آنکھوں اور سر کے اشاروں سے حرکت کرنے والی ویل چیئر تیار


wheel chairبرازیل کے انجینئروں نے چہرے کے معمولی تاثرات، آنکھوں کے اشاروں اور سر کی حرکت سے آگے بڑھنے والی ویل چیئر بنالی ہے جسے 2 سال بعد بازار میں فروخت کے لئے پیش کردیا جائے گا۔
برازیل میں ایف ای ای سی یونیورسٹی کے ماہرین نے یہ ویل چیئر ان افراد کے لیے بنائی ہے جو فالج یا کسی ذہنی بیماری کی وجہ سے کرسی کو کسی ریموٹ کنٹرول سے چلانے کی قدرت بھی نہیں رکھتے یا وہ آواز کے ذریعے ہدایات دینے سے بھی قاصر رہتے ہیں۔
2011 سے ماہرین نے ذہن اور کمپیوٹر انٹرفیس ٹیکنالوجی پر کام شروع کیا اور اسے حقیقی زندگی میں آزمانے کی کوشش کی۔ جوائے سٹک اور موٹر سے چلنے والی ایک ویل چیئر میں جوائے سٹک نکالی گئی اور اس پر کمروں اور دیواروں سے فاصلہ ناپنے والے سینسر لگائے گئے اور انٹیل کا ریئل سینس تھری ڈی کیمرہ لگایا گیا جسے ایک لیپ ٹاپ سے جوڑا گیا تھا۔
اس کا کیمرہ آنکھ ، ناک اور ہونٹوں کے 70 سے زائد اشارے شناخت کرسکتا ہے۔ اس طرح یہ چہرے کے اشاروں سے آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں کے علاوہ رک بھی سکتی ہے۔ اس میں وائی فائی کی گنجائش ہے جسے دور سے بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ویل چیئر کو انٹرنیٹ سے بھی قابو کیا جاسکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments