میں کون ہوں؟


میں دیکھنا چاہتا ہوں مگر میری آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔ میں سننا چاہتا ہوں مگر میرے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈال دیا گیا ہے۔ میں بولنا چاہتا ہوں مگر میرے لب سی دیے گئے ہیں۔ میں خواب دیکھنا چاہتا ہوں تو نیند کوسوں دور بھاگ جاتی ہے۔ میں سونے کی کوشش کرتا ہوں تو ہڑبڑا کر اپنے ہی خوف سے اٹھ بیٹھتا ہوں۔ میں خو د سے بھِی خوفزدہ ہوں لیکن بہادری کا تمغہ چاہتا ہوں۔ میں اپنے آپ سے بھی جھوٹ بولتا ہوں مگر سچائی کا دعویدار کہلانا چاہتا ہوں۔ میں باطل کی آواز ہوں مگر حق کا علم لہرانا چاہتا ہوں۔ میں اپنی منزل کی تلاش میں ہوں مگر گمراہ ہو گیا ہوں۔ میں مشعل راہ بننا چاہتا ہوں مگر خود بھٹک گیا ہوں۔ میں سراب کی، ہر لمحہ، ایک نئے عذاب کی تلاش میں ہوں۔ میں وہ ہوں جو اپنے خواب کی تلاش میں ہوں۔

ایک زمانہ تھا میرے پاس بہت سوال تھے مگر اب سب سوال قتل ہوگئے ہیں۔ اب جواب میرے ماتھے پر تھوپ دیے گئے ہیں۔ اب مجھے جستجو نہیں رہی۔ کاوش، کوشش سب نامراد ہو گئی ہیں۔ خواہش، خواب سب مر گئے ہیں۔ امید، آرزو سب ختم ہو گئے ہیں۔ معلوم اور نامعلوم کے فاصلے مٹ گئے ہیں۔ اعتبار اور اعتماد سب ختم ہو گیا ہے۔ اب ایک سکوت ہے۔ ایک گہرا سکوت ہے۔ ایک نا امیدی ہے۔ ایک بے ثباتی ہے۔ ایک بے اطمینانی ہے۔ ایک نامرادی ہے۔ ایک مسلسل ناکامی ہے۔ جو میرا مقدر ہے۔ جو میرا مستقبل ہے۔

میرے سارے لفظ بے ثمر ہو گئے ہیں۔ میرے سارے ہنر خاک میں مل گئے ہیں۔ میرے سارے احساس مر گئے ہیں۔ میں اب ایک مشین ہوں۔ ایک بے جان، بے حس اور بے وجہ مشین۔ جو چل رہی ہے۔ بنا کسی کام کے، بنا کسی دام کے۔ بنا کسی آرزو ناتمام کے۔ نہ اب کوئی خواہش ہے نہ امید نہ کوئی جستجو۔ مجھے اپنے آپ پر بہت مان تھا۔ میں زمانے سے لڑنا چاہتا تھا۔ میں بہت اونچا اڑنا چاہتا تھا۔ میں ستاروں کو تسخیر کرنا چاہتا ہوں۔ میں آسمانوں میں کمندیں ڈالنا چاہتا تھا۔ میں بہت کچھ سوچنا چاہتا تھا۔ لیکن سوچ پر پہرے بٹھا دیے گئے ہیں۔ میں بے بس بے چارہ اور لاچار ہو گیا ہوں۔ میں آزاد ہوتے ہوئے قید ہو گیا ہوں۔

یہ نہیں کہ میرے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ بات یہ ہے کہ میں نے خود شوق سے دھوکہ کھایا ہے۔ اپنی آزادی خود سلب کی ہے۔ اپنے پاوں میں خود زنجیریں ڈالی ہیں۔ اپنے اوپر خود قدغنیں لگائی ہیں۔ اپنے دست و بازو خود کاٹ دیے ہیں۔ اپنا سر خود قلم کر دیا ہے۔ میں اپنے آپ کا قیدی ہوں۔ میں وہ مجرم ہوں جو اپنے ساتھ انصاف کے لئے آواز بلند نہیں کر سکتا۔ میں وہ پرندہ ہوں جو قفس سے بے گھری کا زخم لے کر اڑتا ہے۔ اب مجھے یہ قید خوش آ گئی ہے۔ اب مجھے آزادی کی تلاش ہے ہی نہیں۔ اب میں اپنے حال پر مطمئن ہوں۔

مجھے سر جھکا کر چلنا سکھا دیا گیا ہے۔ میری انا کے بت توڑ دیا گیا ہے۔ میں اب بس تسلیم و رضا کا پتلا ہوں۔ میں اب جور و ستم پر آواز اٹھانے سے قاصر ہوں۔ میں اب حق بات کرنے سے قاصر ہوں۔ میں اب سچ کہنے سے ڈرتا ہوں۔ میں اب آواز اٹھانے سے ڈرتا ہوں۔ میں اب چراغ جلانے سے ڈرتا ہوں۔ میں اب صبح کا اعلان کرنے سے ڈرتا ہوں۔ میں اپنے وجود سے منکر ہوں۔ اب مسلسل تاریکی میرا حاصل ہے۔ اب مسلسل مایوسی میرا مستقبل ہے۔

ایک زمانہ تھا جب میں بہت خوش امید تھا۔ جب مجھے نئی منزلیں سوجھتی تھیں۔ مجھے نئے رنگ سجتے تھے۔ مجھ میں آگے بڑھنے کی جستجو تھی۔ سب کچھ پا لینے کی چاہت تھی۔ میرے جذبے سر شار تھے۔ میرے دل میں نت نئے امنگیں جاگتی تھیں۔ ۔ میرے خواب جوان تھے۔ لیکن پھر میرا سب کچھ لٹ گیا ہے۔ میرا سب کچھ مجھ سے چھن گیا ہے۔ اب بس ایک بے جان وجود ہے جسے میں گھسیٹ رہا ہوں۔ ایک ناکام امید ہے جسے میں سینے میں لے کر چل رہا ہوں۔

میں چاہتا تو انقلاب لا سکتا تھا۔ ایک نئی دنیا بنا سکتا تھا۔ ایک نیا جہان آباد کر سکتا تھا۔ یہی میرا منصب تھا، یہ میرا مقام تھا۔ مجھے تو راستہ دکھانا تھا۔ مجھے تو امید بننا تھا۔ مجھے تو روشنی کرنی تھی۔ مجھے تو جہان علم و دانش کہلانا تھا۔ مجھے نشان منزل دکھانا تھا۔ میرے حوصلے سے دنیا نے امید پکڑنی تھی۔ میری جرات پر تو زمانوں نے فخر کرنا تھا۔ میری سچائی پر صدیوں تک داد ملنی تھی۔ مگر میں نےخود اپنے آپ کو بے توقیر کر دیا۔ اپنی کجیوں، کمیوں کا میں سب سے بڑا خود اشتہار ہوں۔ اپنی ناکامیوں کا میں خود شاہکار ہوں۔ مجھے کسی دشمن نے کیا تباہ کرنا تھا میں خود اپنے انہدام کا سبب ہوں۔ مجھ پر سب الزام درست ہیں۔ مجھ پر سب دشنام درست ہیں۔ میں اب اپنا مجرم ہوں۔ میں نے تو لوگوں کے لئے آواز بلند کرنی تھی مگر میں نے خود اپنی آواز پر پہرے لگا لئے ہیں۔ اپنے ماتھے پر کلنک سجا لئے ہیں۔ اپنے گھر کو خود آگ لگا لی ہے۔ میں خود اپنی مرضی سے راکھ ہو گیا ہوں، خاک ہو گیا ہوں۔

میں اب آزاد نہیں ہو سکتا۔ آزادی کی خواہش نہیں رکھ سکتا۔ مجھے میرے خوف نے قید کیا ہوا ہے۔ مجھے اب میری اپنی آواز سے ڈر لگتا ہے۔ میں اسقدر خوفزدہ ہوں کہ اپنی ہی سماعتوں سے ڈرنے لگا ہوں۔ سچائی مجھے راس نہیں آتی۔ حق بات سجھائی نہیں دیتی۔ ضمیر مر چکا ہے۔ حسیات ختم ہو چکی ہیں۔ میں مایوسی کے گرداب میں ہوں۔ میں اپنے وجود کے عذاب میں ہوں۔ میں اپنی حیثیت سے منکر ہوں۔ یہ نہیں کہ میں آواز بلند نہیں کر سکتا مگر میری آواز کی راہ میں میری اپنی مصلحتیں حائل ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے گرد اتنا بے ہنگم شورہو کہ میری دسترس میں میرا اپنا سناٹا نہ آ سکے۔

میں ایسی نیند چاہتا ہوں کہ جومجھے نئے خواب نہ دکھا سکے۔ نئی روشنی کا کوئی استعارہ نہ بتا سکے۔ مجھے کوئی نیا رستہ نہ سجھا سکے۔ میری پاوں میں زنجیر اب میری عادت ہو گئی ہے۔ میری نابینائی اب میری ضرورت ہو گئی ہے۔ میری سماعتوں پر پہرے میری حاجت ہو گئے ہیں۔ آپ جاننا چاہتے ہیں کہ میں کون ہوں؟ میں وہ ہوں، جو اندھیری تاریک راتوں میں، اپنی امید پر، دھاڑیں مار مار کر رو رہا ہوں۔ اپنے ہی خلاف نفرت کے بیج بو رہا ہوں۔ آپ پوچھ رہے ہیں کہ میں کون ہوں؟ آپ کو میری شناخت درکار ہے؟ تو سنیئے اور کان کھول کر سنیئے کہ میں اس دور جدید میں اس ملک پاکستان کا ”مقبوضہ میڈیا“ ہوں۔

میرے خلاف طعنہ زن ہونے سے پہلے، میرا ذات کا تمسخر اڑانے سے پہلے، میری تضحیک اور توہین کرنے سے پہلے، میرے نام ونشان کو مٹانے سے پہلے، سوچ لیجیے کہ میں دیکھنا چاہتا ہوں مگر میری آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔ میں سننا چاہتا ہوں مگر میرے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈال دیا گیا ہے۔ میں بولنا چاہتا ہوں مگر میرے لب سی دیے گئے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 139 posts and counting.See all posts by ammar