’سانحہ کوئٹہ میں وکلا کی کریم ہلاک ہوئی جس سے ایسا خلا پیدا ہوا جو آج تک پورا نہیں ہوا‘

محمد کاظم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ


عندلیب قیصرانی

BBC
عندلیب آٹھ اگست سانحے کی نہ صرف عینی شاہد ہیں بلکہ وہ اس واقعے میں خود بھی شدید زخمی ہوئی تھیں۔

’وہ میری یادوں کا حصہ ہیں۔ وہ میرے ساتھ ہیں۔ ان کو نہیں بھلایا جاسکتا۔‘

ایڈووکیٹ عندلیب قیصرانی جب بھی سانحہ آٹھ اگست میں بچھڑنے والے ساتھی وکلا کو یاد کرتی ہیں تو ان کی آنکھیں نم ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔

عندلیب آٹھ اگست 2016 کو سول ہسپتال کوئٹہ میں خود کش حملے کی نہ صرف عینی شاہد ہیں بلکہ وہ اس واقعے میں خود بھی شدید زخمی ہوئی تھیں۔

اس سانحہ میں 56 وکلا سمیت 70 سے زائد افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ زخمی ہونے کے باعث اب عندلیب قیصرانی کے لیے چھڑی کے سہارے کے بغیر چلنا مشکل ہے۔

‘دس سالوں کے دوران 43 صحافی اور کیمرہ مین ہلاک ہوئے’

کوئٹہ بم حملہ: وکلا، صحافیوں اور سول سوسائٹی کا احتجاج

‘کوئی چاہتا ہی نہیں ہزارہ ٹارگٹ کلنگ ختم ہو

جب بھی ان کے سامنے اس سانحے کا ذکر ہوتا ہے تو وہ یہ دعا کرتی ہیں کہ ’اللہ کسی کو بھی ایسا سانحہ نہ دکھائے‘۔

’میں انسانوں اور چرند پرند سب کے لیے دعا کرتی ہوں کہ اللہ کسی کو ایسے حالات نہ دکھائے جس میں ان کے پیارے ان سے بچھڑ جائیں۔‘

عندلیب کی طرح جو لوگ اس سانحے میں زخمی ہوئے تھے وہ زیادہ تر وکیل تھے۔

اس واقعے میں زخمی ہونے کے باعث عندلیب قیصرانی کو پہلے کے مقابلے میں چلنے پھرنے میں مشکل تو پیش آتی ہے لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ ہر روز عدالت آتی ہیں اور مقدمات کی پیروی کرتی ہیں۔

آٹھ اگست کو کیا ہوا تھا؟

اس خود کش حملے میں وکلا کو نشانہ بنایا گیا جس کے حوالے سے منظم منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ پہلے ایک وکیل رہنما بلال انور کاسی کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا اور جب ان پر حملے کی خبر سن کر وکلا کی بڑی تعداد سول ہسپتال پہنچ گئی تو وہاں پہلے سے موجود ایک خود کش حملہ آور نے ان کو نشانہ بنایا۔

اس خود کش حملے میں وکلا رہنماؤں کی بھی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی تھی جن میں ایڈووکیٹ باز محمد کاکڑ بھی شامل تھے۔

جدوجہد کی علامت

سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں وکلا تحریک میں بھرپور شرکت کے باعث باز محمد کاکڑ جدوجہد کی علامت بن گئے تھے۔ باز محمد کاکڑ کی ہلاکت کے ڈھائی ماہ بعد ان کے ہاں دوسرے بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی جس کا نام شیرباز رکھ دیا گیا۔

باز محمد کاکڑ کے بچے

BBC
آریان کی طرح اس سانحے نے کئی بچوں سے ان کا سہارا چھین لیا۔

ان کے بڑے بیٹے آریان کی بھی عمر کم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ والد کی یاد آتی ہے تو وہ غمگین ہوجاتے ہیں لیکن وہ جب اپنے چھوٹے بھائی شیر باز کو دیکھتے ہیں تو اس سے والد کے بچھڑنے کا غم کسی حد تک کم ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے والد کی طرح وکیل بنیں گے۔

آریان کی طرح اس سانحے نے کئی بچوں سے ان کا سہارا چھین لیا۔

اس سانحے میں ہلاک ہونے والے وکلا میں سے اکثر کا تعلق متوسط اور غریب گھرانوں سے تھا۔

وکیل رہنما شاہ محمد جتوئی کا کہنا ہے کہ سانحہ سے متاثرہ خاندان ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔

دیگر مشکلات کے علاوہ اس سانحہ میں جان کی بازی ہارنے والے وکلا کے بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوئی۔ اگرچہ حکومت نے ہلاک ہونے والے وکلا کے بچوں کی فیسوں کی ادائیگی کا وعدہ کیا تھا لیکن وکلا رہنما اس بات پر شاکی ہیں کہ اس وعدے پر زیادہ عملدرآمد نہیں ہوا۔

عدالتی نظام بھی متاثر

اس خود کش حملے میں پڑھے لکھے افراد کی ایک بڑی تعداد کی ہلاکت کے باعث بلوچستان کے سیاسی حلقوں نے اس سانحے کو سنہ 1935 کے زلزلے کے بعد نقصان کے حوالے سے دوسرا بڑا واقعہ قرار دیا تھا۔

وکلا کی بڑی تعداد میں ہلاکت کے باعث بلوچستان میں عدالتی نظام بھی متاثر ہوا۔

ایڈووکیٹ اور انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر کہتی ہیں کہ اس سانحہ میں وکلا کی ’کریم‘ ہلاک ہوئی جس کے باعث عدالتی نظام میں ایک بڑا خلا پیدا ہوا جو کہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔

جلیلہ حیدر

BBC
جلیلہ حیدر کا کہنا ہے کہ وکلا کو جس ظلم کا نشانہ بنایا گیا اس کا ازالہ نہیں ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ وکلا کی بڑی تعداد میں ہلاکت کے باعث سائلین متاثر ہو رہے ہیں۔

جلیلہ حیدر کے مطابق اس سانحہ کے حوالے سے عدالتی کمیشن کی جو رپورٹ تھی اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سانحہ کے جو اصل ذمہ دار تھے ان کو بے نقاب کرنا اور ان کو پکڑنا ضروری تھا لیکن ایسا نہیں ہوا جس کے باعث بلوچستان میں پروفیشنلز ایک خوف میں مبتلا ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وکلا کو جس ظلم کا نشانہ بنایا گیا اس کا ازالہ نہیں ہوا۔ ’میرے خیال میں صرف پیسہ دینا کسی ظلم اور ناانصافی کا ازالہ نہیں ہوتا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ازالہ اس وقت ہوگا جب اس حوالے سے عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد ہوگا اور اس سانحے کے ذمہ داروں کو بے نقاب کرکے پکڑا جائے گا۔

تاہم سابق حکومت میں حکام نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس سانحے کے جو بھی ذمہ دار تھے وہ سکیورٹی فورسز کی کاروائیوں میں مارے گئے۔

حکام کے مطابق اس نوعیت کے واقعات میں ہلاک ہونے والے دیگر افراد کے لواحقین کے مقابلے میں سانحہ آٹھ اگست میں ہلاک ہونے والے وکلا کے لواحقین کو نہ صرف زیادہ معاوضہ دیا گیا بلکہ اس حوالے سے وکلا تنظیموں کے جو مطالبات تھے ان پر بھی زیادہ سے زیادہ عملدرآمد کیا گیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6001 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp