ووٹ، دھماکہ اور خواب دیکھنے والی آنکھیں


آج صبح جب آنکھ کھلی تو سر بہت بھاری ہورہا تھا. شاید پچھلی رات کے بخار نے ابھی تک پیچھا نہیں چھوڑا تھا جس کی وجہ سے سارا جسم بوجھل ہورہا تھا۔ فجر کی نماز ادا کرکے اماں سے ایک کپ چائے کا کہہ کر واپس اپنے بستر پر لیٹ گیا۔ اسی اثناء میں میری آنکھ لگ گئی۔۔۔
“اٹھ جاو شکور ! چائے پی کے دوا کھا لینا ۔کل رات سے تم سست سے لگ رہے ہو۔’اماں نے شکور کو آواز دیا اور چائے رکھ کر کمرے سے باہر اگئی۔
نیند سے آنکھ کھلنے پہ کچھ دیر تک میں گم سم بنا بیٹھا رہا۔ایک خواب نے آنکھوں کو خیرہ کردیا تھا۔میرے پورے جسم میں احساس ترنم سا بھر گیا تھا۔ذہن کا کینوس بالکل صاف ہوچکا تھا اور نئے رنگ بھرے جانے کے لئے بے تاب تھا۔دماغ کے کمپیوٹر نے تو شاید نئے خوابوں کی کمپوزنگ بھی شروع کردی تھی۔میں زیر لب اپنے روشن خواب پہ مسکرادیا۔پر اس خواب نے جیسے امیدوں کے دیپ روشن کردئے تھے۔میں خود کو بڑا ہلکا محسوس کر رہا تھا کیونکہ زندگی نے وقت کی لگام میرے ہاتھ پر رکھ کے کہا کہ جاو اپنی قسمت کو سنوارنے کا سامان کرو۔ اسی سرشاری کے عالم میں میں نے چائے پی اور پانی کے ساتھ دوا بھی حلق میں اتار لیا۔ آٹھ بجنے میں کچھ ہی دیر تھی۔ میں نے آج دکان بند رکھنے کا ارادہ کیا اور تیار ہوکے اماں کے کمرے میں جا پہنچا ۔
اماں منہ پہ چادر ڈالے سو رہی تھی ۔میں نے بڑی لاڈ سے اماں سے کہا۔
” اماں!تو کیا نہیں چلے گی ووٹ ڈالنے میرے ساتھ؟”
“نہیں میں نے کوئی ووٹ نہیں ڈالنا اور تو بھی مت جا-“اماں نے بےفکری سے مجھ سے کہا۔
” اماں یہ کیا بات ہوئی ۔ کیوں نہیں جانا۔ یہ تو ہمارا قومی فرض ہے کہ ہم اپنا حق استعمال کریں ۔ چل اٹھ میں لے کے چلتا ہوں-“میں نے اماں سے ضد کی۔
” کہہ دیا نہ میں نہیں جاتی تجھ کو جانا ہے تو جا۔لیکن سن لے تیرے ایک ووٹ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور نہ ہی نظام بدلنے والا ہے ۔ہم جیسے پیدا ہوئے ہیں ویسے ہی مر جائیں گے ۔”اماں کافی جذباتی ہوگئی تو میں نے وہاں سے اکیلے نکل جانے میں آفیت جانی۔
میں نے اپنا شناختی کارڈ سنبھالا اور حلقہ اور پولنگ اسٹیشن کا نام ایک الگ کاغذ پہ لکھ لیا اور اماں کو الوداع کہہ کے پولنگ اسٹیشن پہنچ گیا۔
پولنگ اسٹیشن پر خاصہ رش نظر آیا ۔وافر تعداد میں لوگ گھروں سے نکل آئے تھے اور یہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہورہا تھا۔ میں بھی اس الیکشن میں پہلی دفعہ اپنا ووٹ ڈالنے جارہا تھا اور خود میں کافی بے چینی محسوس کر رہا تھا۔ سیاسی کیمپوں کی قطار پولنگ اسٹیشن سے کافی فاصلے پہ نسب کی گئی تھی ۔ لوگ قطاریں بنا کر اپنا ووٹنگ کارڈ بنوانے میں مصروف تھے۔ موبائل فون لےجانے پر پابندی ہونے کے باعث لوگوں کو پریشانی کا سامنا تھا اور لسٹ بننے میں تاخیر ہورہی تھی ۔ میں نے بھی اپنی باری آنے تک صبر کا دامن تھام کے رکھا۔ اسی دوران قطار میں کھڑے لوگوں سے کفتگو شنید بھی ہوتی رہی۔ بلوچستان کا یہ جذبہ قابل دید تھا۔ ایک میں ہی نہیں بلکہ مجھ جیسے کتنے ہی نوجوان نسل اپنے مستقبل کا خواب سچ ہوتا دیکھ رہے تھے جہاں ان کے آنگن میں امن کے پھول اور محبت کے نغمے گونج رہے تھے۔ میں بھی ان کے باغ میں پھول چننے لگا کہ کسی کی آواز نے مجھے پھر سے پولنگ بوتھ پہچادیا۔
“نام کیا ہے اور شناختی کارڈ نمبر بتاو؟” ایجنٹ نے پوچھا اور ساری تفصیل مجھے فراہم کردی۔
سارا کا سارا روڈ لوگوں سے بھرا پڑا تھا اور ووٹرز کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی۔ اپنی بوریت کو غلط کرنے کے لئے میں ایک دفعہ پھر اپنے ادرگرد قطار میں کھڑے لوگوں سے بات چیت میں لگ گیا۔ سب بڑے پر عزم اور جذبات سے سرشار تھے۔ ہم نے ملکی نظام سے لے کر تبدیلی کے سارے تقاضوں پر بات کی اور ووٹ کی حرمت کو خراج پیش کیا۔
اسی اثناء میں پولیس کے سائرن کی آواز آئی ۔ابھی ہم نے تشکر ہی کیا تھا کہ ڈی آئ جی مزید نفری کےساتھ آن پہنچے ہیں کہ ایک زور دار آواز نے کان کے پردے پھاڑ دئے۔
دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ہر طرف دھواں ہی دھواں اور آگ کے شعلے اور بارود کی بو نے دماغ ماوف کردیا۔ میں گھبرا کر ادھر ادھر بھاگنے لگا۔ لوگ چیخ رہے تھے تڑپ رہے تھے مدد کو پکار رہے تھے۔ ٹکڑوں میں بکھرے لاشوں نے میرے ضبط کو توڑ ڈالا۔ ہر طرف خون اور کرب کا عالم تھا۔ لوگ کے اعضاء بکھرے پڑے تھے۔لوگ اپنے عزیزوں کو پکار رہے تھے۔مدد کو بلا رہے تھے۔کوئی رو رہا تھا کوئی سال رہا تھا تو کوئی آخری سانس گن رہا تھا۔میں وحشت میں دوڑ رہا تھا۔بھاگتے بھاگتے مجھے ایک زوردار ٹھوکر لگی اور میں منہ کے بل زمین پہ گر گیا۔ میں نے جیسےسر اٹھایا تو میری نظر کسی کے آدھ کھلی آنکھوں پہ پڑی جس کے جسم سے روح تو نکل چکی تھی پر آنکھوں میں جلتے خوابوں کے دیپ بجھانا بھول گئی تھی۔ اس کے پتلیوں میں ایک ایسے پاکستان کا خواب زندہ تھا جس میں مساوی حقوق نے رائج ہونا تھا۔جہاں امن عدل اور خوشحالی کا راج ہونا تھا۔ ابھی اس نے جینا تھا۔ہسنا تھا اور بسنا تھا۔ ابھی تو نئے امنگوں نے پنپنا تھا۔شور مچانا تھا۔ ستاروں پر کمند باندھنا تھا۔
مگر شکور سکتے میں آچکا تھا کیونکہ وہ آنکھیں شکور کی تھیں جو بم دھماکے میں بھی بند نہیں ہوئی تھی ۔ اس کا وجود بے جاں پڑا تھا پر اس کی آنکھیں اب بھی نئے خواب کے لئے جاگ رہی تھیں ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں