غلامی سے آزادی کا سفر



24 ستمبر 1599ء میں لندن کے چند تاجروں نے آپس میں فیصلہ کیا کہ مشرقی ملکوں سے تجارت کرنی چاہیے۔اِس غرض کے لیے ایک کمپنی کی بنیاد رکھی گئی۔جس کا نام تھا ایسٹ انڈیا کمپنی۔ 21 دسمبر1600ء میں انگلستان کی ملکہ الزبتھ نے اِس کمپنی کو ہندوستان سے تجارت کرنے کی اجازت دے دی۔1612ء میں اِس کمپنی کے کچھ انگریز مغربی ساحل سے ہندوستان کے شہر سورت میں داخل ہوئے۔یہ لوگ آئے تو تجارت کی غرض سے تھے لیکن ہندوستان سونے کی چڑیا تھا۔تو یہ اِس کو لوٹنے کے خواب دیکھنے لگے۔شہزادہ پرویز کو تحائف دے کر مغل دربار میں رسائی کر لی۔جس کے بعد کچھ ساحلی شہر اِن کے حوالے کر دیے گئے۔انہوں نے اِسی کو غنیمت سمجھا اور قدم جما کر مختلف علاقوں پر قبضے شروع کر دیے۔ حتی کہ پورے بنگال پر اِن کا قبضہ ہو گیا۔

مغلیہ حکومت آپس کے انتشار کی وجہ سے کمزور ہو چکی تھی۔انہیں گوناں گوں حالات میں فوج کا ایک سپاہی اپنی صلاحیت کے بل بوتے نواب بن کر ابھرا۔ جس کو تاریخ حیدر علی کے نام سے جانتی ہے۔یہ انگریز کے باطنی ارادوں کے سامنے سدِسکندری بن کر کھڑا ہو گیا۔ انگریز نے جب حیدر علی پر پہلا حملہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ ترنوالہ نہیں ہے۔ تو انہوں نے مرہٹوں، حیدرآباد کے نواب اور والی ارکاٹ نواب علی کو ساتھ ملا کر اتحاد کر لیا۔

نواب حیدر علی انتہائی زیرک آدمی تھے۔ مختلف حیلے بہانوں سے سب کوزیر کر کے انگریزوں کے گڑھ مدراس کی طرف پیش قدمی کی۔ یہیں پر اِن سے تاریخی غلطی ہوئی جس نے ہندوستان کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔انگریز کی مکاری میں آکر اُن سے صلح کر لی۔کچھ ہی عرصہ بعد انگریزوں نے غداروں کی مدد سے پورے ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ یوں ایک آزاد قوم کو غلام بنا لیا گیا۔

اِس غلامی سے نجات کے لیے مختلف تحریکیں چلتی رہیں۔ جن میں سید احمد شہید کی تحریک سرفہرست رہی۔اِس تحریک کی بجھتی چنگاریوں سے 1857ء کی تحریک نے جنم لیا۔ یہ تحریک مرکز نا ہونے کی وجہ سے ناکام ہو گئی۔لیکن دلوں میں آزادی کا جذبہ ضرور پیدا ہو گیا۔کچھ عرصہ تو حالات قابو میں رہے۔ لیکن پھر حالات خراب ہو گئے۔ اِن حالات میں” لڑاو اور حکومت کرو” کی پالیسی کے تحت مسٹر ای او ہیوم نے تمام جماعتوں سے خط و کتابت کی۔1884ء میں پونا میں ایک جلسہ ہوا۔ اِس جلسہ میں ایک جماعت بنائی گئی۔ جس کا نام “انڈین نیشنل کانگریس” رکھا گیا۔یہ جماعت ہندووں کے مفاد کے لیے زیادہ تر کام کرتی رہی۔

30 دسمبر 1906ءمیں ایک اجلاس ہوا۔ جس کی صدارت نواب وقارالمک نے کی۔اِس اجلاس میں مسلمانوں کی ایک الگ جماعت بنانے کا اعلان کیا گیا۔جس کا نام “آل انڈیا مسلم لیگ” رکھا گیا۔ مولانا محمد علی جوہر نے اِس کا آئین مرتب کیا۔ جس کو عوام کے سمامنے پیش کیا گیا۔ درمیاں کا کچھ عرصہ دونوں جماعتوں کا اتحاد بھی ہوا۔مشترکہ اجلاس 1915ء میں الہ آباد کے مقام پر موتی لال نہرو کے گھر ہوئے۔ جس میں ہندوستان کے باشندوں کو خودمختار دی جائے کا مطالبہ کیا گیا۔ انہیں دنوں حکومت کی طرف سے ایک قانون پاس کیا گیا۔ جس کی رُوسے کیسی بھی بندے کو بنا الزام محض شک کی بنیاد پر اٹھایا جا سکتا ہے۔ جرم و سزا دونوں اٹھا لے جانے والے طے کریں گئے۔ بل کا پاس ہونا تھا کہ ہنگامے پھوٹ پڑئے۔

بیساکھی کے موقع پر 1919ء کو امرتسر میں پرامن جلسہ کے لیے لوگ اکٹھے ہوئے۔اِن نہتے لوگوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کر کے موت کے ابدی نیند سلا دیا گیا۔یہ واقعہ جلیانوالہ باغ میں پیش آیا۔ یہی انگریز کے زوال کی پہلی اینٹ ثابت ہوا۔ 1928ء میں ہندووں کی طرف سے ایک رپورٹ پیش کی گِی۔ جس کے مقابلہ میں محمد علی جناح نے چودہ نکات پیش کیے۔ یہاں سے دو قومی نظریہ کی ابتدا ہوئی.21 مارچ 1940ء کو نماز جمعہ کے بعد منٹو پارک لاہور میں ایک جلسہ ہوا۔ جس میں ایک لاکھ سے زائد آزادی کے متوالے مسلمانوں نے شرکت کی۔ اِس کے دو دن بعد 23 مارچ کو ایک قرارداد پیش کی گی۔ جس کو قرارداد پاکستان کہتے ہیں۔

حوالگی اقتدار میں جب خُردبرد ہونے لگی تو مسلم لیگ نے 16 اگست 1946ء کو راست اقدام کا فیصلہ کیا۔ جس کے تحت “انگریز کے دیے گئے خطابات اور اعزازات بطور احتجاج واپس کر دیے گئے۔”آخر کار برطانیہ نے لارڈ ماونٹ بیٹن کو بھیجا۔جس نے تقسیم کے لیے ہندوں کے طرف سے دیے گئے لالچ میں ایک چال چلی۔ جس کو ریڈ کلف ایوارڈ کے حصول کا نام دیا گیا۔ 3جون 1947ء کی شام ماونٹ نے آل انڈیا ریڈیو سے ملک کو تقسیم کرنے کا اعلان کیا۔

یوں رمضان کی بابرکت ساعتوں میں ستائیسویں شب ہندوستان کا بٹوارا ہو گیا۔دنیا کے نقشہ پر ایک اور ملک ابھرا جس کو پاکستان کہتے ہیں۔یہ ایک نظریاتی اسلامی ریاست ہے۔جس کی بنیاد و اساس کلمہ طیبہ پر رکھی گئی۔ جس کا نعرہ “پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الّا اللہ” تھا۔ ۔۔ دنیا میں دو ہی ریاستیں کلمہ کے نام پر بنی ہیں ۔ ۔ ۔ ایک مدینہ،دوسری پاکستان۔

اللہ نے اِس خطہ زمیں کو ہر طرح کی سہولیات و قدرتی ذخائر سے سرفراز فرمایا ہے۔سمندر، دریا، ندی نالے، چشمے آبشاریں،سرسبز میدان، چٹیل میدان برف پوش پہاڑ،نرم و گرم صحرا ،قدرتی آبی بندرگاہ، ایٹمی طاقت، دنیا کی چھٹی بہترین فوج الغرض کیا کچھ نہیں ہے جو یہاں موجود نہیں ہے۔ آج ضرورت اِس امرکی ہے کہ ہم اپنا مقام و مرتبہ پہچانیں۔ جس مقصد کے لیے ہم نے یہ ملک حاصل کیا تھا، اُس مقصد کو زندگی میں شامل کریں۔ میری ذات بدلے گی تو ملک کا زرا زرا بدلے گا۔ یہ وقت آپس کی کھینچا تانی کا نہیں۔ بلکہ دشمن کی سازشوں کو سمجھنے اور اُن کے سدباب کرنے کا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

طیب طاہر کی دیگر تحریریں
طیب طاہر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں