سپریم کورٹ نے راحیل شریف کے این او سی کا معاملہ آنے والی حکومت کے سپرد کر دیا


پاکستان

جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف نے بطور آرمی چیف مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد سعودی عرب میں مسلم اتحادی افواج کی سربراہی سنبھالی تھی

پاکستان کے سپریم کورٹ نے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کی بیرون ملک ملازمت کا معاملہ نئی آنے والی حکومت کو بھجوا دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس معاملہ کو دیکھیں اور عدالت کو اس بارے میں آگاہ کریں۔

منگل کو سرکاری ملازمین کی دوہری شہریت سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران سیکریٹری دفاع نے عدالت کو بتایا کہ جنرل راحیل شریف کو بطور آرمی چیف مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد سعودی عرب میں اسلامی ممالک کی افواج کی سربراہی کرنے کے لیے وزارت دفاع اور جی ایچ کیو سے این او سی جاری کیا گیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ این او سی جاری کرنے کا اختیار صرف وفاقی کابینہ کو ہے اور کوئی وزارت یا اس کے ماتحت ادارہ اس بارے میں این او سی جاری نہیں کر سکتا۔

گذشتہ سماعت پر عدالت نے کہا تھا کہ راحیل شریف کو بیرون ملک ملازمت کے لیے جاری کیے گئے این او سی کا جائزہ لیا جائے گا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے بتایا کہ عدالت کو آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل شجاع پاشا کی جانب سے تحریری بیان موصول ہوا ہے جس میں انھوں نے تردید کی ہے کہ وہ دبئی میں کوئی ملازمت کرتے ہیں

عدالت کا کہنا تھا کہ مدت ملازمت پوری ہونے کے فوری بعد بیرون ملک کسی دوسری نوکری کے لیے این او سی کیسے جاری کیا جا سکتا ہے۔

جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف نے بطور آرمی چیف مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد سعودی عرب میں مسلم اتحادی افواج کی سربراہی سنبھالی تھی اور اُنھیں سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے اس ضمن میں این او سی جاری کیا تھا۔

2017 میں اُس وقت کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ جنرل راحیل شریف کو اسلامی ممالک کی افواج کی سربراہی کرنے کے لیے این او سی اس وقت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف کی ہدایت پر جاری کیا گیا تھا۔

بینچ پر موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے بتایا کہ عدالت کو آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل شجاع پاشا کی جانب سے تحریری بیان موصول ہوا ہے جس میں انھوں نے تردید کی ہے کہ وہ دبئی میں کوئی ملازمت کرتے ہیں۔ تاہم اس کے آگے اور کچھ نہیں بتایا گیا کہ وہ کس حیثیت میں دبئی میں قیام پذیر ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ہونے والی سماعت میں بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اہم عہدوں پر فائز افراد کو تو بیرون ملک جانا ہی نہیں چاہیے بلکہ ایسے افراد کی سکیورٹی کو مزید بڑھا دینا چاہیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5752 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp