صحافت، بندر اور ناریل


 farhan faniمیرے معزز بھائی اور رفیق کار محمود الحسن نے ممتاز صحافی حسین نقی کا ایکسپریس کے لیے ایک طویل انٹرویو کیا تھا جو 23 جون 2013 ء جو شائع ہوا تھا ۔ یہ انٹرویو پاکستانی سیاست و صحافت کے بہت سے پوشیدہ گوشوں سے پردہ اٹھاتا ہے ۔ آج وہ انٹرویو میری نظر سے گزرا ۔ لیجیے اس کے ابتدائیے میں شامل اقتباس آپ بھی پڑھیے

”ممتاز ادیب مشتاق احمد یوسفی لکھتے ہیں:’’ سیاست کی کثافت اور polarizationکی مخرب اقدار کشش سے کتنے صحافی اور کالم نویس ہیں جو خود کو بچاسکے ہیں،ان حالات میں حکومتیں اگر Fourth estateکواپنا زرخریدترجمان و تابع فرمان بنانا چاہیں توتعجب نہیں ہونا چاہیے۔

صحافی ہو یا سیاست دان، جج ہویا بینکراور بیوروکریٹ… یہ سب اسی ترکیب سے ’’پکڑائی‘‘دیتے ہیں، جس طرح بعض علاقوںمیں بندرپکڑے جاتے ہیں۔وہ طریقہ یہ ہے کہ ناریل میں اتنا سوراخ بنادیاجاتاہے کہ صرف بندرکاپنجہ اندر جاسکے۔بندرنرم و شیریں کھوپرے کے لالچ میں اس میں ہاتھ ڈال دیتاہے اور مٹھی میں بہت ساکھوپرابھر لیتا ہے۔لیکن بھری مٹھی کو تنگ سوراخ سے نہیں نکال پاتا۔مٹھی کھول کر کھوپرا چھوڑنے اور ہاتھ چھڑانے کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا۔لہٰذااس طرح ایک ہاتھ ناریل میں پھنسائے تین پایہ بنالنگڑاتاپھرتاہے اورآسانی سے پکڑا جاتاہے۔پھرساری عمرمداری کی ڈگڈگی اور اشاروں پرقریہ قریہ، گلی گلی اچھل کود دکھاتااور ہاتھ پھیلاکرپیسے بٹورتاہے۔مداری اگر رحم کھاکراسے جنگل میں آزاد چھوڑ بھی دے توواپس آجاتا ہے اور کسی نئے مداری کی تلاش میں مارا مارا پھرتاہے۔ سو یہی حال ان حضرات کا ہوتا ہے جن کے معززپیشوں کے نام ابھی اوپر گنوائے گئے ہیں۔صحافیوں کی تخصیص نہیں۔ایں خانہ ہمہ داغدار است۔ ‘‘

مشاق لکھاری نے کس قدر بلیغ اور موثرانداز میں ہمارے ہاں کی صحافت اور صحافیوں پرتبصرہ کیا ہے۔اور یہ اس وقت کا لکھاہے، جب الیکٹرانک میڈیا اور اس کے اینکرز اپنی حشرسامانیوںکے ساتھ موجود نہ تھے۔مشتاق احمد یوسفی کی بات سولہ آنے ٹھیک ہے، ہماری صحافت اپنے اعتبار اور ساکھ کے لحاظ سے نازک دورسے گزر تو رہی ہے مگراس گئے گزرے وقت میں بھی چند باصفا صحافی ہمارے درمیان موجود ہیں، جن کے لیے صیاد،ترغیب وتحریص کا کیسا ہی پھندہ لگادے، وہ کبھی پکڑائی نہیں دیں گے۔ایسے عالی مرتبت صحافیوں میں ایک معتبر نام حسین نقی کا ہے،جن کی دیانت داری اور جرات پر کوئی حرف گیری نہیں کرسکتا ۔ ایسے معاشرے میں جہاں وہ صحافتی تنظیمیں جن کا خمیر ہی سرکار مخالفت سے اٹھا، ان کی نگہبان سرکار سے مسکراتے ہوئے ایوارڈ لیں اورصحافی حاکم کے دربار میں رسائی اور اس کے ساتھ غیرملکی دورے کو اپنے فن کی معراج جانیں تو ایسے میں حسین نقی جیسے صحافی کا دم اور بھی غنیمت محسوس ہوتا ہے ۔”


Comments

FB Login Required - comments