غلام ریاست کا غلام میڈیا


ملک میں جمہوریت کا دور دورہ ہے۔ دس سال کی مختصر مدت میں تیسری بار اسمبلیوں کے انتخاب مکمل ہوچکے ہیں۔ نہ صرف تیسرے انتخاب منعقد ہوئے ہیں بلکہ اس بار تحریک انصاف کی صورت میں ایک نئی پارٹی حکومت بنانے والی ہے۔ کسی بھی جمہوری نظام کی بقا اور استحکام کے لئے یہ سارے مثبت اشاریے ہیں۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ ملک میں جمہوری نظام پر اعتبار میں بھی اسی رفتار سے کمی واقعہ ہورہی ہے۔ انتخابات پر خفیہ ایجنسیوں کےاثرانداز ہونے کے حوالے سے خلائی مخلوق اور محکمہ زراعت کی اصطلاحات برتے جانے کے علاوہ سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ خواص کے علاوہ عام لوگ بھی اب اس بات کی پرواہ کرنے پر تیار نہیں ہیں کہ فوجی ادارے مرضی کی حکومت بنوانے کے لئے مستعد رہتے ہیں۔ اس تشویش کا جواب دینے کے لئے یہ جواب مستک اور صائب سمجھا جارہا ہے کہ ’فوج کسی دشمن ملک کی تو نہیں ہے۔ یہ پاکستان کی ہی فوج ہے‘۔ اس طرح آئین کی تشریح کے مطابق غیر جمہوری ریاستی اداروں کے کردار کو جمہوری نمائیندوں کے زیر نگیں رکھنے کا تصور عملی طور سے ختم ہو چکا ہے۔

تاہم عوامی نمائیندگی کے معاملات میں عسکری اداروں کے علاوہ عدالتوں کے ملوث ہونے کو ملنے والی قبولیت کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ عوام میں جمہوریت پر غیر منتخب اداروں کی دسترس کے خلاف ایک طاقت ور رائے بھی مستحکم ہو رہی ہے۔ یہ رائے 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف حصار بندی پر ردعمل کی صورت میں مرتب ہونا شروع ہوئی تھی۔ جب اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے جوڈیشل ایکٹو ازم کے نام پر اسٹبلشمنٹ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے عملی اقدامات کئے اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ایک خط نہ لکھنے کے عذر پر توہین عدالت کے الزام میں سزا دے کر معذول کیا تو صاحب الرائے لوگوں پر یہ واضح ہونا شروع ہو گیا تھا کہ معاملات درست سمت میں رواں نہیں ہیں۔ اس بارے میں توجہ مبذول کروانے کی کوششیں شروع ہو چکی تھیں۔ تاہم اس وقت تین عوامل کی وجہ سے اس رائے کو وسیع تر پذیرائی نصیب نہیں ہوئی۔

 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت پرویز مشرف کی حکومت کے ایک دہائی پر محیط دور کے بعد پہلی جمہوری حکومت تھی۔ دسمبر 2007 میں بے نظیر بھٹو کی المناک شہادت کے باوجود آصف زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر اور انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرکے پاکستان اور جمہوریت کی حفاظت کے لئے اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے نواز شریف کو بھی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے سے باز رکھ کر ان انتخابات کو قابل اعتبار بنایا تھا۔ اس طرح پیپلز پارٹی کے علاوہ فوجی اور غیر آئینی حکومت سے نجات کے خواہشمند حلقوں نے بھی جمہوریت کو آگے بڑھانے کے لئے مفاہمانہ طرز عمل اختیار کرنے کو ترجیح دینا ضروری سمجھا۔ اس حوالے سے دوسری وجہ عدلیہ بحالی تحریک کا جمہوریت کی بحالی اور افتخار چوہدری کا اس تحریک میں کردار تھا۔ ملک کے صدر اور فوجی لیڈر کے دباؤ کے باوجود انہوں نے نہایت بہادری سے اپنے عہدہ سے استعفی دینے سے انکار کیا تھا۔ اس سے یہ تاثر قوی ہؤا تھا کہ ملک کی عدلیہ فوجی سربراہ کے آئین شکن اقدامات کے خلاف عوام کے حق حکمرانی کے لئے سینہ سپر ہو چکی ہے۔ اس تاثر نے لوگوں کے جذبہ کو ابھارا اور جسٹس افتخار چوہدری کو غیر معمولی مقبولیت نصیب ہوئی۔ ان کی بحالی کے بعد افتخار چوہدری کا شخصی بت اس قدر مضبوط ہوچکا تھا کہ ان سے کسی ماورائے آئین اور جمہوریت دشمن اقدام کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی تھی۔ اس لئے جب جمہوری حکومت کے خلاف ایک خاص ایجنڈے کے تحت افتخار چوہدری سرگرم ہوئے تو اسے عدالت کی خودمختاری اور کرپٹ سیاست دانوں کے خلاف ضروری اقدام سمجھا گیا۔ حالانکہ یہی افتخار چوہدری انہی سیاست دانوں کی اعانت و امداد کے باعث بحال ہوسکے تھے۔ لیکن بحالی کے بعد وہ عدالت عظمی کو اس کے اسٹبلشمنٹ نواز کردار کی طرف واپس لے گئے۔

جمہوریت پر درپردہ حملوں کو درگزر کرنے میں اس وقت اپوزیشن لیڈر کا کردار نبھانے والے نواز شریف نے بھی حصہ ڈالنا ضروری سمجھا تھا۔ اس طرح پنجاب کے مقبول سیاسی لیڈر نے مرکز میں تیسری بار وزارت عظمی حاصل کرنے کے شوق میں اس بنیاد کو ہلانے کی اپنی سی کوشش کی جس پر طویل آمریت کے بعد جمہوریت کا سفر شروع ہؤا تھا۔ نواز شریف میمو گیٹ کیس میں مدعی بنتے ہوئے یا یوسف رضا گیلانی کے خلاف عدالتی حکم پر خوشی مناتے ہوئے یہ باور کرنے میں بری طرح ناکام رہے کہ کہ کل کلاں یہ ہتھکنڈے ان کے خلاف بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس بات کا ادراک انہیں پہلے 2014کے دھرنے اور پھر پاناما پیپرز کے انکشافات سے پیدا ہونے والی صورت حال میں ہؤا۔ لیکن اس معاملہ کو انہوں نے پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل کرکے حل کرنے کی بجائے اپنی پارٹی کی پارلیمانی اکثریت کے زعم میں عدالتوں تک پہنچا دیا۔ جہاں سے وہ بالآخر 2017میں نااہل اور 2018 میں سزا یافتہ ہوئے۔

اگرچہ 2008 اور 2013 میں قائم ہونے والی حکومتوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور اس کا چرچا بھی کیا جاتا ہے لیکن یہ دونوں حکومتیں براہ راست فوج اور عدالتوں کے دباؤ میں رہیں۔ افتخار چوہدری کے بعد ثاقب نثار جس طرح عدالتی اختیار کو لامحدود کررہے ہیں اور ان کے طرز عمل کو عسکری قوت کے علاوہ جس طرح بعض سیاسی طاقتوں کی اعانت حاصل رہی ہے اس سے جمہوریت کا ڈھونگ سب پر آشکار ہورہا ہے۔ اسی کے ساتھ جمہوریت کے خلاف اسٹبلشمنٹ کےکردار کے بارے میں رائے بھی مضبوط ہو رہی ہے۔ اسٹبلشمنٹ اور حکومت کرنے کے شوق میں مبتلا سیاسی قوتیں ابھی تک اس رائے کی قوت، اہمیت اور قدر و قیمت کا اندازہ کرنے میں ناکام ہیں۔ لیکن ملکی معاملات کو جس ڈھب پر چلانے کی کوشش ہورہی ہے اس کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ ایک طاقتور سیاسی رائے کو نظرانداز کرنے سے بہتری کی بجائے بگاڑ پیدا ہونے کا امکان بھی بڑھ رہا ہے۔

اس حوالے سے ملک کے میڈیا کا کردار افسوسناک حد تک قابل مذمت ہے۔ سرمایہ دار میڈیا ہاؤسز کے مالک ہیں۔ انہوں نے سیلف سنسر شپ کے عنوان سے متبادل رائے پر قدغن، ایک منظور شدہ بیانیہ کی ترویج اور گمراہ کن جمہوری تصور پھیلانے کو اپنا فرض منصبی سمجھ لیا ہے۔ اس نظریہ اور حکمت عملی کے تحت سیاست دانوں کو ملک کو درپیش مسائل کی جڑ اور بدعنوان قرار دیتے ہوئے، ان کی کردار کشی کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ میڈیا ہاؤسز کا یہ رویہ دراصل مالکان کی مفاد پرستی کا نتیجہ ہے۔ پاکستانی میڈیا کو یہ انوکھا اعزاز حاصل ہے کہ اس کے سرمایہ دار مالکان خود ہی اپنی پبلیکیشنز اور نشریات کے مدیر بھی ہوتے ہیں۔ اسی لئے وہ جس طرح چاہیں خبر اور تبصرہ کو مسترد کرسکتے ہیں۔ لیکن اسے سنسر شپ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ دوسری طرف اینکرز کی صورت میں نام نہاد صحافیوں کا ایک ایسا طبقہ پیدا کرلیا گیا ہے جو مالکان اور اسٹبلشمنٹ کے مفادات کا سب سے بڑا محافظ بن چکا ہے تاکہ اس طرح اپنی غیر معمولی دولت اور پر تعیش طرز زندگی کی حفاظت کرسکے۔ ایسے میں مزدور پیشہ عامل صحافیوں کی رائے اور کردار کو مکمل طور سے نظرانداز کیا جارہا ہے لیکن وہ احتجاج تک کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

ملک میں جمہوریت کا غلغلہ ہے لیکن میڈیا میں اختلافی کالم، مضامین یا پروگرام شائع یا نشر کرنے سے انکار پر کوئی صدائے احتجاج سننے میں نہیں آتی۔ آرمی چیف کہتے ہیں کہ اب ملک میں کوئی قانون سے بالا تر نہیں ہو گا لیکن کوئی نہیں پوچھتا کہ فوج اور اس کے افسروں کے لئے قانون کا علیحدہ معیار کب ختم ہوگا۔ چیف جسٹس سیاسی فیصلے کرتے ہیں اور عوامی رابطہ مہم چلاتے ہیں اور میڈیا انہیں نجات دہندہ قرار دینے پر مصر ہے۔ ملک کی نگران حکومت جس کی مدت ایک ہفتے میں ختم ہورہی ہے کا ایک وزیر ملک میں کویت سے زیادہ تیل کے ذخائر کا انکشاف کرتا ہے تو دوسرا کالا باغ ڈیم کی مخالفت کو دشمن ملکوں کی سازش قرار دینا اپنا فرض منصبی سمجھ رہا ہے۔ چیف جسٹس سابق آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کے بیرون ملک ملازمت پر پھنکارنے کے بعد اس معاملہ کو آئندہ حکومت کے حوالے کرکے اپنے آئینی فرض سے سبکدوش ہوجاتے ہیں۔ کون پوچھے کہ آپ پہلے زیادہ بول گئے تھے یا اب غلط فیصلہ کرنے پر مجبور ہیں۔

اداروں اور افراد کے غلام نظام میں پابند اور مجبور میڈیا گھر کی لونڈی کا کردار ادا کرکے خود کو سب سے زیادہ باخبر اور بااختیار قرار دینے میں سبکی محسوس نہیں کرتا۔ ہر تیسرا کالم نگار اور اینکر عمران خان سے دوستی اور مراسم کا حوالہ دینے کے علاوہ انہیں قوم کا کھیون ہارا قرار دینےپر مصر ہے حالانکہ انہوں نے ابھی اپنے عہدے کا حلف نہیں اٹھایا۔ اور نیا پاکستان بنانے کا عزم رکھنے والا شخص جمہور کے ووٹ لینے کے باوجود ان کے حق آزادی رائے کا محافظ بننا ضروری نہیں سمجھتا۔ پاکستان میں جمہوریت کے اس سفر کو تضادات کا نمونہ اور فریب دہی کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 900 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali