وسی بابا اور اس کی قانون شکن سہیلیاں


رمشا ہاتھ میں سینڈل پکڑ کر بیٹھی تھی۔ زمان اپنا ہونق چہرہ لیے کھڑا تھا۔ اک آدھ جوتا کھا چکا تھا، شائد ایک آدھ سے زیادہ۔ میں اپنے دفتر میں داخل ہوا تو یہ سین چل رہا تھا۔

”وسی تمھیں شرم آتی ہے“؟ میں کچھ سمجھتا کہ وہ آگے بولی۔ ”تمھارا یہ نوکر وہ سامنے والے فلیٹوں کی اک لڑکی کے گفٹ پہنچاتا تھا، جسے پہنچانے تھے اس ۔۔۔۔۔۔ کو پہنچایا ایک بھی نہیں“۔

اس کمینی نے تین پیکٹ بھیجے تھے۔ رمشا غصے میں ہر کسی کی ایسی تیسی کر رہی تھی۔ اس لڑکی کی بھی اس کے متوقع بوائے فرینڈ کی بھی، میری بھی زمان کی بھی۔

اک زرا دم لیا اور بولی ”گانوں کی کیسٹس، اور بہت سی چاکلیٹس“۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ پوچھتا، کہ کون سی کیسٹ کون سی چاکلیٹ ؟
”خان دا ام اکا چاکلیٹ یادئی کم چہ تہ خوڑلی دی“۔ (خان یہ وہی چاکلیٹ بتا رہی، جو ساری تم کھا گئے ہو)

”او کیسٹے مہ خرس کڑی دی”۔
خان آ ستا دا کار نہ وو پہ دری تہ نہ رسے“۔ (خان وہ تمھارے کام کی نہیں تھیں، تمھیں دری تو آتی کوئی نہیں، تو کیسٹس میں نے بیچ دی تھیں۔ ساری)

اب شرم آئے بغیر ہی اپن لال ہونا شروع ہوا ہی تھا، کہ اک سینڈل سیدھا زمان کو جا کر وجا۔
”تم دونوں مرو گے کم بختو؛ پتا ہے، لڑکی کن کی ہے“؟
”زما خان تہ سوک سہ نہ شی ویلے“۔ (میرے خان کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا)

رمشا نے پھر سینڈل اٹھا لیا۔
”رمشا یار، رکو“!

وہ کدھر رُکتی تھی۔ سیدھا ازبکی میں شروع ہو گئی۔
”وسی ہٹ جا آگے سے؛ اس خوگیانی (جلال آباد میں زمان کا علاقہ) کے کھوتے کو آج میں انسان بنا دوں“۔
زمان کو میں نے کہا بھاگ جا۔ وہ بھاگ گیا۔

”وسی اسے واپس بلاؤ“۔
آواز دی وہ پھر آ گیا؛ ڈھیٹ دروازے پر ہی بریک مار کے کھڑا ہو گیا تھا۔

”زمان بس ایک بات بتاو، تم نے یہ تحفے اس لڑکے کو پہنچانے کی بجائے، اپنے خان کو کیوں پہنچائے“؟
”آ الک مہ خوخ نہ او زمہ خان تر خئستہ دے“۔ (وہ لڑکا مجھے پسند نہیں آیا، میرا خان اس سے پیارا ہے)
رمشا نے یہ سنتے ہی آدھا گھنٹا تک نسلی، لسانی تعصب کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ پنجابی پختون اتحاد کو دل لگا کر غزلیں سنائیں۔ رمشا نے پھر یہ مسئلہ حل کر دیا۔

کیسے اس لڑکی اس کے گھر والوں کو راضی کیا، اس سے کبھی نہیں پوچھا۔ رمشا افغان تھی؛ جہاں کی تھی، وہاں کی شہزادی ہی تھی۔ دلیر اتنی تھی کہ اس کے ابا جی، یعنی بادشاہ سلامت اک بار چکے گئے تھے۔ مجاہدین اٹھا کر لے گئے تھے۔ دو ڈھائی مہینوں میں، وہ انھیں ڈھونڈ کر واپس لے آئی۔ ظاہر ہے تاوان دے دلا کر۔ وہ ہماری فیملی فرینڈ کیسے بنی یاد نہیں۔ گھر آتی جاتی رہتی تھی۔ دیکھنے میں کیسی تھی، تو ویسی ہی جیسے خواب ہوتے ہیں، جیسے خیال ہوتے ہیں۔

’ازبک‘ تو میں اس کو اس کی حرکتوں کی وجہ سے کہتا تھا۔ وجہ ہمارا ازبک چوکی دار تھا جسے ایک بار ہم لوگ چچا کے زیر تعمیر مکان کے واسطے رکھ بیٹھے تھے۔ وہ آتے جاتوں کو لٹا کر ان کی مرمت کرتا رہتا تھا، چوری کے شبہ میں۔ اسے شک ہوتا ہو گا تبھی کرتا ہو گا سروس، آتے جاتوں کی۔ ہماری تو شو شا برابر بنا رکھی تھی اس نے۔ برا بس یہ کرتا تھا کہ جب تنخواہ یا خرچ مانگنے آتا، تو مجھ سے ملتا؛ وہ بھی باہر روڈ پر۔ پھر کس کس کو کیسے پھینٹا، یہ مجھ پر پرفارم کر کے بتاتا تھا۔ اک بار تو ظالم نے گلا بھی دبا دیا تھا کہ ایسے میں نے چور کا گلا دبایا، کتنے دن پھر گلے پر تیل لگاتا رہا تھا میں۔

رمشا کی طبعیت دیکھ کر اسے بھی ازبک ہی سمجھ لیا تھا۔ وہ ازبک نہیں تھی، پختون بھی نہیں تھی۔ پتا ہے کہ کیا تھی آپ نے پوچھ کر کیا کرنا ہے؟ رمشا نے اطلاع دے دی، کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے، حساب برابر ہو گیا۔ حساب برابر ہونے کا سن کر اسے بولا کہ کوئی حساب برابر نہیں ہوا۔ تم نے مجھے صرف ایک بار تحفہ کھاتے پکڑا ہے۔
”میں تمھیں چار بار کبھی کسی کے ساتھ، کبھی کسی کے ساتھ دیکھ چکا ہوں۔ اک بار شکایت نہیں لگائی“۔

”وسی تم کم از کم بارہ چاکلیٹ کھا چکے ہو پرائی“۔
”یہ تو میری قسمت کی تھیں میں کھا گیا“۔
”جوتے بھی تمھاری قسمت کے تھے، جو نہیں پڑے“۔ وہ سڑ کر بولی ۔

”اور یہ پکڑا ہے کیا ہوتا ہے۔ میری اماں مت بنا کرو، اسے ہی مسئلہ رہتا کہ لڑکوں کے ساتھ کیوں ملتی ہوں۔ بھئی کوئی کلاس فیلو ہے، کوئی کولیگ ہے، تو اکٹھے آنے جانے میں کیا ہرج ہے؟! وسی تم نے صرف اماں کو نہ بتا کر مجھے اس کے احتساب سے بچایا ہے، تین چار بار۔ زمان تو اپنے ساتھ کڑی کے کیس میں گولی مروانے والے کام کر رہا تھا“۔

رمشا کی آون جاون کا اک مستقل سبب میرا جیولری کا، قیمتی پتھروں کا تھکا ہارا شوق بھی تھا۔ گھر کے ڈرائنگ روم ہی میں شو کیس میں، کچھ آئٹم پڑے ہمارا منہ چڑاتے رہتے تھے۔
”وسی تم سے یہ جیولری بکتی تک نہیں ہے۔ میرے ابا جب اغوا ہوئے تو میں نے ان کے پاس موجود سارا اسٹاک قالینوں اور جواہرات کا فروخت کر دیا تھا“۔

”رمشا، کوئی گاہک آئے گا، تو ہی کچھ بکے گا“۔
”کچھ بھی نہیں بکے گا، مالک تیرے جیسا ہے اور نوکر زمان جیسا۔ وسی سن! میں افغان اکیڈمی میں پڑھاتی ہوں۔ اپنی کولیگ گوریوں اور افغانی لڑکیوں کو کل لے کر آوں گی۔ تمھارا یہ سارا اسٹاک تو بک ہی جائے گا۔ انھیں تیار کر کے لاوں گی“۔

میں غیر یقینی نظروں سے دیکھ ہی رہا تھا، کہ بولی۔
”دیکھو اب کل کوئی حماقت نہ کرنا۔ اس زمان کو تو کہیں بھجوا ہی دینا“۔
”رمشا، یہ زمان ہی تمھارے سارے جلوس کے لیے پیپسیاں لے کر آئے گا“۔
”پینتیس چالیس لڑکیوں کے لیے یہ اتنی بوتلیں کیسے لائے گا، بچہ ہے“۔
”دُکان داروں کے سر پر کریٹ رکھوا کر لائے گا، تم فکر نہ کرو“۔

علی بابا کے چالیس چوروں جتنے لوگ وہ بھی حسن والے اکٹھے آ رہے تھے۔ ساڈی نیند گئی ساڈا چین گیا۔ اگلے دن چھٹی ٹائم اپن جتنا ہو سکتا تھا، اتنا معزز ہو کر بیٹھا تھا۔ زمان کو بھی دھلوا لیا تھا۔ پیپسی کے بندوبست کا بھی بول رکھا تھا؛ بیکری والے کو۔ زمان کو کہا تھا، جیسے ہی جلوس آئے، تم نے گولی کی طرح جانا ہے پیپسیاں لینے۔

لڑکیاں سیڑھیاں چڑھتی اوپر فلیٹ کی جانب جب آنے لگیں، زمان نے بالکونی سے دیکھ لیا۔ بھاگ کر آیا۔
”خان رالل“، یعنی ”آ گئے“۔

ظاہر ہے خان تھوڑا مزید اکڑ گیا۔ زمان منہ سے گولی کی آواز نکالتا گیا؛ سیٹی بجاتا۔ اسے میرا حکم یاد تھا اس کی سیٹی حسینوں کی چیخوں میں گم ہو گئی۔ رمشا کے کچھ ’ازبکی مصرِع‘ ساتھ گونجے۔ وہ سب کمرے میں داخل ہوئیں اور آپ کا اپنا یہ معزز؛ ظاہر ہے میں؛ اٹھتے ہوئے پتا نہیں کیسے اٹھا، کہ اک دھڑام کے ساتھ ٹانگیں اوپر تھیں اور بقایا دھڑ ٹیبل کے نیچے جا پھنسا۔ آہ! بڑی مہنگی انگریزی ٹیبل تھی۔ رمشا ہی پھر وہ دلیر بچی تھی، جوٹیبل کے نیچے کود کر پہنچی، اسی نے فوری امدادی کارروائی کر کے مجھے نکالا۔ میں دو تین حسینوں کے ہاتھ پکڑ کر کھڑا ہوا۔

اس کے بعد بہت دیر تک میں چپ چاپ بیٹھا، چالیس چوروں کی ہنسی سہتا رہا۔ یہ شکر ہے کہ ان چالیس چوروں میں فرنگی مرجینا ایک بھی نہیں تھی۔ ساری افغان تھیں، اک پاکستانی تھی۔ جتنا وہ پاکستانی دل لگا کر ہنسی تھی۔ اتنا تو کوئی کسی سردار کے لطیفے پر نہیں ہنستا۔ رمشا نے جوش دلا کر حسینوں سے خاصی خریداری کرائی،وسی ٹھیک تو ہو نہ ؟ میرا حال پوچھ پوچھ کر ان کے جذبے بھی گرماتی رہی۔ اس دن قیمتی پتھروں سے، حسینوں سے، دوستوں سے، دوستیوں سے دل ایسا اٹھا ہے، کہ اب تک بیٹھنے میں نہیں آیا۔ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی یہاں سے شروع ہوتی ہے بھائی۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 320 posts and counting.See all posts by wisi