کامیابی کے نوٹیفیکیشن رک گئے۔۔۔ مگر کون سے اور کیوں؟


7 اگست کی شام چار بجے کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات 2018 میں کامیابی سمیٹنے والے امیدواروں کی جیت کے نوٹیفیکیشنز کیا جاری ہوئے۔ مختلف ٹی وی چینلز زلزلے کی زد میں آگئے اور اس زلزلے کے آفٹر شاکس رات گئے ٹی وی چینلز کے پرائم ٹائم شوز میں بھی محسوس کیے گئے۔

حلقہ عام کے عنوان سے لکھی گئی میری تحریریں عام لوگوں کی اس کنفیوژن کو دور کرنے کے لئے ہوتی ہیں جو ایک وقت میں مخلتف ٹی وی چینلز دیکھنے والے اور مختلف نیوز ویب سائٹس پڑھنے عام ناظرین، سامعین اور قارئین کے ذہنوں میں پیدا ہوتی ہیں۔

25 جولائی کو قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے 849 میں سے 840 حلقوں میں انتخابات ہوئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے آج ان 840 حلقوں میں سے 815 حلقوں کے کامیابی کے نوٹیفیکیشن جاری جبکہ 25 حلقوں کے نوٹیفیکیشن روک لئے ہیں۔ جن میں قومی اسمبلی کے 9 جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے 16 حلقے شامل ہیں۔ ان 16 حلقوں میں پنجاب اسمبلی کے 5، خیبر پختنونخوا اسمبلی کے 3، سندھ اسمبلی کے 5، جبکہ بلوچستان اسمبلی کے 3 حلقے شامل ہیں۔ قومی اسمبلی کے 5 حلقوں میں امیدواروں کی کامیابی کے مشروط نوٹیفیکیشن جاریکیے گئے ہیں یعنی امیدوار اپنا حلف اٹھا سکتے ہیں اور اس میں کوئی آئینی رکاوٹ نہیں۔

ان 5 حلقوں میں عمران خان کے تین یعنی بنوں، میانوالی اور کراچی کے حلقے شامل ہیں۔ باقی دو حلقوں میں ایاز صادق لاہور اور پرویز خٹک نوشہرہ کے حلقے شامل ہیں۔ ان پانچ حلقوں کے نوٹیفیکیشن کو مشروط طور پر جاری کرنے کی وجہ تینوں رہنماؤں کی جلسوں میں غیر مہذب زبان کا استعمال ہے۔

عمران خان کے اسلم آباد والے حلقے کا نوٹیفییکیشن، الیکشن کمیشن میں اوپن بیلٹ کیس کی سماعت باعث روکا گیا ہے۔ عمران خان کے لاہوار والے حلقے کا نوٹیفیکیشن، خواجہ سعد رفیق کی لاہور ہائی کورٹ میں درخواست کے باعث روکا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کے جن 9 حلقوں کے نوٹیفیکیشن روکے گئے ہیں ان میں۔
این اے 53 اسلام آباد سے پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان نے 92 ہزار 811 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ ان کے مدمقابل نواز لیگ کے شاہد خاقان عباسی نے 44 ہزار 314 ووٹ حاص؛ کیے۔ عمران خان کی جانب سے ووٹ ڈالتے ہوئے بیلٹ سیکریسی کو متاثر کرنے پر الیکشن کمیشن کے نوٹس اور پھر کیس کی سماعت جاری ہونے کے باعث، اس حلقے سے عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن روکا گیا۔

این اے 90 سرگودھا سے مسلم لیگ نواز کے چوہدری حامد حمید 93 ہزار 948 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کی نادیہ عزیز نے 85 ہزار 220 ووٹ حاص لکیے۔ چاوہدری حامد حمید کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن، نادیہ عزیز کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے روکنے کا حکم جاری کیا۔

این اے 91 سرگودھا سے مسلم لیگ نواز کے ذولفقار بھٹی ایک لاکھ 10 ہزار 525 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے عامر چیمہ نے ایک لاکھ 10 ہزار 246 ووٹ حاصل کیے۔ ذولفقار بھٹی کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن، عامر چیمہ کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے روکنے کا حکم جاری کیا۔

