ایک سپاسنامہ، ایک بے لوث کارکن کی طرف سے


نئی حکومت کے قیام کے بعد بے لوث کارکن اپنی خدمات یاد دلاتے ہیں۔ بے مثل مزاح نگار ابن انشا کا ایسے ہی ایک کارکن کی جانب لکھا گیا ایک سپاس نامہ، خمار گندم سے خوشہ چینی۔

جناب والا۔ پاکستان کے بے لوث کارکنوں کی جماعت انجمنِ بے لوث کارکنان پاکستان (رجسٹرڈ) تہہ دل سے جناب والا کا خیر مقدم کرتی ہے جناب والا۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے تمام محب وطن پاکستانی مل کر حکومت کے ہاتھ مضبوط کریں۔ چنانچہ انجمن ہذا بھی خلوص دل سے موجودہ حکومت کے ہاتھ اسی طرح مضبوط کرنے کے کو تیا ر ہے۔ جس طر ح پیش ازیں صدرایوب کے ہاتھ مضبوط کرتی رہی ہے۔ صدر یحییٰ کے ہاتھ مضبوط رہی ہے، بلکہ ہر حکومت کے ہاتھ مضبوط کرتی رہتی ہے۔

جناب والا۔ ہماری انجمن کی ایک خصو صیّت حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کے علاوہ میدان میں کود پڑنا ہے۔ چنانچہ آج بھی اپنے محبوب صدر کے ادنیٰ اشارے پر میدان میں کود پڑنے کو تیار ہیں، بشرطیکہ میں یہاں سے وہاں تک روئی کے گدّے، نہالچے اور غالیچے بچھا دیے جائیں۔ ان کے بغیر میدان میں کودنا گزند کا باعث ہو سکتا ہے۔ چوٹ آسکتی ہے جو ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر مناسب نہیں ہے۔

جناب والا۔ انجمن ہذا یعنی انجمن بے لوث کارکنان پاکستان (رجسٹرڈ) کے درواذے سب پر کھلے ہیں۔ کیونکہ اس کے اندر کچھ نہیں ہے۔ پہلے تھا۔ لیکن اس کو کارکنان ِ مذکور ہاتھوں ہاتھ اٹھا لے گئے۔ اب فقط دروازے کا سائن بورڈ باقی ہے۔ جسے انجمن ہذا بخوشی ّ قوم کی نذر کرنے کو تیار ہے۔ یہ مضبوط شیشم کی مکڑی کا بنا ہوا ہے۔ اس پر دھوبی کپڑے پٹخ سکتے ہیں، جو دھوبی نہیں وہ سر پٹخ سکتے ہیں غسال مردے نہلا سکتے ہیں بلکہ مردے اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت آپ نہا سکتے ہیں۔

جناب والا۔ انجمن ہذا کے سبھی کارکنان پرے درجے کے بے لوث کارکن ہیں۔ ان سے کوئی ان کے خدمت کے صلے کے بات کرے تو مارنے کو دوڑتے ہیں۔ یہ خاکسارمیاں فقیر محمد سکیرٹری جنرل انجمن ہذا! بالخصوص فقیر منش آدمی ہے۔ اسے آپ سے کوئی خواہش نہیں ہے سوائے عہدے کی خواہش کے، اور کسی قسم کا لالچ نہیں، سوائے روپے کے لالچ کے گذشتہ حکومتوں نے خاکسارکو خریدنے کی بہت کوشش کی گئی۔ لیکن نہیں خرید سکے۔ پہلے وزارت پیش کی گئی۔ خاکسارنے اس پر لات ماردی۔ پھر سفارت پیش کی گئی۔ خاکسارنے اس پر بھی لات ماردی۔

خاکسار دولت پر لات مارچکا ہی۔ ثروت پر لات مارچکا ہے۔ شہرت پرلات مار چکا ہے اور بھی کئی چیزوں پر لات مار چکا ہے، جواس وقت یاد نہیں۔ افسوس اب یہ لات اس قاہل نہیں رہ گئی کہ مزیدک سی چیزپرماری جاسکے۔ لات مارے کی عادت سے مجبور ہوکراس خاکسارنے ایک کتےّ کے لات ماردی تھی۔ وہ محاورے نہیں سمجھتا تھا۔ اس نے اس جذبۂ ایثار کی قدر نہ کی جواب میں دانت ماردیے۔ آدمیت سے بعید حرکت کی۔

جناب والا۔ جیساکہ خاکسارنے عرض کیا، خاکسار کو آپ سے یا حکومت سے کسی قسم کی غرض نہیں ہے تاہم خاکسار کو شہر کی میں مارکیٹ میں جو زیر تعمیر ہے۔ کونے والی بڑی دکان الاٹ کر دی جائے تو خاکسار کا قوم کی بے لوث خدمت کاجذبہ روزافزوں ہوسکتا ہے۔ اس لئے کہ انجمن ہذا کی عہدہ داری کے علاوہ جسے خاکسار ذاتی اغراض کے لئے استعمال کرنا حرام سمجھتا ہے خاکسارکا چھوٹا سا ذاتی کاروبار بھی فقیر اسٹون ورکس کے نام سے ہے، ہمارے محبوب صدرنے پچھلے دنوں فرمایا ہے کہ ہمیں محنت کرنی چاہیے۔ پیٹ پر پتھرباندھ کر بھی محنت ہونی چاہیے۔ لہذا خاکسار کی فرم نے لوگوں کو پیٹ پر باندھنے کے لئے پتھر بارعایت نرخوں پر سپلائی کرنے شووع کر دیے ہیں۔ یہ پتھر منگھو پیر کی پہاڑی کے ہیں لہذا مضبوط ہونے کے علاہ روحانیت سے بھرپور اور خیر و برکت سے مامورہیں۔

یہ پتھرپیٹ پر باندھنے کے علاوہ اور بھی کئی کام آسکتے ہیں۔ محبوب لوگ ان سے سنگ ِآستاں بنواتے ہیں اور اس پر عاشق لوگوں سے جبیں گھسواتے ہیں۔ ناک رگڑواتے ہیں۔ ناک اور جبیں کے علاوہ ان پر ہلدی اور مرچ بھی بخوبی پیس سکتے ہیں۔ خودکشی کے لئے بھی ہمارے ہاں کے پتھرآزمودہ ہیں جوکوئی ان کو اپنے ساتھ باندھ کر دریا میں کودا پھر پانی کی سطح پر نہ ابھرا۔ ظالم سماج ہاتھ ملتا ہی رہ گیا۔ خودکشی کرنے والوں کے بے شمار تصدیقی سرٹیفکییٹ ہمارے پاس موجود ہیں کہ ہم کو ایک ہی پتھر سے فائدہ ہوا، قیدِ حیات و بند غم سے نجات مل گئی۔ اب چند پتھر فلاں حضرات کو ہماری طرف سے بھیج دیجبے۔ دکان سے دریا کے پل تک پتھر پہنچانے کا خرچ ہم اپنے پلےّ سے دیتے ہیں۔ گاہک سے چارج نہیں کرتے۔
———————

جناب والا، ٖجانے کس شاعر نے کہا ہے لیکن خوب کہا ہے کہ اس رزق سے موت اچھی جس سے رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی۔ واقعی ساری خرابیوں کی جڑ رزق یعنی غلہ ہے۔ اس وقت ہماری قوم کو غلے کی اتنی ضرورت نہیں جتنی کہ پتھروں کی ہے، ایک چھوٹی سی مثال ہے ہمارے ایک بزرگ جن کا نام میں اس وقت بھول گیا ہوں، دانہ گندم کی وجہ سے جنت سے نکالے گٰے۔ آج تک کوئی پتھروں کی وجہ سے نہیں نکا لا گیا۔ شاعر مذکور نے جو رزق سے موت کو بہتر بتایا ہے تو اس کی وجہ ہے۔ مرنے والے کے مزار پر ہماری دکان کے مضبوط اور خوب صورت پتھر لگائے جا سکتے ہیں، کسی زندہ آدمی کے مزار پر نہیں۔ جس نے ایک بار اپنی قبر پر ہمارے ہاں سے پتھر کی تختی لگوائی ہمیشہ کے لئے ہمارا گرویدہ ہو گیا۔ جناب والا، ایک لوح مع قطعۂ تاریخ ہم آپ کی نذر بھی کرتے ہیں۔ وقت آنے پر کام آے گی۔ گر قبول افتد۔ ۔ ۔ ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں