مخالفین دھرنے اور ہم اپنا کام کرتے رہیں گے : وزیراعظم


nawaz sharifگزشتہ روز قومی اسمبلی میں پاناما لیکس کے معاملے پر اپنے خطاب کے دوران اپوزیشن بالخصوص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمران خان کو ڈھکے چھپے لفظوں میں تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد بھی وزیراعظم نواز شریف کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا اورانھوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران بھی پی ٹی آئی چیئرمین اور ان کے ‘نئے پاکستان’ کے نعرے کو آڑے ہاتھوں لیا۔
رتہ کلاچی سٹیڈیم میں جلسے کے موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، خیبر پختونخوا کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا، وفاقی وزیر برائے ہاو¿سنگ اکرم خان درانی اور خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمن بھی موجود تھے۔
اپنے خطاب کے آغاز پر وزیراعظم نواز شریف نے ڈیرہ اسماعیل خان سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘مجھے ڈیرہ اسماعیل خان آنے کا بہت شوق تھا وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ یہاں اپنے مخالفین پر بات کرنے نہیں آئے لیکن اپنی پوری تقریر میں انھوں نے زیادہ تر پی ٹی آئی اور عمران خان کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘مخالفین کے نصیب میں دھرنے ہیں، وہ دھرنے کرتے رہیں، ہم اپنا کام کرتے رہیں گے’۔
انھوں نے شرکاءسے سوال کیا کہ کون سا نیا پاکستان بن رہا ہے؟ ساتھ ہی انھوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ‘تم خیبر پختونخوا کو تو نیا بنا نہیں سکے، نیا پاکستان کہاں سے بناو¿ گے؟’وزیراعظم کا غصہ یہاں بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور انھوں نے پی ٹی آئی چیئرمین کو خبردار کیا کہ ‘خیال کرو خیبرپختونخوا بھی تمارے ہاتھ سے نکل رہا ہے اور 2018 میں یہ بھی تمہارے پاس نہیں رہے گا’۔
انھوں نے یہیں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ پی ٹی آئی چیئرمین کو حال میں پشاور کے ضمنی الیکشن میں ہونے والی شکست بھی یاد دلا دی، جہاں مسلم لیگ (ن) کو کامیابی حاصل ہوئی تھی، وزیراعظم نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ‘آپ خیبر پختونخوا میں پشاور کا ضمنی الیکشن بھی ہار گئے ہیں اور وہاں پی ٹی آئی، چوتھے نمبر پر آئی ہے۔’
ان کا کہنا تھا کہ پشاور کے عوام جان گئے ہیں کہ یہاں کوئی نیا پاکستان نہیں بن رہا۔وزیراعظم نے اس موقع پر اپنی حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے میٹرو بس منصوبوں کو بھی حوالہ دیا اور سوال کیا کہ لاہور، اسلام آباد اور ملتان میں میٹرو بس منصوبہ بن گیا تو پشاورمیں کیوں نہیں بنا؟
اس موقع پر انھوں نے جمعیت علماءاسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کے درمیان ایک نئی پارٹنر شپ شروع ہونے جارہی ہے، جو مل کر ملک کی تقری کے لیے کام کرے گی۔ان کا کہنا تھا، ‘میں مولانا فضل الرحمن اوران کی جماعت کا بہت شکر گزار ہوں کہ وہ نواز شریف کا اصولوں پر ساتھ دے رہے ہیں’۔وزیراعظم نے کہا، مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائ اسلام (ف) مل کر ‘نیا پاکستان ‘بنائیں گے۔اپنے خطاب میں وزیراعظم نے ڈیرہ اسماعیل خان کے لیے ایک زرعی یونیورسٹی کے اعلان کے ساتھ ساتھ 50 کروڑ روپے ترقیاتی فنڈ کا بھی اعلان کیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر کا انتظار نہیں کیا جائے گا ساتھ ہی انھوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور سول ایوی ایشن کو حکام کو ہداہت کی کہ وہ اے ٹی آر کے اجراءکو جلد از جلد ممکن بنانے کے لیے کام کا آغاز کریں تاکہ اس خطے کے عوام کو ملک سے باہر سفر کے لیے سہولت ملے۔
وزیراعظم نواز شریف، مولانا فضل الرحمٰن کی ‘حمایت’ پر ان کے علاقے پر خزانے قربان کے لیے تیار نظر آئے، انھوں نے ڈیرہ کی تحصیلوں کو گیس کی فراہمی کے لیے 770 ملین (ستاسی کروڑ روپے) فنڈز ‘قربان’ کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ چشمہ بینک کنال دور رس اہمیت کا حامل منصوبہ ہے جو علاقے کی قسمت بدلنے کی صلاحیت رکھا ہے جس سے 3 لاکھ ایکڑ رقبہ سیراب ہوگا اور جس کی قیمت 120 ارپ روپے ہے،انھوں نے یہ منصوبہ بھی مولانا صاحب پر ‘قربان’ کرنے کا اعلان کیا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ انھوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو جلد از جلد اس منصوبے کی تعمیر کی ہدایات دی ہیں، جو 3 ماہ میں مکمل کیا جائے۔ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ‘نئے پاکستان’ والی حکومت نے بھی فنڈز کے لیے اپنا 35 شیئر دینا ہے جبکہ وفاقی حکومت 65 فیصد فنڈ دے گی۔آخر میں وزیراعظم نواز شریف نے ڈیرہ اسماعیل خان کو بجلی بلکہ سستی بجلی کی فراہمی اور 2018 تک لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے اعلان کو بھی دہرایا۔
اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف نے ڈیرہ اسماعیل خان میں یارک کے مقام پر 285 کلو میٹر طویل ڈیرہ اسماعیل خان ہکلہ موٹروے کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ پاک-چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کا حصہ ہے جو 2 سال میں 129 ارب روپے سے زائد لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔
اس منصوبے میں متعدد پلوں اور انٹر چینج کی تعمیر شامل ہے جس سے ملک کے کم ترقی یافتہ حصوں کو بے شمار اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔


Comments

FB Login Required - comments