کیا پاکستان میں کویت سے زیادہ تیل نکلنے والا ہے؟


Abdullah Hussain Haroon

مملکت پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس میں لفاظی اور جھوٹ بہت ہے۔ سیاستدان تو جھوٹے وعدے کر کے قوم کو چکمہ دینے کے ماہر ہیں۔ سیاسی نعرے بازی آسان ہے مگر فنی بات تحقیق، حقائق، اعداد و شمار کے بغیر کرنا اپنے ہاتھوں اپنی عزت گنوانے کے برابر ہے، 2010ء میں آغا وقار نامی ایک پاکستانی نے پانی سے کار چلانے کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ سابق وزیر اعلی پنجاب نے چنیوٹ کے علاقے میں بڑی مقدار میں سونے کے ذخائر کا ذکر کیا۔ سابق وزیر خزانہ نے سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر واپس لانے کا اعلان کیا جو ان کے بقول بدعنوانی سے جمع کی ہوئی دولت تھی۔ اب باری ہے نگراں وفاقی وزیر برائے خارجہ امور و جہاز رانی جناب عبداللہ حسین ہارون کی۔

جناب عبداللہ حسین ہارون نے وفاقی انجمن ایوان ہائے صنعت و تجارت میں خطاب کے دوران کہا کہ امریکی کمپنی ایکسن موبل پاکستان ایران سرحد پر سمندر میں تیل و گیس کا ایک عظیم الشان ذخیرہ دریافت کرنے کے قریب ہے۔ وزیرموصوف نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ ذخیرہ کویت کے پاس موجود تیل کے مجموعی ذخائر سے بھی بڑا ہے۔ اس کا آزمائشی کنواں 5000 میٹر گہرائی تک کھودا جا چکا ہے اور ابتدائی نتائج بہت امید افزا ہیں۔ اس طرح پاکستان دنیا کے بڑے تیل کے ذخائر والا ملک بن جائے گا۔

دراصل یہ بیان انتہائی گمراہ کن حد تک غلط بیانی پر مبنی ہے۔ ان باتوں کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ اس کو ہم بغیر تحقیق کے سنسی خیز بیان کہہ سکتے ہیں۔

علم ارضیات ست تعلق رکھنے والے افراد تیل کی کھوج کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا فقط 15 فیصد اپنے ذخائر سے حاصل کرتا ہے۔ باقی 85٪ تیل عالمی مارکیٹ سے خریدا جاتا ہے۔

پاکستان میں سمندر ارضیاتی تاریخ کے پیش نظر دو بیسن (طاس) میں بانٹا گیا ہے ایک انڈس بیسن اور دوسرا مکران بیسن۔ انڈس آف شور بیسن میں تیل کا کنواں پہلا سن آٌئل انرجی امریکا نے 1963 میں کھودا تھا جس کا نام تھا ڈبکو کریک 1،(1963)، پٹیانی کریک (1964)، اور اس کے کورنگی کریک 1 (1964)۔ جرمنی کمپنی ونٹرشیل نے 3 کنوئیں کھودے جو خشک پائے گئے۔ اس وقت 17 مختلف کمپنیوں کے پاس تیل کی تلاش کے لائسنس موجود ہیں

حقائق کچھ اس طرح ہیں۔

1۔ کراچی کے ساحلوں سے ذرا دور گہرے پانیوں میں اطالوی کمپنی  ENI قسمت آزمائی میں مصروف ہے۔ جس نے 2009 میں ایک تیل کا کنواں کھودا تھا مگر وہ خشک پایا گیا۔ اس کام میں پاکستان پٹرولیم لمیٹد، آئل اینڈ گیس کمپنی اور یونائیٹیڈ انرجی پاکستان شراکت دار ہیں۔ مگر اس بلاک کا آپریٹر ( مالک) اطالوی کمپنی ہے، یونائیٹیڈ انرجی پاکستان نے اس بلاک میں عدم دلچسپی کی وجہ سے یا تیل کے ذخائر نہ ہونے کے پیش نظر اپنے شراکت داری کو ایکسن موبل کمپنی کو بیچا ہے۔

2- انڈس بیسن کی سمندری حدود کا پاک ایران سرحد سے کوئی سروکار نہیں ہے یہ پاکستان میں ہی ہیں جبکہ مکران بیسن ایرانی سرحدوں یعنی بندر عباس کو چھوتا ہے۔ جہاں پر میرتھون کمپنی نے جل پری -1 نام سے کنواں کھودا تھا۔

3- اطالوی کمپنی  Eni  نے ایکسن موبل، پاکستان پٹرولیم لمیٹد اور آئل اینڈ گیس کمپنی سے مل کر 2019 کے پہلے تین مہینوں میں تیل کا کنواں کھودنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے نتائج کیا برآمد ہوں گے، ان پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

4- ایکسن موبل کا پاکتسان میں تیل و گیس کی تلاش میں اس سے پہلے کوئی کردار نہیں رہا-

بلاتحقیق بیان کسی طور مناسب نہیں۔ پاکستان کی وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل میں پیٹرولیم کنسیشن ڈائریکیٹوریٹ موجود ہے جہاں مصدقہ اعدادوشمار مرتب کرنے اور ان کی اشاعت کا بہت معقول انتظام ہے۔ ان کے پاس پاکستان کے 1000 کے قریب کھودے گیے کنوؤں کے اعداد وشمار اور 70 برس کے سارے اعداد و شمار، مڈلاگنگ لاگ، وائیرلائین لاگ، کٹنگز، فائنل ویل رپورٹ وغیرہ موجود ہیں۔ اس تمام ریکارڈ سے جناب عبداللہ حسین ہارون کے دعووں کی تردید یا تصدیق میں مدد لی جا سکتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سعید علی

سعید علی پیشہ ورانہ اعتبار سے شعبہ ارضیات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دنوں جوبا، (جنوبی سوڈان) میں مقیم ہیں۔

saeed-ali has 3 posts and counting.See all posts by saeed-ali