روتھ، ہمیں تم سے پیار ہے


ڈاکٹر روتھ فاؤ کو ہم سے جدا ہوئے ایک سال گزر گیا۔ وہ شخصیت جو اس ملک کے لوگوں کے لئے مسیحا بن کر آئی، ان کے درد کو اپنے دل کے اندر محسوس کیا، اس درد کا درمان کیا اور عظمت کا استعارہ بن کر آسمانوں میں واپس لوٹ گئی۔

ڈاکٹر روتھ کی پیدائش 9 ستمبر 1929 کو جرمنی میں ہوئی، جب وہ صرف دس برس کی تھی، تو دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہوچکا تھا، اور اس نے اپنا پورا بچپن جنگ کی تباہ کاریوں کو اپنے سامنے دیکھ کر گذارا، شاید یہی وجہ ہوگی جس نے اس کے دل میں انسانیت کی خدمت کی عظیم خواہش پیدا کی۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر جب جرمنی دو حصوں میں تقسیم ہوگیا تو روتھ مشرقی جرمنی سے مغربی جرمنی چلی گئی، جہاں اس نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد دکھی انسانیت کی خدمت کی خاطر ایک کیتھولک مشنری تنظیم ’ڈاٹر آف دی ہارٹ آف دی میری‘ میں شمولیت اختیار کی۔ اسی مقصد کی تکمیل کی خاطر 1960 میں ان کو مشن کی جانب سے انڈیا جانے کے لئے نامزد کیا گیا، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور ویزے کے مسائل کی وجہ سے ڈاکٹر روتھ کو کراچی میں رکنا پڑ گیا۔ اسی دوران انہیں کراچی میں جذام سے متاثرہ مریضوں کی ایک بستی میں جانے کا موقع ملا اور یہی وہ جگھ تھی، جس کا منظر دیکھ کر اس نے اپنی زندگی کا ایک اہم فیصلہ کیا اور بھارت کی بجائے پاکستان میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔

یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں جذام کے مرض کے بارے میں کوئی آگاہی نہیں تھی اور لوگ اسے خدائی عذاب سمجھ کر دور بھاگتے۔ کوڑھ کے مریضوں کو لاعلاج سمجھ کر، آبادیوں سے دور، الگ کرکے کوڑہی احاطوں میں رکھا جاتا تھا، جہاں پر ان کی زندگی کسی جہنم سے کم نہیں تھی۔ لیکن ڈاکٹر روتھ نے اس چیلنج کو قبول کیا، 1961 میں انڈیا جاکر، جذام کے مرض پر قابو پانے کی خصوصی تربیت حاصل کی اور کراچی واپس آکر اپنے کام کا آغاز کر دیا۔ مقصد بڑا اور ارادے بلند تھے، لہٰذا مشکلیں آساں ہوتی گئیں اور آہستہ آہستہ انہوں نے جذام پر کنٹرول کرنے کا پروگرام پورے ملک میں پھیلا دیا اور بالآخر 1996 میں ان کی کاوشوں کی بدولت پاکستان، پورے ایشیا میں پہلا ایسا ملک قرار پایا، جہاں جذام پر مکمل قابو پایا جاچکا تھا۔

ڈاکٹر روتھ نے اپنی زندگی کے بہت سارے خوبصورت پل ہمارے نام کردیے، ایک ایسی جرمن لڑکی جو محض ایک اتفاق کے نتیجے میں پاکستان پہنچی اور یہاں پر جذام کے مریضوں کی حالتِ زار دیکھ کر یہیں کی ہوکر رہ گئی۔ اس نے اپنی ذاتی زندگی کی محبت پر ان پاکستانی مریضوں کے ساتھ رومانس کو ترجیح دی، جن کے جسموں سے جب گوشت لٹک کر گلنا شروع ہوتا تو خود ان کے اپنے سگے بھی قریب آنے سے کتراتے٬ لیکن روتھ ان کو اپنے گلے سے لگاتی رہی اور اپنی زندگی کے پورے 57 سال ان کے نام کردیے!

10اگست 2017 کو اس عظیم ہستی کا انتقال ہوا تو پورا ملک سوگوار ہوگیا، ان کی تدفین کی رسومات کراچی میں ادا کی گئیں، ان کو مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ 19توپوں کی سلامی دی گئی اور ان کے تابوت کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا گیا۔

اس دوران بعض حلقوں کی جانب سے ان کے غیر مسلم ہونے پر عجیب قسم کا رد عمل سامنے آیا اور یہ بحث چل نکلی کہ ڈاکٹر روتھ جنت میں جائے گی یا دوزخ میں؟ کچھ لوگوں کا استدلال تھا کہ جنت پر صرف مسلمانوں کا حق ہے اور غیر مسلم چاہے جتنے بھی اچھے کام کرے، لیکن جنت میں نہیں جا سکتا، البتہ مسلمان نے جتنے بھی گناہ کیے ہوں، اپنے گناہوں کی سزا کاٹ کر ایک نہ ایک دن جنت میں ضرور جائے گا!

شمس تبریزی نے کہا تھا کہ ”جنت اور جہنم کی تلاش مستقبل میں مت کرو، دونوں حال میں موجود ہوتے ہیں۔ “ وہ روتھ فاؤ جس نے اس ملک کے کوڑہیوں کے جہنم کو جنت میں بدل دیا، اس کو ہم سلام پیش کرتے ہیں اور یہ اقرار کرتے ہیں کہ: ”روتھ ہمیں تم سے پیار ہے۔ “ اگر میرا بس چلے تو آسمان میں ایک ستارے کا نام روتھ رکھ دوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں