لندن سے مرزا غالب کا ایک خط


arif waqar sbیادِ ایامِ رفتہ، مُنشی ہر گوپال تفتہ

کس حال میں ہو، کِس خیال میں ہو۔ میرزا باقر علی خان کے مکتوب سے ہویدا ہوا کہ رِضوان نے رپٹ تمھاری پھر بڑے دربار میں پہنچائی ہے کہ دیوارِ بہشت پر چڑھ کر نظّارہ اندرونِ جہنم کا کرتے ہو اور آہیں سرد بھرتے ہو، میاں باز آجاؤ، خود تو پکڑے جاؤ گے، ساتھیوں پر پابندی مفت میں لگواؤ گے۔

یہاں میں نے سیر لندن کی مفصّل دیکھی اور احوال عجائباتِ فرنگ کا اپنے مکتوب بنام میر مہدی مجروح میں سارا رقم کر دیا۔ ذکرِ حسینانِ ولایت بالعموم اور حورشمائلانِ لندن بالخصوص کل ہی حاتم علی بیگ مہر کے نام روانہ کیا ہے۔ ناطقہ اگرچہ ہمہ وقت سربہ گریبان اور خامہ انگشت بدنداں رہا کہ احوال اس عجائبِستان کا کیونکر لکھیئے۔ نہ ہاتھ کو جنبش نے آنکھوں میں دم۔ مگر سبب اس بے بسی کا کہولت یا ناتوانی ہرگز نہ تھی – گرمیء نظارہ نے آنکھوں کا دم کھینچ لیا تھا۔ منتطر تھا کہ ذرا دِن ڈھلے اور شدتِ نظارہ میں اتنی تو کمی آئے کہ چشمِ ناتواں اس کی متحمل ہو سکے مگر یقین جاننا میرزا تفقہ کہ سواری مہرِ درحشاں کی جوں جوں جانب مغرب بڑھی، چکا چوند نظارے کی اُسی نسبت سے بانسوں چڑھی اور وہ بِنات النعشِ زمینی بھی کہ دِن کو پردے میں نہاں تھیں، شب کے آتے ہی دم بہ دم عریاں ہونے لگیں۔ آخر گھبرا کر ایک تنگ سی گلی کے نیم روشن کمرے میں پناہ لی مگر اندر جا کر کُھلا کے ایک مے خانے میں ہوں۔

اب تم جانو میرزا تفتہ کہ شغلِ مے نوشی عرصہء دراز سے ترک تھا، ہاں روزِ ابر اور شبِ ماہتاب کی قسم ہم نے نہیں کھائی تھی، مگر یہاں لندن میں تو ہر شب، شبِ ماہتاب ہے اور ابر کی کیا پوچھتے ہو، دِن میں دس دس بار آتا ہے۔ بادہ نوشی پر اکساتا ہے، مگر عالمِ بالا میں جو شرابِ طہور میسر ہے اُس کے پینے سے تالو میں ایک کیفیت کسیلے پن کی مستقل ہو گئی تھی اور کس کافر کو آتشِ سیال کا ذائقہ یاد رہ گیا تھا۔۔۔ ہاں تو اس شہرِ بے مثال میں اپنی شبِ اوّلین کا ذکر کر رہا تھا کہ میں نے خود کو ایک نیم روشن مے خانے میں کھڑا پایا۔ چہار جانب صراحیاں رنگ رنگ کی، طاقچوں میں سجی دیکھیں تو دِلی کے جان جاکوب اور برؤن صاحب کے گھر میں ملنے والی ٰ ٰ فرنچ ٰ ٰ اور ٰ ٰ شام پین ٰ ٰ بھی خانہ ساز کے مٹکے معلوم ہوئے، دِل و جان اِنھی صراحیوں میں اٹکے معلوم ہوئے، ۔ اور ہاں میاں دِلی میں تم نے مجھے ٰ ٰ شام پین ٰ ٰ کا جو مطلب سمجھایا تھا وہ کس لغت سے اڑایا تھا۔ تمھاری یہ بات رہ رہ کے یاد آتی ہے کہ یہ شام کو پینے کی چیز ہے سو ٰ ٰ شام پین ٰ ٰ کہلاتی ہے۔

Ghalibہر چند کہ وہاں ساقیانِ سپید فام کا خرام ہی نشہ آفریں تھا اور ہجومِ بد مست بناتِ فرنگ اور دخترانِ لندن کا ہر کہیں تھا، مگر یہ دلِ نابکار تھا کہ محض دُختر رز اور بنتِ انب کا طلب گار تھا، کم بخت نے اتنا اکسایا کہ ناگاہ خود کو کوچہ ذِلت میں پایا۔۔۔ صُورت تو اُس پیرِ مغانِ سپید فام کی ایڈمنسٹن صاحب بہادر سے ملتی جلتی تھی کہ غدر سے پہلے چیف سکرتر ہُوا کرتے تھے مگر سیرت کسی جلّاد کی معلوم ہوتی تھی۔۔۔ میں اُن کے کٹہرے میں داخل ہوا تو اُن کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔ جو نقد میری جیب میں تھا سکہ رائج الوقت نہ تھا اور جو سکہ اُسے مطلوب تھا، میری جیب میں مفقود تھا۔ البتہ تلاشی جیب کی لینے پر وہ رقعہ نکل آیا جو عالمِ بالا سے رخصت ہوتے ہوئے کلبِ علی خان بہادر نے لندن میں مقیم اپنے ایک عزیز رضا علی عابدی کے نام دیا تھا۔ سوچا اب کہاں تک ضبط کروں، کیوں نہ مخاطبِ رقعہ سے فوری ربط کروں۔

 مے خانہ چھوڑ کر نکل رہا تھا تو منظر جنت سے آدم کے نکالے جانے کا نگاہوں میں گھوم رہا تھا۔ جاتے جاتے میکدے کی میزوں پر آخری نگاہ کی۔ تُندیء صہبا کے مارے ہوئے جام ہر طرف اوندھے پڑے تھے۔ جی میں آئی کہ گھوم پھر کر ان پیالوں کی جمع کرنی شروع کر دوں تو آدھی بوتل اِن باقیات الصالحات سے بھر جائے۔ سوچا کہ پیرِ مغاں سے اجازت پاؤں تو کسی مغ بچے کو اس کام پہ لگاؤں۔ جی کڑا کر کے پھر اُس کے کٹہرے تک گیا مگر پُوچھنے کا یارا نہ ہوا:

کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ

ہے یوں کہ مجھے دُردِ تہِ جام بہت ہے

باہر نکل کر ایک انگریزی لمپ کی روشنی میں رقعہ کلبِ علی خان بہادر کا بنام رضا علی عابدی ایک بار پڑھا اور علی کا نام لے کر مطابق نقشے کے عازمِ سفر ہوا۔۔۔ اگلے روز ایک پہر دن چڑھے خود کو ایک عمارتِ پُر شکوہ کے سامنے پایا کہ یہی اُس رقعے کی منزلِ مقصود تھی۔ صدر دروازے پر ایک زنگی نے کہ لباسِ فرنگی میں تھا میرا رستہ روک لیا اور بزبانِ انگریزی کچھ بدتمیزی کی۔ میں نے مدّعا آنے کا بیان کیا اور رقعہ بھی دکھایا مگر اُس کندہِ ناتراش کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔۔۔ بالآخر ایک راہ گیر نے کہ زبانِ انگریزی و ہندوستانی دونوں سے آگاہ تھا، مُدّعا میرا بہ سبیلِ ترجمہ دربانِ فرنگی تک پہنچایا، تِس پہ وہ مجھے ڈیوڑھی تک لے گیا جہاں  دو نازنیاں ِ فرنگ، بچشمِ فراخ و دہانِ تنگ، بہ اندازِ عشوہ و غمزہ میری طرف نظر فرما ہوئیں اور اپنی بولی میں گویا ہوئیں۔ بہت کاوش کی کہ فرمودات اُن بتانِ ghalib02فرنگی کے میرے حیطہِ ادراک میں آویں لیکن ، مدعا عنقا تھا اُن کے عالمِ تقریر کا۔۔۔ آخر تھک ہار کر میری آگہی نے بھی دامِ شنیدن سمیٹا اور اسکی جگہ جال نگاہوں کا پھیلا دیا۔ ہر چند کہ جو دانہ میں نے ڈالا، درجہ اوّل کا تھا اور جو دام میں نے بچھایا ہم رنگِ زمین تھا پر وہ معصوم پرندے کہ صورت میں طیورِ آشیاں گم کردہ سے مختلف نہ تھے، سیرت میں بڑے دانا اور بینا نکلے۔۔۔ بلکہ غور کیا تو اُس طرف بھی نگاہوں کی کمان کڑی اور تیر نیم کش تھے۔۔۔ گویا جو حربہ میں اُن پر آزما رہا تھا وہی  داؤ پیچ وہ مجھ پہ لگا رہے تھے۔ مگر تمھی انصاف کرو میرزا کہ اُدھر وہ دو دو اور دونوں پر جوبن، اِدھر یہ اکیلا غالبِ خستہ تن، مقابلہ کیا تھا سیدھی سیدھی شُترگربگی تھی۔ جب میری خلش اس درجہ بڑھی کہ چہرہ غمازی کرنے لگا تو معشوقانِ سپید فام غالباً میری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھ گئے۔ تب اُس حسینہ نے کہ بہ نسبت دوسری کے کم سن و شوخ تر تھی، آلہء ترسیل الصوت اپنے داہنے ہاتھ میں تولا اور اُس میں میرا نام بولا۔ قیاس ہےکہ دوسری جانب سے فردِ مطلوبہ نے سنا اور جواباً کچھ کہا۔ اور میاں تفتہ اگر تم حیرت کرتے ہو کہ یہ آلہء  ترسیل الصوت کیا بلا ہے تو بھائی ذکر اس کا میں نے مُفصّل میر مہدی کے خط میں کر دیا ہے۔ یہاں اتنا سمجھ لو کہ جو بھی بات اس میں کہو وہ اگلے تک پہنچ جاتی ہے۔ خواہ وہ کوسوں دور ہی کیوں نہ بیٹھا ہو اور جواب تمھاری بات کا بہ سبیل اِسی آلے کے تم کو پہنچ جاتا ہے، گویا یہ ہِجر میں وصال کے مزے دلاتا ہے۔۔۔ خیر آمدم بر سرِ مطلب۔ زنگی نے اشاروں کنایوں سے سمجھایا کہ شخصِ مطلوب بارہ بجے سے پہلے نہ آسکے گا۔ انتظار کیجئے۔ بہت کہا کِئے کہ میاں ہم غالب ہیں اندر جانے سے کیوں روکتے ہو ۔ تس پہ اُس مردِ نامعقول نے تفصیل اپنے اجمال کی اُچھل کود کر بہ اندازِ نوٹنکی بیان کرنی شروع کی۔ خلاصہ جس کا میں یوں سمجھا کہ اندر جانے کا پروانہ صاحب بہادر کلاں جاری The_Old_Mitre__021_5709_C3کرتے ہیں اور اُس کے لئے اشٹام بھر کے، شبیہہ اپنی بطریق فوٹو گراف بنوا کر اُس پہ چسپاں کرنی پڑتی ہے پھر مہر عدالت کی لگنے اور دستخط حاکم  کے ہونے کے بعد اجازت داخلے کی ملتی ہے۔۔۔ پس یہی آسان جانا کہ زحمت انتظار کی کھینچے، سو ناچار وہیں بیٹھ گیا۔ تاک میں تھا کہ زنگی داروغہ اِدھر اُدھر ہو تو اندر سٹک جاؤں۔۔۔ مگر وہ مردِ قوی ہیکل ٹس سے مس نہ ہوااور نقشِ کالحجر وہیں کا وہیں ٹِکا رہا۔ دونوں دربان حیسناؤں کی نسبت یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ آج نہیں تو کل یہ صورتیں خاک میں پہناں ہوں گی اور اتنا رسوخ تو عالمِ بالا میں ہمارا بھی ہے کہ ان دونوں پری زادوں کو فرائض حوروں کے انجام دینے پر مامور کرا دیں – بس پھر اللہ دے اور بندہ لے!

اور اُس بدہیئت داروغہء زنگی کے لئے تو ہم نے دِل ہی دِل میں جہنم کا وہ گوشہ بھی مخصوص کر لیا جہاں سب سے لمبے گرزوں والے جناّت براجمان رہتے ہیں۔۔۔ کراماً کاتبین کے یہ فرائض نباہنے میں خاصا وقت لگ گیا۔۔۔ اب جیب سے ریاست رام پور کی تحفہ میں ملی ہوئی طلائی گھڑی نکال کے وقت دیکھا تو بارہ پر تین بج رہے تھے یا حیرت! یہ کیسے میزبان ہیں؟ ٰ ٰ بارہ ٰ ٰ پر اصرار تو سمجھ میں آتا تھا کہ کلبِ علی خان کی طرح یہ بھی اثنا عشری ہوں گے لیکن اب تو بارہ پہ تین بج رہے تھے۔ مگر صاحب پھر بارہ پر چار بھی بج گئے اور یہاں تک کہ پانچ بھی بج گئے لیکن رضا علی عابدی ندارد۔ آدھا گھنٹا اور اسی پیچ و تاب میں گزرا اور قریب تھا کہ قصد واپسی کا کرتے کہ سامنے سے ایک شخص مسکراتا ہوا آتا دکھائی پڑا۔ جیسا نواب صاحب سے سنا تھا ویسا ہی مرنجان مرنج اسے پایا مگر یہ قصّہ سمجھ میں نہ آیا کہ بارہ بجے بلایا اور ساڑھے پانچ تک بٹھایا۔ جب میں شکایت زبان پر لایا تو وہ مردِ مہربان پھر 1369808357_bush-houseسے مسکرایا اور بولا ٰ ٰ قبلہ آپ کی گھڑی وقت دلی کا بتا رہی ہے، یہاں لندن میں ابھی بارہ ہی بجے ہیںٰ ٰ میں نے کہا بھئی تکلّف برطرف، بڑی طلب ہو رہی ہے، پہلے کچھ بندوبست پینے پلانے کا ہو جائےٰ ٰ۔۔۔ بس میرا یہ کہنا تھا کہ مسکراہٹ اُس مردِ معصوم کے چہرے سے عنقا ہوگئی اور قطرے اِنفعال کے پیشانی پر چمکنے لگے۔ بصد مشکل گویا ہوئے ٰ ٰ حضور ماہِ محرم ہے اور آپ کو جام و سبو کی سوجھتی ہے۔ کچھ تو خیال کیجئےٰ ٰ ۔ میں نے کہا کہ محرم ہے تو میرا پانی بند کر دو، شراب سے تو محروم نہ رکھو۔ رہی پیالہ و ساغر کی بات تو کون کافر اس کا محتاج ہے۔ شرابِ ناب ملے تو چُلّو سے بھی پیو۔

پلا دے اوک سے ساقی جو مجھ سے نفرت ہے

پیا لہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے

اور یہ محرم کی دھونس ہمیں کیوں دیتے ہو۔ ابھی تو ختمِ محرم میں کئی دن پڑے ہیں، کیا تب تک پیاسا رکھو گے؟ اس غریب الوطن کو ایک جُرعہ نہ پلاؤ گےاور یونہی تڑپاؤ گے۔ میاں سچ کہو قافلہء حسین کے آدمی ہو یا لشکرِ یزید کے؟

کل کےلئے کر آج نہ خسّت شراب میں

یہ سُوئے ظن ہے ساقیء کوثر کے باب میں

تس پہ وہ بولے ٰ ٰ کچھ بھی کہیئے مجھ سے یہ کام نہیں ہونے کا۔ آپ چاہیں تو بنفسِ نفیس مے خامے میں تشریف لے جائیں۔ خرچہ پیشگی دینے کو تیار ہوںٰ ٰ – تب اُس raza ali abidiمردِ پختہ قول نے اپنے معدنِ کیسہ سے دو پونڈ سنہری، چمکتے دمکتے نکالے اور میرے ہاتھ میں تھمائے اور راستہ میکدے کا دکھایا۔

وہاں پہنچا تو دیکھ کر دکھ انتہا درجے کا ہوا کہ مے نوشی کا شغل روح  پرور ایک زیرِ زمین کمرے میں ہو رہا ہے۔ عجب لوگ ہیں، بالا خانے کی چیز تہ خانے میں رکھتے ہیں۔ ابھی اس صدمے سے سنبھل نہ پایا تھا کہ ایک اجنبی کہ صورت سے ہم وطن معلوم ہوتا تھا لڑکھڑاتا ہوا آیا اور نشے میں دھت مجھ سے ٹکرایا۔ نام و نسب  پوچھا تو بولا کہ فلاں محکمے میں صدر امین کے عہدے پہ فائز ہوں، بے تکلفی کا سبب دریافت کیا تو بولا میں بھی مُغل بچہ ہوں اور اس نسبت سے آپ کا بھائی ہوں۔ اب غور سے صورت جو اُس مغل بھائی کی دیکھی تو بخدا اہلِ حرفہ اور شاگرد پیشہ سے قطعاً مختلف نہ پائی۔ کیا بتاؤں میرزا تفتہ کہ اُس نام نہاد مغل نے وہ شام کیسے برباد کی اور مجھ پہ کیا کیا بے داد کی۔ سچ جانو تو وہ کوئی مغل بچہ نہ تھا بلکہ رضا علی عابدی کی بد دعا تھی جو ماہِ محرم میں اس شغل ابلیسی پر مجھ کو ملی تھی۔ بعد کا احوال درد ناک ہے۔ کاغذ نبڑ گیا۔ اگلے مکتوب میں تفصیل اُس شبِ تیرہ بخت کی مفصّل رقم کروں گا۔

جملہ اہلِ جنت کو اور وہ جو جہنم کے مزے لوٹتے ہیں اُن کو اور وہ جُملہ احباب جو برزخ میں خاتمہء سزا کے منتظر ہیں – سب کو میرا سلام پہنچا دینا۔

خیریت کا طالب

اسد اللہ غالب

 


Comments

FB Login Required - comments