این اے 108 فیصل آباد سے پاکستان تحریک انصاف کے فرخ حبیب ایک لاکھ 12 ہزار 740 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ ان کے مدمقابل نواز لیگ کے عابد شیر علی نے ایک لاکھ 11 ہزار 529 ووٹ حاصل کیے۔ فرخ حبیب کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن عابد شیر علی کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔

این اے 112 ٹوبہ ٹیک سنگھ سے نواز لیگ کے جنید انوار چوہدری ایک لاکھ 25 ہزار 303 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے محمد اشفاق نے ایک لاکھ 21 ہزار 31 ووٹ حاصل کیے۔ جنید انوار کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن، محمد اشفاق کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے روکنے کاحکم جاری کیا۔

این اے 131 لاہور سے تحریک انصاف کے عمران خان 84 ہزار 313 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ ان کے مدمقابل نواز لیگ کے خواجہ سعد رفیق نے 83 ہزار 633 ووٹ حاصل کیے۔ عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن، سعد رفیق کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے روکنے کا حکم جاری کیا۔

این اے 140 قصور سے تحریک انصاف کے سردار طالب نکئی ایک لاکھ 24 ہزار 621 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ ان کے مدمقابل نواز لیگ کے رانا حیات نے ایک لاکھ 24 ہزار 385 ووٹ حاصل کیے۔ سردار طالب نکئی کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن، رانا حیات کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے روکنے کا حکم جاری کیا۔

این اے 215 سانگھڑ سے پیپلز پارٹی کے نوید ڈیرو 77 ہزار 812 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ ان کے مدمقابل جی ڈی اے کے حاجی خدا بخش نے 77 ہزار 227 ووٹ حاصل کیے۔ نوید نوڈیرو کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن، حاجی خدا بخش کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے روکنے کا حکم جاری کیا۔

این اے 271 سے بلوچسان عوامی پارٹی کی زبیدہ جلال 33 ہزار 456 ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں۔ ان کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن، انتخابی اخراجات کی تفصیل ابھی تک جمع نہ کرانے کے باعث روکا گیا۔

ہوں ان 9 حلقوں میں سے 4 نوٹیفیکیشن تحریک انصاف کے کامیاب امیدواروں، 3 نوٹیفیکیشن نواز لیگ کے کامیاب امیدواروں، 1 نوٹیفیکیشن پیپلز پارٹی کے کامیاب امیدوار جبکہ 1 نوٹیفیکیشن بلوچستان عوامی پارٹی کی امیدوار کا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے 4 روکے جانے والے نوٹیفیکیشن میں سے 2 نوٹیفیکیشن عمران خان کے اضافی حلقوں کے ہیں یعنی ان کے روکے جانے سے قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے ووٹوں کی گنتی پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا کیونکہ عمران خان کی جیتی گئی 5 نشستوں میں سے ووٹنگ کے وقت ایک نشست ہی گنی جانی تھی۔

ان 9 حلقوں کے نوٹیفیکیشن کے روکے جانے اور عمران خان، پرویز الہی، غلام سرور خان اور طاہر صادق کی جانب سے اضافی نشستیں چھوڑے جانے کا مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

ہوں تحریک انصاف کو 116، نواز لیگ کو 64 اور پیپلز پارٹی کو 43 عمومی نشستوں کے تناسب ہی سے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں گی۔

شام چار بجے سے سات بجے تک“ مخصوص“ ٹی وی چینلز کے بلیٹنز اور شام سات سے بارہ بجے کے دوران پرائم ٹائم ٹاک شوز میں نوٹیفیکیشنز کے حوالے سے جو“ قیامت صغری، ، برپا رہی۔ اس کو میرے عام قارئین، سامعین اور ناظرین نے بالکل بھی سیریس نہیں لینا۔ یہ ہم ٹی وی چینلز والوں کی مجبوری تھی۔ کیونکہ“مال، ، ہوگا تو سودا بکے گا نا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں