سندھ نے وڈیروں کو ووٹ نہیں دیا


یہ بات کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ سندھ کے لوگوں نے اس مرتبہ کسی وڈیرے کو ووٹ نہیں دیا، بلکہ اس سیکولر سوچ کو دیا، جو کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس خطے، خاص طور پر سندھ کے لیے بہتر ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ اس الیکشن میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے پلیٹ فارم سے بھی وڈیرے ہی امیدوار تھے، جن کا اپنے حلقوں میں بہت گہرا اثر رسوخ تھا، مگر لوگوں نے ان سب کو مسترد کرکے پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا، جو کہ 2013 کے الیکشن کی نسبت 05 زیادہ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

اس سے پہلے سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کچھ حلقوں میں مخالفت ہوتی رہی ہے اور اسی مخالفت کی بنیاد پر گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس وجود میں آئی، جس کے لیے کہا جا رہا تھا کہ یہ الائنس سندھ میں پیپلز پارٹی کا متبادل ثابت ہو گی اور سندھ میں ایک عرصے سے اس بات پر بحث ہو تی رہی کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کا بار بار الیکشن جیت کر اقتدار میں آنے کا سب سے بڑا سبب اس کا سندھ میں کوئی متبادل کا نہ ہونا ہے۔ چنانچہ حالیہ الیکشن سے قبل گرینڈ ڈ یموکریٹک الائنس کا اس دعویٰ کے ساتھ وجود میں آنا، کہ، وہ پیپلز پارٹی کا متبادل ہے اور اقتدار میں آنے کے بعد پیپلز پارٹی سے بہتر حکومت کریں گے، اس تاثر کی رد کردیا کہ پیپلز پارٹی اس وجہ سے الیکشن میں کامیاب ہوتی ہے کہ ان کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

گرینڈ ڈ یموکریٹک الائنس نے اپنی تمام تر الیکشن مہم اس بنیاد پر چلائی کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے بہت ہی خراب حکمرانی کی ہے، جس نے سندھ کے اداروں کو تباہ کیا ہے، تعلیم اور صحت کے شعبے میں ان کی کارکردگی تباہ کن رہی ہے اور ان کی قیادت کرپشن میں ڈ وبی ہوئی ہے۔ جی ڈ ی اے کے کچھ رہنما اپنی تقاریر میں بیوروکریسی اور افسرشاہی کو بھی للکارتے دکھائی دیے اور ان کو بانور کرواتے رہے کہ اگلی حکومت ان کی ہ، اس لیے بیوروکیسی کسی کو بھی فیور دینے کی کوشش نہ کرے۔

اسی مہم کے دوران گرینڈ ڈ یموکریٹک الائنس کے کچھ امیدواروں کی جانب سے خواتین کے لیے نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے گئے اور سندھ کے لوگ جن کرداروں کو امر سمجھتے ہیں ان کے بارے میں بھی وہ سب کہا گیا جو ایک عام سندھی ان کے بارے میں سننا قطعاً پسند نہیں کرتا۔ جس میں سب سے بڑھ کر فاضل راہو کے بارے میں ایسی باتیں کی گئیں جو کہ سندھ کے کسانوں اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے برداشت کرنا مشکل تھا۔ کیونکہ فاضل راہو نے ان کے حقوق کی جدوجہد کی تھی اور اسی جدوجہد کے نتیجے میں ان کو شہید کردیا گیا تھا۔ لہٰذا تھرپارکر، بدین، ٹنڈ و محمد خان اور ٹھٹہ بیلٹ میں جی ڈ ی اے کی منفی پروپیگنڈ ہ اور الزامات کی وجہ سے لوگوں نے ان کو مسترد کردیا اور پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا۔

دوسری جانب ووٹر اپنے طریقے سے بدلتی صورتحال کا جائزہ اور موازنہ کر رہے تھے کہ ان کے لیے پیپلز پارٹی بہتر ہے یا گرینڈ ڈ یموکریٹک الائنس؟ ان کے جائزہ سے یہ بات سامنے آئی کہ گرینڈ ڈ یموکریٹک الائنس میں زیادہ تر وہ ہی وڈیرے شامل ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ مشرف گورنمنٹ سے رہا ہے۔ مثلاً ارباب غلام رحیم، لیاقت جتوئی اور ق لیگ میں شامل دیگر وڈیرے۔ کیونکہ سندھ کے لوگوں میں ایک تو احساسِ محرومی ہمیشہ رہی ہے، کہ، پاکستان میں طاقتور طبقات نے ہمیشہ ان کا استحصال کیا ہے، جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی ان قوتوں سے ہمیشہ حالتِ جنگ میں رہی ہے، جس کا ان کو ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی شہادتوں کی شکل میں خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ووٹرز کو منظم کرنے میں پارٹی قیادت اور الیکشن مہم کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ مثلاَ سینٹ کے الیکشن کے دوران پارٹی نے سندھ کے بہت ہی پسماندہ علاقے، تھرپارکر سے شیڈول کاسٹ کولھی کمیونٹی سے کرشنا کولھی کو پاکستان کے سب سے اعلیٰ ایوان سینٹ تک پہنچایا، پورے الیکشن مہم میں پارٹی قیادت کی طرف سے کوئی نازیبہ گفتگو سُننے کو نہیں ملی، جن سے لوگوں میں مثبت سوچ کا اضافہ ہوا۔

بلاول کا غیر مسلمین کی تقریبات میں جانا اور ان کے جشن میں شامل ہونا بھی لوگوں پر بہت ہی گہرا اثر چھوڑ گیا۔ کیوں کہ سندھ میں بسنے والے ہندو اور مسلمان صدیوں سے تہذیب اور ثقافت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوئیں۔ وہ سندھ میں ایک دوسرے کے تہواروں میں جاتے ہیں اور جشن مناتے ہیں، تو بلاول کے اس عمل نے ان کو یکجا کیا اور بکھرتی سوچوں کو ایک سمت دی، جس کی پیپلز پارٹی کو نہ صرف ہندو کمیونٹی بلکہ مسلمانوں میں بھی پذیرائی ملی۔

اس کے ساتھ حکومتِ سندھ کی کلچر اینڈ ٹورازم وزارت نے بھی بہت ہی قلیدی کردار ادا کیا۔ اس منسٹری کی جانب سے جہاں ہر طرح کے دن منائے گئے وہاں بغیر کسی مت بھید کے ان تمام تاریخی اور مذہبی عمارات کی مرمت کی گئی، جن کا تعلق خواہ ہندو مذہب سے تھا یا اسلام سے۔

اس لیے الیکشن میں سندھ کے لوگوں نے ان تمام قوتوں کو رد کیا، جو کہ یہ سمجھ رہی تھیں کہ وہ پ پ پ کا متبادل ہے، اور اپنی مذہبی رواداری کو برقرار رکھتے ہوئے سندھ میں دو صوبائی اور ایک قومی سیٹ پر پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہندوؤ ں کا انتخاب کیا، یہ تینوں ہندو وہاں سے جیتے ہیں جہاں پر مسلم ووٹرز کی اکثریت ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے مدِ مقابل تینوں امیدواران مسلم تھے۔

اس سے بڑھ کر پاکستان پیپلز پارٹی نے اس الیکشن کے بعد خواتین کی مخصوص سیٹوں پر ایم پی اے کے لیے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سندھ کے ماتلی شہر سے بہت ہی غریب شیدی (ساؤتھ افریقی قبیلے) سے تنزیلہ شیدی کا انتخاب کیا ہے۔

ہمارے دوست اشفاق لغاری لکھتے ہیں کہ تنزیلہ کا تعلق افریقہ کے اس قبیلے سے ہے، جہاں وہ آج بھی اپنے گم شدہ پاؤں کے نشانات ڈھونڈھتی ہیں، اسی وجہ سے ان کے والد نے اپنی دو بیٹیوں کی شادی افریقہ کے دو ممالک گھانا اور تنزانیہ میں کروائی۔

یہ وہ اسباب ہیں جو سندھ میں پیپلز پارٹی کی جڑیں مضبوط کیے ہوئے ہیں اور لوگوں میں ایک تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ یہ جماعت لوگوں کو نہ صرف ثقافتی، مذہبی اور سماجی طور پر جوڑے ہوئے ہے بلکہ ایسے لوگوں کو بھی مواقع فراہم کر رہی ہے جو بہت ہی پسماندہ علاقوں اور محروم اور غریب طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ وہ عوامل اور سوچ ہی ہے جس نے سندھ میں پیپلز پارٹی کو پذیرائی دی ہے اور ووٹ کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ وہ اس سیکولر سوچ کے ساتھ ہیں جو کہ دیگر مذاہب کا احترام کرتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

حیدر سمیجو کی دیگر تحریریں
حیدر سمیجو کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں