منظور بلوچ کا مشکیزہ


برسوں بعد مستونگ سے ایک اچھی خبر سننے کو ملی۔ NA- 267 مستونگ سے منظور بلوچ کی کامیابی۔ منظور بلوچ کی مالی حالت کا اندازہ اُس کی موٹر بائیک سے لگایا جاسکتا ہے، جس کو اگر وہ فروخت کرنا چاہے، تو جتنے اُس نے ووٹ (25738) لئے ہیں، کوئی اُس کے چوتھائی کے برابر بھی اُس کی موٹر بائیک کی قیمت نہ لگائے۔ ایک غریب سیاسی کارکن کی جیت سے نہ صرف مستونگ کے نام پہ لگی دہشت گردی کی سیاہی میں تھوڑی سی کمی آگئی ہے بلکہ شفاف انتخابات کے دعووں کو بھی سینہ پھلانے کا موقع مل گیا۔ لیکن اس جیت کے ساتھ جہاں خوشی کی چاشنی ہے، وہاں پریشانی کی خشکی بھی منظور بلوچ کے ہونٹوں پہ پھیلی ہوئی ہے۔ منظور بلوچ نے جس مشکیزے میں یہ سارے ووٹ اکٹھے کئے ہیں، اُس کا بوجھ بہت بھاری ہے۔ مشکیزے کا استعارہ میں نے اس لئے استعمال کیا ہے، کہ منظور کے قبیلے کے لوگ جس طرح آج بھی پانی کے حصول کے لئے مشکیزہ لے کر میلوں کا سفر کرتے ہیں، بالکل ویسے ہی منظور بلوچ نے بھی ووٹ اکٹھے کئے ہیں۔ ظاہر ہے، ادھار کی چائے پینے والا ایک شخص سجّی کے الاﺅ کے گرد کارنرمیٹنگز کرسکتا تھا اور نہ ہی مشکل سے اپنا پیٹ بھرنے والے اُس کے حمایتی پلاﺅ کی دیگیں کھڑکا کر جلسوں کا اہتمام کرسکتے تھے۔ اس لئے منظور بلوچ کے جوتوں اور اُس کی موٹر بائیک کی حالت 10سے 12ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں ایک ایک دروازے پہ دستک دیتے دیتے اور بھی خستہ ہوگئی۔

یہ بجا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کا ٹکٹ اُس کی جیب میں تھا اور اختر مینگل کی سرداری کی پگڑی اُس پر سایہ کئے ہوئے تھی۔ لیکن بی این پی کے وسائل اور اختر مینگل کی غیر روایتی سرداری دونوں اُس خوشکابے کی طرح ہیں، جن کی زمین بارش کے قدرتی پانی کی منتظر ہوتی ہے۔ مگر بارش اور سبزہ تو کجا، گزشتہ کئی سالوں سے اس زمین پہ حبیب جالب سمیت بیسیوں کارکنان کی قبریں بن گئی ہیں۔ جب اختر مینگل کی اپنی میراث میں قبرستان میں اُگنے والی جھاڑیاں ہیں تو وہ منظور بلوچ کو کہاں سے بوریاں بھر کر دیتا۔ اس لئے وہ اپنے مخالف امیدواروں کے مقابلے میں اپنے منشور کا مشکیزہ لے کر نکلا، جن میں سے کئی امیدواروں کے بارے میں یہ تاثر تھا، کہ اُنہیں گھر بیٹھے ”پانی کے ٹینکر “ پہنچ جائیں گے۔

منظور بلوچ کے کاندھے پہ جو مشکیزہ لٹکا ہوا ہے، اُس میں بھرے ہوئے ووٹ بھی اُس پانی کی طرح ہیں، جس میں جوہڑ کے جونک، کائی، سنگریزے، گدلاہٹ، ٹھہرے ہوئے پانی کی تلخی اور تھوڑی سی بدبو بھی شامل ہوتی ہے۔ جو ایک باریک چھلنی سے نتھارنے کے بعد ہی پینے کے قابل ہوتا ہے۔ ایسے ہی چھ امیدیں، آسرے، وعدے اور مطالبے اُن ووٹوں کے ساتھ منظور بلوچ کو بھی مینڈیٹ میں ملے ہیں، جن کا بوجھ اٹھائے وہ ایک چھلنی کا انتظار کر رہا ہے۔

یہ چھ نکات کیا ہیں ؟ اہل سیاست و ریاست کو اب تک یہ ازبر ہو چکے ہوں گے۔ مجھے گنوانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن بلوچستان اور پھر مستونگ جیسے شورش زدہ علاقے کو حقیقی معنوں میں پاکستانیت سے نتھی کرنے کے لئے ان پر صدق نیت سے غور کرنا بہت ضروری ہے۔ مستونگ جو علیحدگی پسندی اور مذہبی شدت پسندی کے ایک گڑھ کی حیثیت سے خود پر ایک سرخ دائرہ لگوا چکا ہے، وہاں کے مکینوں نے کسی سردار، نواب، میر، معتبر کی بجائے پارلیمانی سیاست اور جمہوریت پہ جدوجہد رکھنے والے ایک قوم پرست جماعت کے غریب سے کارکن کو پارلیمنٹ بھجوایا ہے، تو اسے محض عددی جمع تفریق کے پلڑے میں ڈالناایک آئینی، قانونی،شائستہ اور خاموش احتجاج سے روگردانی ہوگی۔

منظور بلوچ کو پڑنے والے ووٹوں میں مبینہ طور پر لاپتہ افراد کے غم زدہ خاندان، دوستوں اور رشتہ داروں کے ووٹ بھی شامل ہیں۔ جنہوں نے دھرنوں اور لانگ مارچ کے احتجاجی مظاہروں کے بجائے منظور بلوچ کی صورت میں پارلیمان کے دروازے پہ دستک دی ہے۔ اس میں اُن لوگوں کے ووٹ بھی شامل ہیں، جو، سیاسی مداخلت، انتخابی دھاندلی اور مینڈیٹ کی چوری جیسی بدگمانیوں کی دیواریں پھلانگ کر پولنگ اسٹیشنز کے دروازوں پر آکر کھڑے ہوگئے۔ ان میں اُن لوگوں کے ووٹ بھی شامل ہیں، جنہوں نے سنگلاخ راستوں پہ اپنی پھٹی ہوئی ایڑیاں گھسیٹ کر اس امید پر قطاریں بنائیں، کہ سی پیک کا خوشنما نعرہ حقیقت کا روپ دھارکر اُن کی آنے والی نسلوں کے نصیب بدلے گا۔ ان ووٹروں میں افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھانے والے وہ جھکے ہوئے کاندھے بھی شامل تھے، جن کی میزبانی کو اب اپنے مہمانوں سے بے دخلی کے خطرات لاحق ہونے لگے ہیں۔ ان بیلٹ پیپروں پہ اُن غربت زدہ جھونپڑی نشینوں نے پہاڑوں سے اُتر کر مہریں لگائیں، جو سیندک اور ریکوڈک سے لے کر گوادر تک ساحل و وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود آج تک آب و گیاہ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ اس انتخابی مہم میں منظور بلوچ کے شانہ بشانہ وہ بے روزگار، تعلیم یافتہ نوجوان بھی اپنی جوتیا ں چٹخارہے تھے، جن کا گلہ ہے کہ اُن کے لئے مختص کردہ ملازمتوں کے چھ فیصد کوٹے کا چھوٹا سا نوالہ بھی دوسروں کے منہ میں ڈالا جارہا ہے۔ اور اوپر سے اُن پر یہ الزام بھی کہ چند روپوں کی خاطر وہ ”غیروں “ کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔

امیدوں، آسروں، خوابوں اور وعدوں کے ووٹوں کا یہ بھاری بھرکم مشکیزہ صرف منظور بلوچ کے کاندھے پر نہیں، بلکہ آغا حسن بلوچ، احمد نواز بلوچ، اختر حسین لانگوو، اور ثنا بلوچ جیسے متوسط طبقے کے سیاسی کارکنان نے بھی قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کی حیثیت سے ایسے ہی مشکیزے اٹھائے اختر مینگل کے پیچھے کھڑے ہیں۔ خدا کے لئے ان کو اعداد و شمار کے میزان سے الگ رکھ کر دیکھئے۔ اگر آپ واقعی کوئی تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں