تبدیلی آگئی مگر۔۔۔


تبدیلی آگئی ہے اور الیکشن کے ابتدائی نتائج آتے ہی آ گئی۔ سب سے بڑی تبدیلی پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے ہاں واقع ہوئی۔ گزشتہ پانچ سال پی ٹی آئی، دھاندلی دھاندلی کا شور مچاتی رہی تو مسلم لیگ (ن) اصرار کرتی رہی کہ انتخابات صاف اور شفاف منعقد ہوئے، اب مسلم لیگ(ن) دھاندلی کا شور مچاتی رہے گی تو پی ٹی آئی ثابت کرتی رہے گی کہ انتخابات صاف بھی تھے اور شفاف بھی۔ گزشتہ پانچ سال پی ٹی آئی دھرنوں اور فساد کے لیے بہانے ڈھونڈتی رہی اور مسلم لیگ(ن) پارلیمنٹ کے اندر مسائل حل کرنے پر زور دیتی رہی جب کہ اب مسلم لیگ(ن) پارلیمنٹ کو جعلی قرار د ے کراس سے باہر اودھم مچانے کی کوشش کرتی رہے گی۔

گزشتہ پانچ سال پی ٹی آئی کے لوگ گالم گلوچ سے کام لے کر ماحول خراب کرتے اور مسلم لیگ(ن) کی قیادت صبر سے کام لیتی رہی جب کہ اب پی ٹی آئی والے نصیحتیں کرتے رہیں گے اورمسلم لیگی وہی گالیاں یاد کریں گے جو پی ٹی آئی نے ایجاد کی ہیں۔ گزشتہ پانچ سال عمران خان پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے رہے جب کہ مولانا فضل الرحمان تہتر کے آئین کے تناظر میں پارلیمنٹ کے عزت و احترام کا درس دیتے رہے، اب عمران خان صاحب، مولانا فضل الرحمان بن جائیں گے جب کہ مولانا فضل الرحمان قرآن و سنت کی روشنی میں پارلیمنٹ کو بوگس قرار دے کر اس پر لعنت بھیجتے رہیں گے۔ گزشتہ پانچ سال محمود اچکزئی صاحب عمران خان کے دھرنوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں پارلیمنٹ میں آنے کا درس دیتے رہے جب کہ اب وہ دھرنے دیں گے اور عمران خان صاحب انھیں آئین اور پارلیمنٹ کے احترام کا درس دیتے نظر آئیں گے۔

گزشتہ پانچ سال اسفند یار ولی خان صاحب سسٹم گرانے کے لیے سرگرم عمل عمران خان کے مقابلے میں سسٹم کے ساتھ کھڑے تھے لیکن اب وہ نئی اسمبلیوں سے جان چھڑانے والی قوتوں کی اگلی صف میں ہوں گے۔ گزشتہ پانچ سال میں عہدوں کے حصول کے لیے مسلم لیگ (ن) کے پارٹی رہنما اور کارندے اسلام آباد کے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں نظر آتے تھے اور اب پی ٹی آئی والے وہاں قابض ہوں گے۔ عہدوں کے جو سودے پہلے کوہسار مارکیٹ اور جناح سپر میں ہوا کرتے تھے، اب ان کے ساتھ ساتھ فائیو اسٹار ہوٹلوں میں بھی ہونے لگیں گے۔ گزشتہ پانچ سال میاں نوازشریف تک پہنچنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کے ایم این ایز فواد حسن فواد کی خوشامدیں کرتے نظر آتے تھے اور اب پی ٹی آئی کے ایم این ایز عمران خان تک پہنچنے کے لیے عون چودھری، فواد چودھری، نعیم الحق اور زلفی بخاری کی قدم بوسی کرتے رہیں گے۔ پچھلے پانچ سالوں میں اسحاق ڈار آئی ایم ایف کے پاس جانے کے دلائل دیا کرتے جب کہ پی ٹی آئی والے مذاق اڑاتے رہتے تھے اب اسد عمر وہی تاویلیں پیش کرتے جب کہ اپوزیشن والے مذاق اڑاتے رہیں گے۔

پچھلے پانچ سال مسلم لیگ (ن) والے میڈیا کے رویے کا رونا روتے رہے تو اب پی ٹی آئی یہ ذمہ داری سنبھال لے گی۔ پچھلے پانچ سال مسلم لیگی یہ عذر پیش کرتے رہے کہ عدلیہ ان کی حکومت کو کام کرنے نہیں دے رہی اور اب یہ فریادیں پی ٹی آئی کی طرف سے سننے کو ملیں گی۔ پچھلے پانچ سال مسلم لیگی، طاقتور اداروں کے مقابلے میں اپنی بے بسی کا رونا روتے اور پی ٹی آئی والے مذاق اڑاتے رہے جب کہ اب پی ٹی آئی مسلم لیگ (ن) بن جائے گی۔ سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی کہ اب عمران خان، نوازشریف بن جائیں گے، فواد چودھری ،مریم اورنگزیب بن جائیں گے، اسد عمر، اسحاق ڈار بن جائیں گے۔ شیریں مزاری، خرم دستگیر بن جائیں گی۔ پرویز خٹک، احسن اقبال بن جائیں گے۔ علی محمد خان، طلال چودھری بن جائیں گے اور مراد سعید عابد شیر بن جائیں گے۔

تبدیلی نہیں آئی تو عوام اور پاکستان کی حالت میں نہیں آئی۔ پاکستان کے مسائل جوں کے توں رہیں گے اور عوام کی بد حالی جوں کی توں رہے گی۔ پاکستان کو حسب سابق معاشی بحران کا سامنا رہے گا۔ پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات حسب سابق کشیدہ رہیں گے۔ سول ملٹری تعلقات جیسے تھے، ویسے ہی رہیں گے۔ عدالتوں میں بدستور انصاف فروخت ہوتا رہے گا۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔ پاکستان کا عالمی امیج جیسا تھا، ویسا رہے گا۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ان حوالوں سے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کل جس طرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے قبضے میں تھیں، اسی طرح آج تحریک انصاف، انھی سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے قبضے میں آ گئی ہے۔ یہ جہانگیر ترین، یہ شاہ محمود قریشی اور یہ خسرو بختیار وغیرہ کل دوسری پارٹیوں کے جھنڈے تلے حکمران تھے اور اب پی ٹی آئی کے جھنڈے تلے حکمران ہوں گے۔

جتنا اختیار وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے پاس تھا، اتنا اختیار وزیر اعظم عمران خان کے پاس بھی ہوگا۔ جتنی وزیرداخلہ احسن اقبال کی چلتی تھی، اتنی ہی عمران خان کی کابینہ کے وزیر داخلہ کی بھی چلے گی۔ خارجہ پالیسی میں جو اختیار میاں نوازشریف کے وزیر خارجہ کو حاصل تھا، اتنا ہی اختیار عمران خان کے وزیر خارجہ کو بھی حاصل ہوگا بلکہ غالب امکان یہ ہے کہ وزیر خارجہ بھی وہی ہوگا جو میاں نوازشریف کی ٹیم کا حصہ تھا۔

(بشکریہ روزنامہ جنگ)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں