دُھواں اُگلا ، کبڈی کھیلی، تن سازی سیکھی اور ہریانوی بولی۔ اطہر نے محبت کی، قہقہے بکھیرے، گیان بانٹا، نروان ڈھونڈا، اوزان سیکھے اور موسموں ، گیتوں، پرندوں اور رنگوں سے دوستیاں گانٹھیں۔
ممتاز نے مشاعرے پڑھے، نامی گرامی شاعروں کو للکارا، آمریت کے خلاف آواز بلند کی، دشمنوں اور رقیبوں کی ایک فوجِ ظفر موج تیار کی۔ اطہر نے فلمیں دیکھیں، افسانے پڑھے، شعر سنے، وعدے کیے، قسمیں کھائیں، معاف کرنے کا ہنر سیکھا۔

ممتاز جیون ڈگر کی ایک کھردری سطح کا استعارہ ہے، اطہر اس سطح کے اوپر بہ بانگ ِ دہل جینے کا جتن ہے۔ وہ جس نے شادی کی، گھر داری نباہی، بچے سنبھالے، ریڈیو کا جھنجٹ پالا، صحافت کی کان میں ہاتھ کالے کیے، دُکان کھولی، کتابیں چھاپیں اور سمجھوتے کیے، وہ ممتاز ہے۔ وہ جس نے کراچی کی خاک چھانی، بغداد کی ریت پھانکی، سلیم احمد اور ابراہیم جلیس کے مقالے سنے اور مَیری کے نام طویل رومانی نظمیں لکھیں، وہ اطہر ہے۔

ممتاز ٹوٹنے کا حوصلہ ہے، اطہر بننے کی جوت ہے۔ ممتاز تو کب کا مر گیا ہوتا، زندہ اسے اطہر نے رکھا کیوں کہ جس نے عسرت اور تنگی سہی، زندگی کو محبس میں بدلتے دیکھا، جس کی آنکھیں نئے منظروں کی لاحاصل تلاش میں پتھرا گئیں، جسے سرد رات کی خنکی نے برفاب کرنا چاہا، وہ ممتاز تھا اور جس نے محبس میں دراڑ ڈالی، ایک نئے منظر کو پینٹ کیا، سرد رات کے پہلو میں الاؤ رکھا، وہ اطہر ہے۔
—O—

ممتاز اطہر (جو ممتاز بھی ہونا چاہتا تھا اور اطہر بھی رہنا چاہتا تھا) ’’محبس میں دراڑ ‘‘ کرتا ادبی منظر نامے پر طلوع ہوا۔ ’’محبس میں دراڑ‘‘ نا اُمیدی کے موسم میں اُمید کا ایک چراغ ثابت ہوا، جس نے آسیب زدہ ہواؤں کو آندھیوں میں بدلتا دیکھ کر خوف سے آنکھیں موند لینے کے بجائے ’’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘ کے لَے پر دھمال ڈالی۔ گلیڈی ایٹر(Gladiator) نے بھوکے شیروں کا لقمہ بننے سے انکار کر دیا تھا، سپار ٹاکس(Spartacus) نے غلامی کا طوق اُتار پھینکا۔
’’محبس میں دراڑ ‘‘ حرفِ انکار کا ایک نیا عہد نامہ تھا، جس نے آمریت کے ہرکاروں اور مذہب کے ٹھیکے داروں کے باہمی اختلاط اور گٹھ جوڑ سے جنمے ہوئے؛ جہان کو یک سر رَد کر ڈالا۔ ظلم کی چکی میں پستے ہوئے، ڈرے سہمے اور ادھورے لوگوں کی لکنت زدہ آوازوں کو غضب بھری دھاڑ میں بدلنے کی آشا ، بغاوت کے ایک الوہی ترانے میں ڈھل گئی۔ ’’محبس میں دراڑ‘‘ کی مزاحمتی اور رزمیہ غزلوں نے نہ صرف ایک حبس زدہ سماج کی استحصالی قدروں کو للکارا بلکہ اس کے دریدہ بدن باسیوں کو ایک سر کشی بھرا لحن بھی عطا کیا۔

’’محبس میں دراڑ‘‘ کی پذیرائی اپنے ساتھ کچھ پے چیدگیاں اور اُلجھنیں بھی لے آئی۔
ایک جانب زندگی کو سجل کرنے اور سہل بنانے والے نت نئے منظروں کی تلاش کے وسیلے اپنی ذات کی تفہیم اور توسیع کی آرزو اسے اُسلوب کے تازہ دریچے کھولنے پر اُکسا رہی تھی، دوسری جانب اپنی ہی لگائی ہوئی آگ میں جل کر راکھ ہونے کا اندیشہ بھی تھا۔
اونٹ نے کسی کروٹ تو بیٹھنا ہی تھا۔
فیصلے کی گھڑی آ پہنچی۔
ممتاز اطہر سر جھکائے کچھ سوچتا رہا۔

پھر تخلیقی دیوانگی کی ایک برق رفتار لہر اُٹھی، شعلے سے لپکے اور ایک جنونی معمار کی طرح اس نے اپنے ہی بنائے ہوئے اُسلوب کو توڑ ڈالا۔
—O—

خود کو دُہراتے چلے جانا یقیناً ایک آسان انتخاب ہوتا، ممتاز اطہر ؔ نے مگر مشکل راستے کا چناؤ کیا (یہ وقت پسندی اور مشکل کوشی کا جنون ہی تھا جو تخریب کے پردے میں مضمر حسرتِ تعمیر کی آب یاری کرتا رہا)۔
ممتاز اطہر  نے اپنے مانوس لہجے سے رہائی تو حاصل کر لی مگر اِس کا حتمی نتیجہ ایک پتھرا دینے والی چپ کی صورت میں برآمد ہوا۔

ایک مدت تک بے صوتی اور گنگ کا یہی عالم رہا تو پہلے پڑاؤ کی پہلی آگ مدھم پڑنے لگی۔
شاید وہ اپنے لہو میں موج زن کسی بپھری ہوئی لہر کے نرغے میں آ گیا تھا۔ واپسی کے امکانات معدوم ہوتے چلے گئے۔
بسیار تلاش کے بعد اعلانِ گم شدگی کا مرحلہ آیا تو حاسدوں نے لگے ہاتھوں فاتحہ بھی پڑھ ڈالی۔
پھر ایک روز جب اس کے پلٹنے کی ساری اُمیدیں دَم توڑ چکی تھیں، وہ ایک نیا منظر لیے لوٹ آیا۔
—O—

’’اک اور منظر‘‘ کی غزلوں میں ایک نیا ممتاز اطہر دِکھائی دیا۔
یہ ٹوٹ پھوٹ کر ملیا میٹ ہو جانے کے بعد دوبارہ سے بننے کی کتھا تھی، یہ اپنی ذات کے اندھیروں میں ایک دیا جلانے کی کہانی تھی۔

اپنی ہی تلاش میں نکلے ہوئے سیلانی نے بالآخر خود کو پالیا تھا؛ سلامت، نزاکت گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے ایک مجنو نانہ بے خودی اور انجذاب کی کیفیت میں ’’ یار من بیا ‘‘ کا وِرد اَلاپتے رہے ۔

یقیناً یہ میٹا مور فوسس (Metamorphosis) کا عمل تھا۔ ’’محبس میں دراڑ ‘‘ کی غزلیں اگر وحشی، چیختے چنگھاڑتے دریا کی طغیانی بھری لہریں تھیں تو ’’اک اور منظر‘‘ کی غزلیں پیاسے صحراؤں میں بارش کی کِن مِن کرتی بوندوں ایسی تھیں۔ ان غزلوں کے بطن میں ایک لطیف رچاؤ، ایک معصوم حیرت چھپی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے گم ہونے کے موسم میں پالینے کی خوشی، ہر چیز پر حاوی ہو گئی ہو ۔
—O—

ہر لمس کی اپنی تفہیم ہوتی ہے۔ وصل اپنا شعور آپ تخلیق کرتا ہے۔ انوار فطرت کے الفاظ میں ’’اک اور منظر‘‘ نئے جہانوں کی اوڈیسی تھی۔ آنے والے وقتوں نے یہ بات درست ثابت کی۔ ممتاز اطہر نے خود کو بازیافت کرنے کے بعد فطرت کو ایک نئے رنگ سے دیکھا تو اس کی آنکھیں دمک اُٹھیں۔
کتنے امکان تھے جن کو ابھی دریافت کرنا باقی تھا، کتنے لفظ تھے جن کو ابھی چوما نہیں گیا تھا، کتنے خیال تھے جن کو ابھی نظم ہونا تھا۔

ممتاز اطہر اسی نرم دھیمے اُسلوب کی سنگت میں مَیں مست الست، غزل کی عالی شان حویلی سے باہر نکل آیا اور الاؤ کے گرد بیٹھی ہوئی رات کو نظم کرنے لگا۔
’’الاؤ کے گرد بیٹھی رات‘‘ کی نظموں میں فطرت کی بے ساختگی، بچنے کی معصومت اور تخلیق کی جست جو کو باہم کرتے ہوئے ایک مسمراتی دُنیا تعمیر کی گئی۔
عجب دنیا تھی۔

رنگوں میں آوازیں چھپی تھیں اور آوازوں کے چہرے تھے۔
ایک ایسی دنیا جہاں گلوبل وارمنگ اور نیو کلیئر تباہی کے اندیشے، حیات کا روشن چہرہ مسخ کرنے پر تلے تھے اور انسان سرمایے کے ریشمی جالوں میں پھنس کر مشینوں، پلازوں اور برانڈوں میں تبدیل ہو چکے تھے، ’’الاؤ کے گرد بیٹھی رات‘‘ ایک ممکنہ تبدیلی کی امید کا استعارہ بن کر اُبھری۔

یہ پھیکی اور بے ثمر زندگیوں کو فطرت کے رمزوں بھرے چہرے سے رُوشناس کرانے کی سعی تو تھی ہی، سرد رات کے ملگجے اندھیروں میں روشنی اور حرارت بننے کی خو، بھی تھی۔
اُسی لمحے رات کے سینے میں الاؤ بن کر بھڑکتے ہوئے ممتاز اطہر نے مکتی کی تلاش میں تاروں بھرے آسمان پر نظریں گاڑ دیں۔
دیوانے کو مکتی مگر کہاں ملتی ہے۔ اُسے چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا۔
—O—

’’دیر تک‘‘ ممتاز اطہر کا چوتھا رُوپ ہے۔ آٹھویں سر کی کھوج ایک بار پھر ممتاز اطہر کو غزل سرائے میں لے آئی ہے مگر اس بار جوگی کی پوٹلیوں میں غزلوں کے ساتھ ساتھ ’’ست رُوپیاں‘‘ اور ’’وائیاں‘‘ بھی ہیں۔
وہ جین ہوں یا شبد، دیر تک رہنے کی خواہش ہی زندگی کا اصل مادہ ہے۔

جین، بوند در بوند، خلیہ بہ خلیہ آنے والی نسلوں میں منتقل ہونے کی خواہش سے سرشار۔ شبد، حرف در حرف فضاؤں میں تا ابد گونجتے رہنے کی آرزو لئے تخلیق کی بھٹی میں پکتے ہوئے …..
اگر کوئی آٹھواں سر میسر آ جائے تو زندگی رُوپ در رُوپ ، دیر تک گنگناتی رہتی ہے وگرنہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے ہی۔

’’دیر تک‘‘ کی غزلیں ’’اک اور منظر‘‘ کی فنی اور فکری توسیع ہیں۔ وہی لطافت بھرا نرم ملائم کو مل لہجہ اس بار بھی لفظوں کو ایک شبنمی شان عطا کرتا دِکھائی دیتا ہے۔ منظر کچھ بڑھا دیے گئے ہیں، تاہم اس بار ایکسٹریم کلوز اپ کے بجائے لانگ شاٹ کی تیکنیک سے استفادہ کیا گیا ہے۔ استعاراتی نظام بھی کم و بیش وہی، ممتاز اطہر کے یہاں مگر استعارے بھی ایک مسلسل ارتقا کے عمل سے گزرتے ہیں۔ وہ بارہا ایک ہی لفظ کے بیج سے معنی کے کئی شجر تخلیق کر ڈالتا ہے؛ لہٰذا پرندے، چراغ، شجر، مٹی کا دِیا اور ہوا جیسے استعارے زینہ بہ زینہ ایک نئی معنویت اختیار کرتے چلے جاتے ہیں۔

لفظوں سے آوازیں اور تصویریں بنانے کا ہنر بھی ویسے ہی قائم دائم ہے۔
یہ صدا نگاری اور تمثال گری ایک جانب تو شعر کے تخلیقی امکان کو بڑھاوا دیتی ہے اور دوسری جانب قاری کے تخیل کو انگیخت کرنے اور مہمیز دینے کا سبب بن جاتی ہے۔

ست روپیوں کا قلعہ، نظم کے چوبارے اور غزل کی حویلی کے وسط میں کہیں واقع ہے۔ یہ خالصتاً ممتاز اطہر کی اپنی اختراع ہے۔ اطالوی اصناف سیپٹم (Septum) اور سرابند (Saraband) سے مشابہہ، سات مصرعوں کے اس کھیل میں دوسرے مصرِع کو تیسرے اور پانچویں مصرِع کو چھٹے مصرِع کے ساتھ ہم قافیہ وہم ردیف کر دیاگیا ہے، جب کہ پہلے ، چوتھے اور ساتویں مصرِع کو نسبتاً آزاد چھوڑا گیا ہے، تا  کہ ان کے بہم کردہ تحرک کو بروئے کار لاتے ہوئے، ایک مضبوط اور مؤثر خیال کی تشکیل کی جا سکے۔ عنوان اس ساری صورتِ احوال کو مزید بلیغ اور واضح کر دیتا ہے۔ موضوع کی کوئی قید نہیں۔ فائدہ اس کا یہ کہ رِدھم اور ترنم بھی برقرار رہا، وحدتِ تاثر بھی میسر آ گئی۔ کفر بھی قائم، ایماں بھی سلامت (جو رہی سو ’’با خبری‘‘ رہی)۔

’’وائی‘‘ ٹیپ کے مصرِع کی باریک دھار اور اس کے پہلو بہ پہلو تھرکتے ہوئے ریشمی لفظوں کا گل  دستہ ہے۔ ایک مصرِع کی مسلسل تکرار ہی ’’وائی‘‘ کو وہ روانی ودیعت کرتی ہے جو سامع اور قاری کو بے خود کر دیتی ہے۔ یہ جیون کو دھمال کرنے کا جتن ہے۔ ممتاز اطہر ؔ نے نہ صرف اس دھمال کو کھوجا ہے بلکہ اس کے اندر ـ ـــ ـ ’’وصل کے بھید کھولتی مٹی‘‘ کے رنگ بھی انڈیل دیے ہیں۔ ہر دو روایت سے مستفید ہوتے ہوئے کہیں اس نے شاہ لطیف بھٹائی کی طرح ٹیپ کے مصرِع کو کھلا چھوڑ دیا تو کہیں سچل سرمست، شیخ ایاز اور شیام نارائن کے مانند ایک ہم قافیہ مصرِع دے کر بند کر ڈالا۔

’’وائی‘‘ جو سندھ مہاساگر کی سوغات تھی، ممتاز اطہر کے مشاق ہاتھوں میں آ کر راوی اور چناب کی آوازوں سے لبالب بھر گئی ہے۔
—O—

’’دیر تک‘‘ ممتاز اطہر کی سوانح عمری ہے۔ ممتاز اطہر نے ڈھلتی شام کے سایوں میں اپنی زندگی کی فلم ری وائنڈ (Rewind) کی ہے اور اس کی تمام قابلِ ذکر باب غزلوں، ست روپیوں اور وائیوں کی صورت میں رقم کر ڈالے ہیں۔ جیسے ہر سوانح عمری ( چاہے وہ کتنی ہی شگفتہ کیوں نہ ہو ) قاری کو اداس کر ڈالتی ہے بعینہِ ویسے ہی ’’دیر تک‘‘ کی فضا میں بھی ایک مغموم کر دینے والا تاثر اپنی پوری شدت کے ساتھ جلوا نما ہے۔
یہ تھک ہار کر گھروں کو واپس لوٹتے پرندوں کی سوز بھری صداؤں کا رنگ ہے۔

میلان کنڈیرا کے خیال میں فانی ہونا انسان کا سب سے اہم اور بنیادی تجربہ ہے مگر اس کے باوجود وہ فنا کے تصور کو قبول کرنے اور جذب کرنے کا اہل نہیں ہو پایا۔ ممتاز اطہر مگر فنا کے تصور سے بہ خوبی آشنا ہے اور یہ آشنائی خزاں رسیدہ پتوں کی بے بسی اور لاچار آگہی کے نوحے میں ڈھلنے کے بجائے ایک ایسے جہان حیرت کا اشارہ بن جاتی ہے، جہاں فنا ہونے کا مطلب محض فنا ہونا نہیں رہتا۔

’’دیر تک‘‘ اس بات کا واشگاف اظہار ہے کہ ممتاز اطہر نے نہ صرف زندگی کو ایک تخلیقی اور فن کارانہ سطح پر برتا ہے بلکہ وہ موت کی گھمبیرتا کو بھی ایک معنی خیز تجربے میں ڈھالنے کی شکتی رکھتا ہے۔
—O—

اور آج ڈھلتی عمروں کے سائے میں وہ شریر بچہ کبھی پیپل کے بوڑھے شجر کا رُوپ دھار لیتا ہے جس کے شاخچوں میں رنگ برنگے، خوش گلو پرندے بستے ہیں تو کبھی ہوا کی زد پر آیا دِیا بن کر پھڑپھڑانے لگتا ہے۔
اُس نے چوں کہ روپ بہروپ کے کھیل تماشے کی ساری گتھیاں، گنڈھیاں سلجھا ڈالی ہیں لہٰذا خزاں کی زُلفوں میں اُلجھی ہوئی شام بھی ممتاز اطہر ہے اور تالاب کے پانی میں اشنان کرتا سورج بھی۔
پھر اچانک وہ بلّھے شاہ کی بانہوں میں بانہیں ڈالے، حلق کی پوری قوت سے چلا اٹھتا ہے۔
’’بلّھا اساں مرنا ناہیں، گورپیا کوئی ہور۔‘‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں